جزیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

جزیہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

جزیہ ایک ٹیکس ہے جسے اہل کتاب ذمیوں سے ان کی حفاظت و ذمہ داری کے عوض وصول کیا جاتا ہے۔ 

(السیاسۃ الشرعیۃ: ابن تیمیہ: صفحہ 113، 114۔ المعاہدات فی الشریعۃ: دیکھئے الدیک: ص 313)

اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد خراج ہے جسے کفار کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے ان پر فرض کیا جاتا ہے۔ 

(اہل الذمۃ فی الحضارۃ الاسلامیۃ: حسن المِمّی: صفحہ 39)

 اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوۡلُهٗ وَلَا يَدِيۡنُوۡنَ دِيۡنَ الۡحَـقِّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ حَتّٰى يُعۡطُوا الۡجِزۡيَةَ عَنۡ يَّدٍ وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة: آیت 29)

ترجمہ: ’’لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔‘‘

جزیہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا جائے گا، یہ ایک متفق علیہ حکم ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، اور یہی حکم ان لوگوں کا بھی ہے جو اہل کتاب سے ملتے جلتے ہیں، یعنی مجوسی لوگ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شروع شروع میں مجوسیوں سے جزیہ لینے کے بارے میں متردد تھے، لیکن حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل سے آگاہ کر کے کہ آپ نے ’’ہجر‘‘ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا ہے اور آپؓ کے تردد کو ختم کر دیا۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 235)

چنانچہ ابن ابی شیبہ وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمرؓ قبر نبوی اور منبر رسولﷺ کے درمیان کھڑے تھے تو حضرت عمرؓ نے کہا: سمجھ میں نہیں آتا کہ مجوسیوں کے ساتھ کیا کروں؟ وہ اہل کتاب نہیں ہیں، تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: 

 سُنُّوْا بِہِمْ سُنَّۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 235۔ نقلًا عن: مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 1 صفحہ 141)

’’ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا برتاؤ کرو۔‘‘

اور دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ سیدنا عمرؓ مجوسیوں سے جزیہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے، لیکن جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے ’’ہجر‘‘ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا ہے تو آپ نے ان پر جزیہ لاگو کیا۔ 

(صحیح البخاری: الجزیہ والموادعۃ: حدیث 3156، 3157) 

علماء نے مجوسیوں سے جزیہ لینے کی علت یہ بتائی ہے کہ حقیقت میں وہ بھی اہل کتاب ہیں، بعد میں ان میں بگاڑ آیا کہ انہوں نے آگ کی پرستش شروع کر دی، یہ واضح ہو جانے کے بعد آپؓ نے عراق والوں سے جزیہ لینا شروع کیا، نیز فارس کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا، اور جزء بن معاویہ کو خط لکھا کہ تمہارے زیر انتظام جو مجوسی بستے ہیں ان کو دیکھو اور ان سے جزیہ لو، اس لیے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ’’ہجر‘‘ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا ہے۔ 

(صحیح البخاری: الجزیہ والموادعۃ: حدیث 3157)

جزیہ آزاد اور عاقل و بالغ مردوں پر واجب ہے، عورتوں، بچوں اور غلاموں پر واجب نہیں ہے، اس لیے کہ وہ ذریت اور ماتحتوں میں سے ہیں، اسی طرح اس مسکین سے جزیہ نہیں لیا جائے گا جو دوسروں کے ٹکڑوں پر اپنی زندگی گزارتا ہو اور اسی طرح اپاہج سے بھی جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ ہاں اگر اپاہج اور معذور کشادہ دست اور صاحب مال ہوں تو ان دونوں سے لیا جائے گا۔

مذکورہ لوگوں کی طرح اندھے اور گرجا گھروں میں رہبانیت کی زندگی گزارنے والے افراد بھی وسعت والے ہیں، تو ان سے جزیہ لیا جائے گا اور اگر یہ لوگ مسکین ہوں تو کشادہ دست لوگ صدقہ و خیرات کے ذریعہ سے تعاون کریں گے اور ان سے جزیہ معاف ہو گا۔ 

(أہل الذمۃ فی الحضارۃ الإسلامیۃ: صفحہ 42)

موت کے ذریعہ سے جزیہ کا حکم ساقط ہو جاتا ہے، پس اگر ایسا آدمی وفات پا جائے جس پر جزیہ کی ادائیگی واجب تھی تو اس سے جزیہ معاف ہو جائے گا، اس لیے کہ جزیہ کا حکم زندوں کے لیے ہے، اور جب زندگی نہ رہی تو اس پر واجبی حکم بھی ساقط ہو گیا۔

 اسلام بھی جزیہ ساقط کرنے کا ایک سبب ہے۔ پس اگر ایسا آدمی اسلام لے آئے جس پر جزیہ دینا واجب تھا تو اس سے جزیہ معاف ہو جائے گا۔ باشندگان ’’الیس‘‘ کے دو ذمی آدمی اسلام لے آئے تو آپؓ نے ان کا جزیہ معاف کر دیا۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 238)

اسی طرح ’’رقیل‘‘ نامی نہرین کا ایک جاگیردار اسلام لے آیا تو آپؓ نے اس کے لیے دو ہزار عطیہ مقرر کیا اور اس سے جزیہ معاف کر دیا۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 238۔ بحوالہ المحلّٰی: جلد 7 صفحہ 345)

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس سال ذِمی اسلام لائے گا اس پورے سال کا جزیہ اس سے ساقط ہو جائے گا خواہ شروع سال میں اسلام لایا ہو یا درمیان سال میں یا آخر سال میں، سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ اگر محصل نے اپنے ہاتھ سے جزیہ وصول کیا اور پھر جزیہ دینے والا اسلام لے آیا تو وہ اسے لوٹا دے۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 238۔ بحوالہ المحلّٰی: جلد 8 صفحہ 511)

فقیری آ جانے پر بھی جزیہ ساقط ہو جاتا ہے، چنانچہ مال داری و کشادگی کی زندگی کے بعد اگر ذمی فقیر ہو جائے اور اس قدر عاجز ہو جائے کہ اس میں جزیہ دینے کی طاقت نہ ہو تو اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ سیدنا عمرؓ نے جب ایک انتہائی ضعیف و عمر دراز اور اندھے ذمی کو بھیک مانگتے دیکھا تو آپؓ نے اس سے جزیہ معاف کر دیا۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 239)

مزید برآں اسے بیت المال سے اتنا تعاون دینے کا حکم صادر فرمایا جو اس کے اخراجات کے لیے کافی ہو۔ 

صفحہ 1 از 2