سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 3

حامداً و مصلیاً ارباب بصیرت و اہل فہم و فراست پر اظہر من الشمس ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر زمانے نبوت محمدیہ تک جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اللہ رب العزت کی برگزیدہ ہستیاں دنیا کی ہدایت کے لیے تشریف لائیں اور اپنے اپنے نورِ ہدایت سے عالم میں اجالا پھیلایا اور جیسا کہ حق تھا تشنگان ہدایت کو سیراب فرمایا اور طالبان فیض کو فیض پہنچایا یہاں تک کہ وہ اپنے بھٹکے ہوئے راستے سے صراطِ مستقیم پر آ گئے اور بھولے ہوؤں نے منعم حقیقی کو پہچان لیا۔ لیکن پھر بھی ان مقدس ہستیوں کو مطعون کیا گیا جہاں تک ہو سکا ان کو ایذاء رسانی کی گئی اتہام اور الزامات کا طومار ان پر باندھا گیا ان کے پاک دامن کو گالم گلوچ اور سب وشتم سے ملوث کیا گیا ایسے ہی جتنے اولیاء کرام و مشائخ عظام آج تک پیدا ہوئے ان پر بھی طعن و تشنیع کا بازار گرم کیا گیا اور کتنے جلا وطن اور شہر بدر کر دیئے گئے اور کتنوں کو بے خانما کیا گیا ؟

خود ہمارے آقا تاجدار مدینہﷺ کو ساحر کہا گیا مفتری اور کذاب کے خطاب سے یاد کیا گیا حتیٰ کہ مجنون اور پاگل بھی بنائے گئے:

وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ 

(سورۃ آلِ عمران: آیت 4)

اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ خود اللہ جل جلالہ پر بھی اعتراض کیا گیا اس سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک ہستیاں ہیں کہ ایک گروہ نے ان کو بھی برا بھلا کہا ان کی توہین اور ان پر تبرا اور سبِ وشتم کرنے کو اپنا دین سمجھا حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ رب العزت نے جو فضیلت بخشی اور سرکار دو عالمﷺ نے ان کی جو عزت کی اور تعریف فرمائی قرآنِ کریم اور احادیثِ صحیحہ میں اس کے متعلق دفتر کا دفتر موجود ہے مگر ایک گروہ جو اپنے دریدہ دہنی سے باز نہیں آتا برابر ان پر لعن و طعن کرتا ہے۔

اوروں سے ہمیں کیا شکوہ خود ہمارے یہاں بعض ایسے حضرات موجود ہیں جو بظاہر سنی حنفی اپنے آپ کو کہتے ہیں لیکن در حقیقت ان کا مجازی شعار یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ فاسق و فاجر تھے نعوذ باللہ من ذلک مجازی شعار میں نے اس وجہ سے کہا کہ اصل میں شعار اس کو کہتے ہیں جو کھلم کھلا ہو مگر یہ طائفہ پہلے تو اہلِ بیتؓ کی محبت اور بزرگانِ دین کی مودت ظاہر کرتا ہے جب تمام لوگ اس کے دامِ پر فریب میں پھنس جاتے ہیں تب اس عقیدہ باطلہ کا زہر لوگوں میں پھیلا کر قصرِ ایمان کو تباہ و برباد کر دیا کرتا ہے العیاذ بالله ہمارے دیار میں بھی ایسے نام نہاد سنی حنفی جماعت کا وجود پیدا ہو چلا ہے اس لیے اس مسئلہ پر کچھ لکھنے کی جرأت ہوئی۔

وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ 

(سورۃ البقرہ: آیت 213)

حضرات! معلوم نہیں کس دل سے یہ لوگ بد زبانی کرتے ہیں قلم لرزتا ہے اور دل دہلتا ہے کہ وہ مقدس ہستیاں جن کی شان میں تمام امت کا اتفاق ہو، الصحابة كلهم عدول (یعنی اصحابِ رسولﷺ سب عادل ہیں جن کے فضائل میں احادیثِ نبویہﷺ کا خزانہ معمور ہوا اور قرآنِ کریم جن کے ایمان اور قوت ایمان پر شاہد عدل ہو کیسے ان کی تفسیق کی جائے؟خواہ کیسا ہی ادنیٰ درجہ کا صحابی کیوں نہ ہو بالخصوص جب تمام اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہو کہ کتنا ہی بڑا غوث قطب کیوں نہ ہو ایک ادنیٰ درجہ کے صحابی کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا جیسا کہ بزرگانِ دین کے مقالات گرامی قدر سے ظاہر و باہر ہے۔

چنانچہ از غوث الثقلین قدس سره منقول است که اگر در ره گزر حضرت امیرِ معاویہؓ نشنیم و گر دسم اسپ برمن افتد باعث نجات می شناسم۔ 

(فتاویٰ امدادیہ: جلد، 4 صفحہ، 123)

غوث الثقلین (حضرت شیخ عبد القادر قدس سرہ) سے منقول ہے کہ اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے رہ گزر میں بیٹھوں اور آپ کے گھوڑے کے سم کا غبار میرے اوپر پڑ جائے تو میں اس کو باعثِ نجات خیال کروں۔

سبحان اللہ کیا جلالت شان ہے اور سینے:

ہمام عبداللہ بن مبارکؒ سے سوال کیا گیا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ افضل ہیں یا عمرو بن عبد العزیز؟ (ان کی شان میں بس اتنا ہے کہ ان کو عمر ثانی کہا گیا) تو جواب ريا: والله ان الغبار الذی دخل فی انف فرس معاوية مع رسول اللهﷺ افضل من عمرو الف مرة۔

(مفسق معادية من الفرقة الغاوية: صفحہ: 28)

 یعنی خدا کی قسم وہ غبار جو سیدنا امیرِ معاویہؓ ہی کے گھوڑے کی ناک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ گھسا ہے عمر بن عبد العزیزؒ بنانے سے ہزار درجہ افضل ہےاسی طرح بہت سے بزرگوں کے اقوالِ سیدنا امیرِ معاویہؓ ہی کی فضیلت میں منقول ہیں مگر منصف مزاج حضرات کے لیے انہی دونوں بزرگوں کی شہادت کافی ہے اب آئیے کتبِ فنِ رجال کی سیر بھی فرمائیے:

تقریب التہذیب میں ہے: معاوية بن ابی سفيان خليفة صحابی اسلم قبل الفتح وكتب الوحى۔ (حضرت امیرِ معاویہؓ بن سفیانؓ خلیفہ صحابی ہیں فتح مکہ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے اور آپ نے وحی لکھی ایک شاعر اس کے متعلق کہتا ہے: 

قد كان كاتب وحيه وامينه

سند الامانة حاصل لمعاوية

یعنی حضرت امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی تھے جس کی وجہ سے آپ کو امین ہونے کی سند حاصل ہے کہ وحی جیسا مہتم بالشان کام آپ کے سپرد کیا گیا علامہ صفی الدین اپنی کتاب خلاصہ میں تحریر فرماتے ہیں:

معاوية بن ابی سفيان بن صخر بن حرب الأموى ابو عبد الرحمٰن اسلم زمن الفتح له مائة وثلثون حديثا۔

(حضرت امیرِ معاویہؓ فتح مکہ کے زمانہ میں اسلام لائے اور آپ سے 130 حدیثیں روایت کی گئی ہیں)

صفحہ 1 از 3