Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مدینہ والوں کے لیے برکت کی دعا

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے، جب ہم حرہ میں سعد بن ابی وقاصؓ کے چشمہ کے پاس پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اِئْتُوْنِيْ بِوَضُوْئٍ‘‘ میرے لیے وضو کا پانی لاؤ۔ جب آپﷺ وضو سے فارغ ہوئے تو قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہا اور یہ دعا کرنے لگے:

اَللّٰہُمَّ إِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ عَبْدُکَ وَ خَلِیْلُکَ دَعَا لِأَہْلِ مَکَّۃَ بِالْبَرْکَۃِ، وَ أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُکَ وَ رَسُوْلُکَ، اَدْعُوْکَ، لأَِہْلِ الْمَدِیْنَۃِ اَنْ تُبَارِکَ لَہُمْ فِيْ مُدِّہِمْ وَ صَاعِہِمْ مِثْلَمَا بَارَکْتَ لِأَہْلِ مَکَّۃَ مَعَ الْبَرْکَۃِ بَرْکَتَیْنِ۔

(مسند أحمد: الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث نمبر 936) اس کی سند صحیح ہے۔)

’’اے اللہ! ابراہیم ( علیہ السلام ) تیرے بندے اور خلیل تھے، انھوں نے مکہ والوں کے لیے برکت کی دعا کی تھی اور میں محمدﷺ تیرا بندہ اور رسول ہوں، میں تجھ سے مدینہ والوں کے لیے دعا کرتا ہوں کہ ان کے مد اور صاع میں مکہ والوں کی طرح برکت عطا فرما، ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں جمع ہو جائیں۔‘‘