اس قدر تفصیل اور وضاحت کے بعد آخر میں ہم مصنفِ نام و نسب سے ایک سوال کرنا چاہتے ہیں۔ سیدنا مولانا ظفر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں:
یہ عقدہ اب تک حل نہیں ہوا کہ جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ان بلوائیوں اور باغیوں کا مفسد و فتنہ پرور ہونا معلوم تھا تو پھر ان کو اپنے ساتھ لشکر میں کیوں شامل کیا؟ اور بانیِ فتنہ محمد بن ابی بکر اور مالک اشتر نخعی کی پوزیشن کو اتنا کیوں مضبوط کیا کہ وہ ہر مجلس اور ہر مہم میں آپ کے ساتھ رہتے تھے؟ اور سیاسی و جنگی مہموں میں پیش پیش نظر آتے تھے؟ کیا ہمارے معترض ناقد جو درجہ اجتہاد پر پہنچنا چاہتے ہیں، اس گتھی کو سلجھانے کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟
(برأتِ عثمان: صفحہ42 تحت مطالبہِ قصاص کا حق)