7: حضراتِ اہلِ بیتؓ اس صلح و مصالحت کے بعد سیدنا امیرِ معاویہؓ کو امیر المؤمنین کے لقب سے یاد فرماتے رہے اور آپ کے حق میں دعائیہ کلمات ادا کرتے رہے چنانچہ سیدنا حسنؓ کے انتقال کی خبر سن کر جب سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے تعزیت کی تو انہوں نے جواباً فرمایا:
لَا يُحزِنُنِی اللهُ وَلَا يَسُوءنِی مَا أَبقَى اللهُ أَمِيرَ المُؤمِنِينَ
(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ138 تحت: ترجمۃ معاویہ بن ابی سفیانؓ)
ترجمہ: جب تک امیر المؤمنین حیات ہیں، اللہ تعالیٰ نہ ہمیں غمگین ہونے دے گا اور نہ ہی ہمیں کوئی مصیبت و تکلیف ہو گی۔
اسی طرح ایک مرتبہ جب سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کی خدمت میں (انہیں تلاش کر کے) اموال پیش کیے تو جواب میں انہوں نے فرمایا:
وَصَلَ اللهُ قَرَابَتَكَ يَا أَمِيرَ المُؤمِنِينَ! وَأَحسَن جَزَاكَ
(تاریخِ مدینۃ دمشق: جلد46 صفحہ178 تحت: عمرو بن العاصؓ)
ترجمہ: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ آپ کی قرابت داری میں وصل پیدا کرے اور آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