سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: جو حضرت عثمان غنیؓ کے دین سے برأت کا اظہار کرے وہ ایمان سے بری ہے، اللہ کی قسم میں نے ان کے قتل میں تعاون نہیں کیا اور نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے راضی ہوں۔ (الریاض النضرۃ: صفحہ 543)

• حضرت عثمان غنیؓ سے متعلق حضرت علیؓ نے فرمایا: آپ ہم میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور سب سے زیادہ رب تعالیٰ سے ڈرنے والے تھے۔ (صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 306)

• ابوعون سے روایت ہے کہ میں نے محمد بن حاطب سے سنا انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علیؓ سے حضرت عثمانؓ کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت علیؓ نے فرمایا: حضرت عثمان غنیؓ ان لوگوں میں سے تھے:

(الذین آمنوا ثم اتقوا ثم آمنوا ثم اتقوا۔)

’’جو ایمان لائے پھر تقویٰ اختیار کیا پھر ایمان لائے پھر تقویٰ اختیار کیا۔‘‘

اور آیت ختم نہ کی۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 580) اسنادہ صحیح۔ واضح رہے کہ قرآن میں ان الفاظ میں کوئی آیت نہیں ہے۔ (مترجم)

• عمیرہ بن سعد سے روایت ہے کہ ہم حضرت علیؓ کے ساتھ فرات کے ساحل پر تھے۔ ایک کشتی اپنا بادبان اٹھائے ہوئے گزری تو حضرت علیؓ نے فرمایا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَهُ الۡجَوَارِالۡمُنۡشَئٰتُ فِى الۡبَحۡرِ كَالۡاَعۡلَامِ‌۞(سورۃ الرحمٰن آیت 24)

ترجمہ: اور اسی کے قبضے میں وہ جہاز ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے کیے گئے ہیں۔

اس ذات کی قسم جس نے ان کشتیوں کو اپنے سمندروں میں سے کسی سمندر میں بلند کیا، میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ ان کے قتل پر لوگوں کو ابھارا۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 559، 560، اسنادہ صحیح لغیرہ: رقم 379)

• امام احمد رحمۃاللہ نے محمد بن حاطب سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو فرماتے ہوئے سنا:

اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ۞(سورۃ الأنبياء آیت 101)

ترجمہ: (البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جاچکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔

انہی لوگوں میں سے حضرت عثمان غنیؓ بھی ہیں۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 580، رقم 771) اسنادہ صحیح)

حضرت علیؓ نے فرمایا: جس دن حضرت عثمان غنیؓ قتل ہوئے میں کمزور پڑ گیا۔

(المنتظم فی تاریخ الملوک والامم: جلد 5 صفحہ 61)

حافظ ابن عساکر نے حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے برأت اور خطبہ وغیرہ میں اس پر قسم کھانے اور اس پر عدم رضا کی قسم کھانے سے متعلق حضرت علیؓ سے وارد شدہ روایات کو جمع کرنے کا اہتمام فرمایا ہے اور یہ آپ سے متعدد طرق سے بہت سے ائمہ حدیث کے یہاں ثابت ہیں جو قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں۔ (البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 193) 


صفحہ 2 از 2