سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

تاریخ الخلفاء میں ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے نبی کریمﷺ میں ہم سے 163 احادیث روایت کی ہیں اور آپ سے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثلاً ابنِ عباس، ابنِ عمر، ابنِ زبیر، ابوالدرداء جریر المجلی، نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم اجمعین وغیرہم اور تابعین مثلاً ابن المسیب، حمید بن عبدالرحمٰن وغیرہم رضی اللہ عنہم اجمعین نے روایت کی ہے آپ ہوشیاری، دانائی اور بردباری میں بہت زیادہ مشہور تھے آپ کی فضیلت میں بہت زیادہ احادیث وارد ہیں آپ کا علم ضرب المثل تھا چنانچہ ابن ابی الدنیا اور ابوبکر بن ابی عالم دین نے تو آپ کے علم پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے حضرت امیرِ معاویہؓ لمبے قد کے خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے آپ کی طرف عمرؓ ہی دیکھ کر فرمایا کرتے تھے کہ یہ عرب کے کسریٰ ہیں نیز حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو برا نہ سمجھو جس وقت یہ تمہارے پاس سے اٹھ جائیں گے تو تم دیکھو گے کہ بہت سے سرتن سے جدا کیے جائیں گے مقری کہتے ہیں کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ کسریٰ اور ہرقل کا تو ذکر کرتے ہیں مگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھول جاتے ہیں۔

(بیان الامراء ترجمک تاریخ الخلفاء: صفحہ، 207، 208)

حافظ شمس الدین ذہبی میزان الاعتدال میں ارقام فرماتے ہیں:

ولى الشام عشرين سنة وملك عشرين سنة وكان حليماً كريماً سائساً عاقلاً خليقاً للامارة كامل السود۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ بیس سال شام کے والی اور بیس سال مالک رہے اور حلیم و کریم تھے اور بہت مدبر و منتظم تھے عقل مند تھے اور امیر ہونے کے لائق اور سرداری کے لیے کامل تھے۔  

حضرات! سیدنا امیرِ معاویہؓ بہت بڑے مجتہد تھے اگر ان کی شان فقاہت اور اجتہاد بھی ملاحظہ فرمانا ہو تو بخاری اور مشکوٰۃ ملاحظہ فرمائیے یہ ابِن عباسؓ سے سوال کیا گیا کہ امیر المؤمنین امیرِ معاویہؓ وتر ایک رکعت پڑھتے ہیں تو ابنِ عباسؓ نے فرمایا: اصاب انه فقیہ کہ معاویہؓ صائب الرائے شخص ہیں اور فقیہ ہیں اور ایک اور روایت میں ہے: دعه انه اصحاب النبیﷺ۔ 

(مشكوٰۃ: صفحہ، 114)

یعنی امیرِ معاویہؓ کو کچھ نہ کہو وہ تو حضورﷺ کے صحابی ہیں بخاری میں ہے:

عن حميد بن عبد الرحمٰن انه سمع معاوية بن ابی سفيان يوم عاشوراء عام حج على المنبر يقول يا اهل المدينة اين علماء کم سمعت رسول اللهﷺ يقول هذا يوم عاشوراء ولم يكتب الله اليكم صيامه وانا صائم فمن شاء فليصم فمن شاء فليفطر۔

(بخاری شریف: جلد، 1 صفحہ، 268)

حمید بن عبد الرحمٰن نے معاویہؓ کو حج کے سال میں عاشورہ کے دن منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ اے اہلِ مدینہ کہاں ہیں تمہارے علماء؟ میں نے رسولِ اقدسﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ یہ یومِ عاشورہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض نہیں کیا البتہ میں روزہ دار ہوں پس جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے افطار کرے۔

حضرات! اس طرح سے مجمع عام میں تمام علماء کو دعوت دے کر حکمِ شرعی بیان فرمانا مجتہد ہی کی شان ہے ماوشما کا کام نہیں پھر بھی باوجود اتنے فضائل و کمالات کے فسق کا فتویٰ دینا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بدگمانی کرنا کہ اہلِ بیتؓ کے نعوذ باللہ آپ دشمن تھے حضرت علیؓ حضرت حسنؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ میں جو کچھ ہوا اور جتنے واقعات مابین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس قسم کے واقع ہوئے اور وہ محض خطاء اجتہاد پر مبنی تھے اور ہر فرد اپنے آپ کو حق پر سمجھتا تھا نہ بغض و عناد کی وجہ سے بالخصوص جب تینوں حضرات میں صلح ہو گئی جیسا کہ تمہید شرح عقائد میں ہے:

لا يجرز اللعن على المعاويه لان عليا صالح معه وفيه ان الحسن بن علی صالح معه ولو كان مستحقا للعن لكان لا يجرز صلح معه۔

(الفرقۃ الغاویۃ: صفحہ، 8 شرح عقائد: صفحہ، 116)

یعنی حضرت امیرِ معاویہؓ پر لعن جائز نہیں کیونکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کر لی تھی اور اسی حاشیہ میں ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بھی آپ سے مصالحت فرما لی تھی اور اگر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ لعن کے مستحق ہوتے تو البتہ ان کے ساتھ صلح جائز نہ ہوتی۔ وفی الانوار لا يجوز الطعن فی المعاويه لانه من كبار الصحابه۔ (حوالابالا)

حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں طعن جائز نہیں کیونکہ وہ کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہیں علامہ نوی شارح مسلم رقمطراز ہیں: وما معاویہ فهو من العدول الفضلاء والصحابه والنجباء۔

(نووی شرح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 272 وتتمہ مظاہر حق، جلد، 4 صفحہ، 82)

یعنی سیدنا امیرِ معاویہؓ فضلاءِ عادلین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اخیار میں سے ہیں صاحبِ تاریخ الخلفاء چند واقعات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے چونکہ ارشاد فرمایا ہے کہ جب ہمارے اصحاب کا ذکر کیا جائے تو خاموش ہو جاؤ اس لیے مجال دم زدنی نہیں۔

(بیان الامر: صفحہ، 185) 

بہر کیف اگر ذاتی عداوت ان باہمی لڑائیوں کا سبب ہوتی تو صلح مشکل ہوتی اس کے علاوہ بہیقی اور ابنِ عساکر نے ہشام کے والد سے روایت کی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ایک لاکھ سالانہ وظیفہ ملا کرتا تھا۔ (بیان الامراء: صفحہ، 205)

کیا کوئی خلیفہ اپنے دشمن کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے حاشا و کلا ان کا آپس میں ذاتی عناد نہیں تھا اس لیے کسی پر بھی تان جائز نہیں بلکہ اہلِ سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے جیسا کہ علامہ نووی اور علامہ نسفی تحریر فرماتے ہیں:

واما الحروب التی جرت بين الصحابه فكانت لكل طائفه شبهه اعتقد تسريب انفسها وكلهم عدول فما متاولون في حروبهم وغيرها ولم يخرج شیء من ذلك احدا من العداله لانهم مجتهدون اختلفوا فی مسائل من محل الاجتهاد كما يختلف المجتهدون فبعدهم فی مسائل من الدعاء وغيرها ولم يلزم من ذلك نقص احد منهم۔

(نووی: جلد، 2 صفحہ، 272 مظاہر حق: جلد، 4 صفحہ، 82)

صفحہ 2 از 3