شیعہ کی تعداد حضرت جعفر صادق رحمۃاللہ کے وقت
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاب شیعیت کی ترقی کا زمانہ لیجیے شیعہ حضرات کے نزدیک مذہب کی ترویج سیدنا جعفر صادقؒ کے وقت میں ہوئی بلکہ شیعہ صاحبان اس مذہب کو منسوب ہی امام ممدوح کی طرف کرتے ہیں لیکن آپ نے جو اپنے وقت کے شیعوں کی حالت بتائی ہے وہ سخت مایوس کن تھی اصولِ کافی صفحہ 496 میں ہے:
عن ابن رباب قال سمعت ابا عبدالله عليه السلام يقول لابی بصير اما والله لو انی اجد منكم ثلاثة مؤمنين يكتمون حدیثی ما استحللت ان اكتم لهم حديثا۔
ترجمہ: راوی کہتا ہے کہ سیدنا صادقؒ ابو بصیر سے فرمانے لگے اگر میں تم میں سے تین مؤمن بھی ایسے دیکھوں جو میری حدیث کو مخفی رکھ سکیں تو میں کبھی یہ روا نہ رکھوں کہ میں ان سے اپنی حدیث چھپا رکھوں۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جناب صادقؒ کے عہد میں جو بقول شیعہ شیعیت کی ترقی کا زمانہ تھا، یہ حالت تھی کہ سیدنا ہمام رضی اللہ عنہ کو ایسے تین شیعہ بھی نظر نہ آتے تھے جو خالص الایمان اور قابلِ اعتماد ہوں یہی وجہ ہے کہ آپ سچی بات ایک کو بھی نہ بتا سکتے تھے بلکہ ایک سوال کے تین تین مختلف و متعارض جواب دے کر دفع الوقتی کرتے تھے۔
اسی صفحہ پر دوسری حدیث یوں ہے:
عن سدير الصير فى قال دخلت على ابی عبدالله فقلت له والله ما يسعك القعود فقال لم يأسدير قلت لكثرة موالیک و شیعتک و انصارك والله لو كان لامير المؤمنين عليه السلام مالك من شيعة والانصار والموالي ما طمع فيه تيم ولاعدى فقال يا سديرو كم حتى ان يكونوا قلت مائة الف قال مائة الف قلت نعم ومائتي الف قال ومائتي الف قلت نعم و نصف الدنيا قال فسكت عنى ثم قال ايخف عليك ان تبلغ معنا الى ينبع قلت نعم فامر الحمار وبغل ان يسرجا فبادرت فركبت الحمار فقال يا سدیرنری ان توشرني بالحمار قتل البغل ازین و انبل قال الحمار ارفق لی فنزلت فركب الحماد و ركبت البغل فمضينا فحانث الصلولة فقال يا سديرا نزل بنا نصلي ثم قال هذه ارض سحبة لا يجوز الصلوة فيها فسرنا الى ارض الحمرا ونظر الى غلام يرعى جداء فقال والله يا سعير لو كان لي شيعة بعدد هذه الجداء ما وسعنى القعود ونزلنا وصلينا فلما فرغنا من الصلولة عطفت الى الجداء فعدد تها فاذا هي سبعة عشرا
ترجمہ: سدیر صیرفی سے روایت ہے، کہا میں امام صادقؒ کے پاس گیا، اور ان کو کہا۔ بخدا آپ کو اب بیٹھ نہیں رہنا چاہیے۔ فرمایا کیوں؟ میں نے کہا، اس لیے کہ آپ کے پاس غلام اور شیعہ اور مددگار کثرت سے ہیں۔ بخدا اگر امیر علیہ السلام کے پاس اتنے آدمی ہوتے جتنے آپ کے پاس شیعہ مددگار اور غلام ہیں، تو بنو تمیم و عدی طمع خلافت نہ کرتے۔ آپ نے فرمایا سدیر! کتنے ہونے چاہئیں؟ میں نے کہا ایک لاکھ، امام نے کہا: ایک لاکھ میں نے کہا، ہاں دو لاکھ، امام نے کہا، اور دو لاکھ میں نے کہا، ہاں نصف دنیا۔ پھر آپ خاموش ہو گئے۔ پھر کہا، کیا تجھے گنجائش ہے کہ میرے ساتھ باہر چلو میں نے کہا، ہاں آپ نے گدھے اور خچر کو کسنے کا حکم دیا میں جلدی گدھے پر سوار ہو گیا فرمایا سدید، مجھے گدھا دے سکتے ہو میں نے کہا خچر کی سواری اچھی اور تیز رفتار ہوتی ہے فرمایا گدھے کی سواری ہلکی ہوتی ہے میں اُتر کر خچر پر سوار ہو گیا آپ گدھے پر سوار ہو گئے ہم چل دیئے نماز کا وقت ہو گیا امام نے فرمایا سدیر، اترو نماز پڑھ لیں پھر کہنے لگے یہ شور زمین ہے یہاں نماز نہیں ہو سکتی پھر ہم ایک سرخ مٹی کی زمین میں گئے اور آپ نے ایک لڑکا دیکھا جو بھیڑیں چرا رہا تھا سیدنا باقر صادقؒ فرمانے لگے اگر میرے پاس ان بھیڑوں جتنے بھی شیعہ ہوں تو بیٹھ نہ رہوں (جنگ کے لیے اُٹھوں) پھر ہم نے اتر کر نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان بھیٹروں کا شمار کیا تو ان کی تعداد ستره نکلی۔
اب آپ غور کریں کہ جہاں شیعہ کی تعداد لاکھ دو لاکھ بلکہ نصف دنیا سمجھی جاتی تھی وہاں خالص مخلص شیعہ سترہ نکلے اور زمانہ بھی صاحب المذہب سيدنا جعفر صادقؒ کا تھا وہاں آج کل کے شیعہ کی ایمانی حالت کا کیا ٹھکانا؟ یہ سب ڈوم، میراثی قلندر، مصلی کنجر جو شیعہ بن کر محرم میں رونق افزا مجلس ماتم ہوا کرتے ہیں یہ سب چاولوں کے شیعہ ہیں اگر منتظمان مجالس عزا ایک سال چاول پکانی بند کر دیں تو دیکھیں کتنے شیعیانِ علیؓ سینہ کوبی کے لیے جمع ہوتے ہیں۔