سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 3

اور بہرحال وہ لڑائیاں جو مابینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واقع ہوئیں پس ہر گروہ کے لیے شبہ تھا جس کے سبب سے ہر شخص نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا اور وہ سب کے سب عادل ہیں اور اپنے حروب وغیرہ میں متاول ہیں اور ان اشیاء میں سے کوئی شے عدالت سے ان کو نہیں نکالتی اس واسطے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مجتہد ہیں مسائل میں اختلاف محلِ اجتہاد میں فرمایا ہے جیسا کہ ائمہ مجتہدین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد دعا وغیرہ کے مسائل میں مختلف ہوئے ہیں اور ان اختلاف سے اس میں سے کسی کا نقص نہیں لازم آتا حضورِ اکرمﷺ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق فرماتے ہیں:

عن عبد الرحمٰن ابن ابی اميره عن النَّبِیﷺ انه قال لمعاويه اللهم اجعله ھادیا مھديا واهدى به رواه الترمذی۔

(مشکوٰۃ شريف: صفحہ، 571)

ابو عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ اے اللہ معاویہؓ کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت پانے والا بنا دے اور معاویہؓ کے ذریعے سے لوگوں کو ہدایت دے اس روایت کے تحت علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ ولا ارتياب ان دعائهﷺ فمن كان هذا حالته كيف يرتاب فی حقه۔

(حاشیہ حوالہ بالا) 

یعنی اس میں شک نہیں ہے کہ جو دعا رسول اللہﷺ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے لیے فرمائی وہ عند اللہ مقبول ہے پس جس کی یہ حالت ہو کہ حضورِ اکرمﷺ اس کے حق میں دعا فرمائیں اور وہ مقبول بھی ہو تو اس کے حق میں کیوں کر شک کیا جائے؟


صفحہ 3 از 3