منصوبہ بندی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

منصوبہ بندی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

انہوں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے کہا: آپؓ لوگ ذرا یہاں سے ہٹ جائیں تا کہ ہم دریا پار کر لیں۔

حضرت خالدؓ نے جواب دیا: ایسا نہیں ہو سکتا لیکن تم دریا پار کر کے ہم سے نیچے علاقہ میں آؤ۔

یہ واقعہ 15 ذوالقعدہ 12 ہجری میں پیش آیا۔

رومیوں اور فارسیوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: اپنے ملک کو بچاؤ، یہ شخص دین کی بنیاد پر لڑتا ہے اور عقل و علم رکھتا ہے۔ واللہ یہ ضرور غالب آئے گا اور ہم ضرور رسوا ہوں گے۔ پھر انہوں نے اس سے عبرت حاصل نہ کی اور دریا پار کر کے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے نچلے حصہ میں آگئے۔

جب سب آ گئے تو رومیوں نے کہا: الگ الگ ہو جاؤ تا کہ آج ہمیں معلوم ہو جائے کہ کیا اچھا اور کیا برا ہے اور کہاں سے خطرہ ہے؟ چنانچہ ایسا ہی کیا اور پھر گھمسان کی جنگ ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے رومیوں کو شکست دی۔

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے کہا: ان پر ٹوٹ پڑو، ان کو مہلت نہ دو۔ شہسوار اپنے ساتھیوں کے نیزوں سے دشمن کی ایک ایک جماعت جمع کرتا، جب جمع ہو جاتے تو مسلمان انہیں قتل کر دیتے۔ اس طرح اس معرکہ میں ایک لاکھ افراد قتل ہوئے اور حضرت خالدؓ نے فراض میں دس روز قیام کیا اور پھر اسلامی افواج کو حیرہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 201)

اس طرح مسلمانوں نے پہلی مرتبہ روم و ایران جیسی دونوں سپر طاقتوں (Super Power) اور ان کی ہم نوا عرب افواج کا مقابلہ کیا، اس کے باوجود مسلمانوں کو زبردست فتح حاصل ہوئی اور بلاشبہ یہ معرکہ تاریخی اور فیصلہ کن معرکوں میں سے رہا، اگرچہ اس کو وہ شہرت حاصل نہ ہوئی، جو دیگر بڑے معرکوں کو حاصل ہوئی، کیونکہ اس سے کفار کی اندرونی قوت ختم ہو گئی۔ خواہ وہ ایران سے تعلق رکھتے رہے ہوں یا روم سے یا عرب اور عراق سے۔ عراق میں حضرت خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ نے جو معرکے سر کیے یہ اس کی آخری کڑی تھی۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 173)

اس معرکہ کے بعد ایرانیوں کی شان و شوکت خاک میں مل گئی پھر اس کے بعد ان کو وہ ایسی جنگی قوت حاصل نہ ہو سکی، جس سے مسلمان خوف زدہ ہوں۔

(حضرت خالد بن الولیدؓ:عرجون صفحہ 36)


صفحہ 4 از 4