منصوبہ بندی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

منصوبہ بندی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا اقرع بن حابسؓ کو انبار واپس ہو جانے کا حکم دے دیا اور خود دومۃ الجندل میں ٹھہر گئے۔ آپؓ کے وہاں ٹھہر جانے کی وجہ سے فارسیوں کے اندر آپؓ کے بارے میں غلط خیالات نے جنم لیا اور طمع پیدا ہوئی اور اسی طرح اس علاقہ کے عربوں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے فارسیوں سے سازباز کی اور خط کتابت شروع کر دی تاکہ وہ بھی ان کے ساتھ خالد پر غضبناک ہوں کیونکہ ابھی عقہ کے قتل کا زخم تازہ تھا چنانچہ روزمہر اپنے ساتھ روزبہ کو لے کر بغداد سے انبار کی طرف روانہ ہوا اور حصید و خنافس میں جمع ہونا طے کیا۔ یہ خبرزبرقان بن بدر کو پہنچی جو اس وقت انبار پر مقرر تھے، انہوں نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے امداد طلب کی جو حیرہ پر سيدنا خالدؓ کے نائب تھے۔ چنانچہ انہوں نے اعبد بن فد کی سعدی ابولیلیٰ کو ان کی امداد کے لیے روانہ کیا اور انہیں حصید پہنچنے کا حکم دیا اور اسی طرح عروہ بن جعد البارقی کو روانہ کیا اور انہیں خنافس پہنچنے کا حکم دیا۔ جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو بعض قبائل کے حرکت میں آنے اور حصید میں روزبہ کے ساتھ مل جانے کی رغبت کی خبر ملی تو آپؓ نے سيدنا قعقاعؓ کو حصید میں امیر مقرر کیا اور حیرہ میں ان کی جگہ حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔ ادھر جب روزبہ کو سيدنا قعقاعؓ کے اس کی طرف روانہ ہونے کی خبر ملی تو اس نے روزمہر سے مدد مانگی، وہ آ کر اس کے ساتھ شامل ہو گیا اور پھر اسلامی افواج فارسیوں سے ٹکرائیں اور عظیم جنگ ہوئی، دشمن کے بہت سے آدمی مارے گئے، ان مقتولین میں روزمہر اور روزبہ بھی تھے۔ اس طرح مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 355)

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس معرکہ کے بارے میں کہا:

أَلا أبلغا أسْمَائَ أنَّ حَلِیْلَہَا

قضی وَطَرًا مِّن روزمہر الأعاجمِ

ترجمہ: کیا تم اسماء کو یہ خبر نہیں پہنچا دیتے کہ اس کے شوہر نے عجمیوں کے روزمہر کا قصہ تمام کر دیا ہے۔

غداۃ صبَّحنا فی حَصِیْدِ جُمُوعِہِمْ

لہندیۃ تفری فراخَ الجَمَاجِمِ

ترجمہ: ہم نے حصید میں صبح صبح ان کے لشکر پر حملہ کیا، ہندی تلوار ان کے سروں کو اڑا رہی تھی۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 59)

(10) معرکہ مُصَیَّخ: حصید میں مسلمانوں کی خبر جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپؓ نے اپنے لشکر کے قائدین کو حوران کے قریب مصیخ میں وقت مقررہ پر جمع ہونے کو کہا۔ جب یہ سب وقت مقررہ پر پہنچ گئے تو راتوں رات بعض قبائل اور ان لوگوں پر تین طرف سے شب خون مارا جو ان کے ساتھ پناہ گزیں تھے اور انہیں کافی نقصان پہنچایا۔

(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: خالد الجنابی، نزار الحدیثی صفحہ 55)

پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو ثنی میں جو رَقہ کے قریب ہے زمیل دیارِ بکر میں بعض قبائل کے جمع ہونے کی خبر ملی کہ وہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوں گے، آپؓ نے متعدد جہات سے ثنی پر اچانک حملہ کر دیا، جس سے ان کا شیرازہ بکھر ہو گیا اور اسی طرح زمیل میں جمع ہونے والوں پر حملہ کیا اور انہیں کافی نقصان پہنچایا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 199، 200)

