جنگ صفین میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا قتل اور…

جنگ صفین میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا قتل اور مسلمانوں پر اس کا اثر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘

(صحیح مسلم :رقم: 2916)

(تمھیں باغی گروہ قتل کرے گا)

صحیح اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، جنگ صفین میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قتل کافی مؤثر رہا، سیدنا عمارؓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سردار تھے، جہاں سیدنا عمارؓ جاتے تو وہ آپ کے پیچھے ہوتے، خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں حاضر ہوئے تھے، لیکن لڑائی میں شریک نہیں تھے، جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل ہوتے دیکھا تو تلوار بے نیام کرلی اور اہل شام سے لڑنے لگے اس لیے کہ انھوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘سنی تھی اور لڑتے رہے تاآنکہ قتل کردیے گئے۔

(خلافۃ علي: صفحہ 211، مجمع الزوائد: 7242)

سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قتل کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فوجی قائدین جیسے عمرو بن عاص، ان کے بیٹے عبداللہ، ابوالاعور سلمی رضی اللہ عنہم (جو پانی کے راستے پر تھے اور لوگوں کی سیرابی کا انتظام کر رہے تھے اور یہ تنہا چشمہ تھا جس سے دونوں فریق سیراب ہو رہے تھے) پر کافی اثر رہا، چنانچہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے قتل کے بارے میں ان کی گفتگو اس طرح ہوئی:

’’عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا: ہم نے اس آدمی کو قتل کردیا ہے جب کہ ان کے بارے میں قول رسول ہے: ’’تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ اس کے بعد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم نے اس آدمی کو قتل کردیا جب کہ ان کے بارے میں مذکورہ قول رسول ہے۔ جواباً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: چپ رہو، تم میں رائے کی پختگی نہیں ہے، کیا ہم نے انھیں قتل کیا ہے؟ انھیں تو ان کے لانے والے نے قتل کیا ہے۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 240، اس کی سند صحیح ہے)

اہل شام کے مابین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ تاویل پھونس میں آگ کی طرح پھیل گئی۔‘‘

ایک دوسری صحیح روایت میں وارد ہے کہ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہا: عمار(رضی اللہ عنہ) قتل کر دیے گئے، جب کہ ان کے بارے میں قولِ رسول ہے: ’’تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘چنانچہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ گھبرائے، إنا للّٰه و إنا إلیہ راجعون پڑھتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: عمار(رضی اللہ عنہ) قتل کر دیے گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو کیا ہوا؟ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ ان سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں رائے کی پختگی نہیں ہے، کیا ہم نے انھیں قتل کیا ہے؟ انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے قتل کیا ہے، انھیں لے کر آئے اور ہمارے نیزوں یا دوسرے قول کے مطابق تلواروں کے درمیان ڈال دیا۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 240 بسند صحیح)

ایک دوسری صحیح روایت میں ہے: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں دو آدمی جھگڑا کرتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، دونوں میں سے ہر ایک کہتا تھا: انھیں میں نے قتل کیا ہے، اس پر عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: ان کے بارے میں تم میں سے ایک دوسرے سے راضی ہوجائے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ’’تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے ساتھ تمھارا کیا معاملہ ہوگا؟ جواب دیا: میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم زندگی بھر اپنے والد کی اطاعت کرو، اسی لیے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں، جنگ نہیں کروں گا۔

(مسند أحمد: جلد 11 صفحہ 138، 139)

سابقہ روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ فقیہ صحابی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما حق بات اور خیرخواہی کے حریص تھے، ان کا خیال تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی فوج باغی گروہ ہے، مختلف موقعوں پر عبداللہ بن عمروؓ نے اس خیال کا اظہار کیا، بلاشبہ اس حدیث کے باعث عمار رضی اللہ عنہ کا قتل اہل شام میں کافی اثر انداز ہوا مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کی نامناسب تاویل کردی، یہ بات درست نہیں ہے کہ جو لوگ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو میدانِ جنگ میں لائے تھے وہی ان کے قاتل ہیں۔

(خلافۃعلي بن أبي طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 325)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاویل کا الزامی جواب دیتے ہوئے کہا: اس طرح تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل ہیں، اس لیے کہ آپ ہی ان کو جنگ احد میں لے گئے تھے، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے ایسا الزامی جواب اور دلیل ہے جس پر کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔

(التذکرۃ: جلد 2 صفحہ 223)

سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قتل عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ پر بھی اثر انداز ہوا، بلکہ اسی بنا پر وہ جنگ ختم کرانے کی کوشش کرنے لگے،

(معاویۃ بن أبيسفیان: الغضبان: صفحہ 215)

اور کہا: کاش میں بیس سال پہلے مر گیا ہوتا۔

(أسباب الأشراف: جلد 1 صفحہ 170، عمرو بن العاص: الغضبان: صفحہ 603)

صحیح بخاری میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: ہم ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھا تو ان کی دھول جھاڑنے لگے اور کہا:

وَیْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ یَدْعُوْہُمْ إِلَی الْجَنَّۃِ وَ یَدْعُوْنَہٗ إِلَی النَّارِ، قَالَ عَمَّارٌ: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ۔ 

(صحیح البخاری: رقم: 447)

صفحہ 1 از 2