منصوبہ بندی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

منصوبہ بندی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

اس وقت دومۃ الجندل کا معاملہ دو سرداروں کے ہاتھ میں تھا، ایک اکیدر بن عبدالملک اور دوسرا جودی بن ربیعہ۔ ان دونوں کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ اکیدر نے کہا: میں سیدنا خالدؓ کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس سے بڑھ کر مبارک شگون والا نہیں اور نہ جنگ میں کوئی اس سے آگے ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا چہرہ دیکھ کر افواج شکست کھا جاتی ہیں، زیادہ ہوں یا کم۔ لہٰذا تم میری بات مانو اور حضرت خالدؓ سے مصالحت کر لو۔ لیکن لوگوں نے اکیدر کی بات نہ مانی، تو اس نے کہا: میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں تمہارا ساتھ ہرگز نہ دوں گا، تم جانو۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 355 تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 195)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آپؓ کے دشمن کی شہادت ہے، اور حق تو وہ ہے جس کی شہادت دشمن دے۔ سیدنا خالدؓ نے غزوہ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہﷺ نے آپؓ کو اکیدر کی طرف روانہ کیا تھا آپؓ اس کو قید کر کے رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے آئے تھے۔ رسول اللهﷺ نے اس پر احسان کر کے چھوڑ دیا تھا اور اس سے معاہدہ لکھوا لیا تھا لیکن اس نے اس کے بعد بدعہدی کی۔ جس وقت حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس کو قید کیا تھا، اسی وقت سے وہ آپؓ سے مرعوب ہو گیا چنانچہ اکیدر اپنی قوم کا ساتھ چھوڑ کر نکل گیا۔ سيدنا خالدؓ کو دومۃ الجندل کے راستہ میں اس کی خبر ملی، آپؓ نے عاصم بن عمرو کو اس کو گرفتار کرنے کے لیے روانہ کیا۔ انہوں نے اسے گرفتار کر لیا اور اس کی سابقہ خیانت کی وجہ سے حضرت خالدؓ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور اس کو قتل کر دیا گیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کی خیانت و غداری کی وجہ سے اسے ہلاک کیا اور تدبیر تقدیر سے نہ بچا سکی۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 163)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے دومۃ الجندل پہنچ کر باشندگان دومۃ الجندل اور ان کے حامی بہراء، کلب اور تنوخ کو اپنے گھیرے میں لے لیا، ایک طرف آپؓ کی فوج اور دوسری طرف حضرت عیاض بن غنمؓ کی فوج۔

(سیدنا خالد بن الولید: صادق عرجون: صفحہ 231)

جودی بن ربیعہ اپنی فوج کے ساتھ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا اور ابنِ حدرجان اور ابن ابہم اپنی اپنی فوج کے ساتھ حضرت عیاض رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے۔ جنگ کا آغاز ہوا، سیدنا خالدؓ نے جودی اور اس کی افواج کو شکست دے دی اور حضرت عیاض رضی اللہ عنہ نے ابنِ حدرجان اور اس کی فوج سے بمشکل فتح کو چھین لیا۔ شکست خوردہ لوگوں نے بھاگ کر قلعہ میں پناہ لینی چاہی لیکن قلعہ پہلے سے بھر چکا تھا، اس میں جگہ نہ تھی، اندر والوں نے دروازے بند کر لیے اور اپنے ساتھیوں کو باہر میدان میں چھوڑ دیا، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ قلعہ کا دروازہ اکھاڑ کر اس میں گھس گئے اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 196 سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: خالد الجنابی صفحہ 54)

اس طرح دومۃ الجندل کے فتح ہونے سے مسلمانوں کو جنگی اعتبار سے بڑا اہم مقام حاصل ہو گیا کیونکہ دومۃ الجندل ایسے راستہ پر واقع ہے، جہاں سے تین سمتوں میں اہم راستہ نکلتے ہیں۔ جنوب میں جزیرہ نمائے عرب اور شمال مشرق میں عراق اور شمال مغرب میں شام۔ طبعی طور پر یہ شہر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپؓ کی فوج کی توجہ اور اہتمام کا مستحق تھا، جو عراق میں برسر پیکار تھی اور شام کی سرحدوں پر کھڑی تھی اور یہی سبب تھا کہ حضرت عیاضؓ نے یہاں سے حرکت نہ کی بلکہ وہاں مرابط بن کر ڈٹے رہے اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے وہاں پہنچے کا انتظار کیا اگر دومۃ الجندل مسلمانوں کے قبضہ میں نہ آتا تو عراق میں مسلم افواج کے لیے خطرات کا سامنا تھا۔

(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: نزار الحدیثی، خالد الجنابی: صفحہ 54)

اس طرح حضرت خالد رضی اللہ عنہ دومۃ الجندل کی فتح میں سیدنا عیاضؓ کی مدد کرنے میں کامیاب ہوئے جہاں جنوبی عراق میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی جنگیں، جلد حملہ آور ہونے میں مہارت، موقع کو غنیمت سمجھنے اور دشمن کے دل میں رعب بٹھانے کے سلسلہ میں مثالی حیثیت کی حامل ہیں، وہیں حضرت عیاض بن غنمؓ کا طویل مدت تک دشمن کے سامنے ڈٹے رہنا جبکہ دشمن ہر جانب سے ٹوٹ پڑا ہو، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلامی فوج صبر و ثبات، اخروی بھلائی کی امید اور اللہ کی نصرت و تائید پر اعتماد و بھروسہ سے متصف تھی اور یہ چیز ان کے اندر بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ افاضل مہاجرین اور سادات قریش میں سے تھے۔ بڑے سخی اور فیاض تھے۔ خلفاء اور ان کے والیان کو ان پر پورا اعتماد تھا، وہ یرموک کے قائدین میں سے تھے، حضرت ابو عبیدہؓ کی فوج کے مقدمہ پر مقرر تھے، اس کے بعد آپؓ نے مکمل جزیرہ کو فتح کیا جو شام و عراق کے مابین واقع ہے۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت ان کو شام پر اپنا نائب مقرر کیا تھا اور حضرت عمرؓ نے آپؓ کو اس عہدہ پر باقی رکھا۔ یہاں تک کہ فتوحات کے سلسلہ میں آپؓ کی ضرورت پیش آئی تو ان فتوحات کے لیے آپؓ کو روانہ کیا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 164)

(9) حُصَید کا معرکہ: (یہ جزیرہ کی طرف عراق کے اطراف میں ایک مقام ہے)

صفحہ 2 از 4