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس حملہ میں ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جس کا نام حرقوص بن نعمان نمری تھا۔ اس کے ساتھ اس کے بیٹے بیٹیاں اور بیوی تھی، شراب کا پیالہ ان کے درمیان رکھا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک نے کہا: کیا اس وقت کوئی شراب پیے گا، جب کہ سیدنا خالدؓ کی افواج پہنچ چکی ہیں؟ اس نے کہا: پیو، یہ الوداعی پینا ہے، میرا خیال ہے اس کے بعد تمہیں شراب نہ ملے گی، سب نے شراب نوش کی اور حرقوص کہنے لگا:

ألا فَاشْرَبُوْا من قَبْلِ قاصمۃ الظَّہْرِ بعید انتفاخِ القَوم بالعَکَرِ الدَّثْرِ

ترجمہ: خبردار! کمر توڑ مصیبت آنے سے پہلے پی لو، اس گھری ہوئی مصیبت سے قوم کی نجات بعید ہے۔

وَقَبْلِ منایانا المُصِیْبَۃِ بِالقَدْرِ

لِحِیْنٍ لَعَمْرِی لا یزیدُ ولا یَحْری

ترجمہ: ہماری موت سے قبل مصیبت مقدر ہو چکی ہے، جو کسی صورت میں ہٹنے والی نہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 199 البدایۃ والنہایۃ: جلد 9 صفحہ 533)

اسی حالت میں ایک شہسوار اس کی طرف بڑھا اور اس کی گردن اڑا دی اور اس کا سر پیالے میں جا گرا، ہم نے اس کی بیوی اور بچیوں کو لے لیا اور اس کے بچوں کو قتل کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 199)

اس معرکہ میں دو ایسے آدمی قتل کر دیے گئے جو اسلام لا چکے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں امان دے رکھی تھی لیکن مسلمانوں کو اس کا علم نہ تھا۔ جب ان کی خبر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو پہنچی تو آپؓ نے ان کی دیت ادا کی اور ان کی اولاد سے متعلق وصیت کی اور ان دونوں کے بارے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں کا انجام یہی ہوتا ہے جو دار الحرب میں بستے ہیں۔ یعنی مشرکین کے ساتھ رہنے کی وجہ سے جرم ان کا ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 356)

(11) معرکہ فِراض: جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے پرچم اسلام عراق پر لہرا دیا اور عرب قبائل آپؓ کے تابع ہو گئے تو آپؓ نے فراض کا قصد کیا، جو شام، عراق اور جزیرہ کی سرحد پر ہے تا کہ اپنی پشت کو محفوظ کر لیں اور جب سر زمین سواد کو پار کر کے فارس کا رخ کریں تو پیچھے کوئی خطرہ باقی نہ رہے لیکن جب اسلامی افواج فراض میں جمع ہوئیں، تو رومیوں کو غصہ آیا اور آپے سے باہر ہو گئے اور اپنے سے قریب فارسی افواج سے مدد طلب کی۔ چونکہ مسلمانوں نے فارسیوں کی شان و شوکت کو ختم کر دیا تھا اور وہ ذلیل وخوار ہوئے تھے، اس لیے وہ مسلمانوں پر جلے بھنے تھے، انہوں نے فوراً رومیوں کی دعوت قبول کی، اور ان کی مدد کے لیے تیار ہو گئے۔ اسی طرح رومیوں نے تغلب، ایاد اور نمر قبائل عرب سے مدد طلب کی، انہوں نے بھی ان کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ وہ اپنے رؤساء اور سرداروں کے قتل کو ابھی بھولے نہیں تھے۔ اس طرح اس معرکہ میں روم، فارس اور عرب کی افواج مسلمانوں کے خلاف جمع ہو گئیں اور جب یہ لوگ فرات کے ساحل پر پہنچے تو مسلمانوں سے کہا: یا تو تم دریا پار کر کے ہمارے پاس آؤ یا ہم آتے ہیں؟

سيدنا خالدؓ نے کہا: تمہی پار کرکے آؤ۔

صفحہ 3 از 4