Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

غزوۂ بدر

  علی محمد محمد الصلابی

 امام نووی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ باتفاق جملہ مؤرخین سیدنا علیؓ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے، بلکہ غزوۂ تبوک کے علاوہ بقیہ تمام غزوات میں سیدنا علیؓ نے شرکت فرمائی ہے۔

(تہذیب الاسماء و اللغات: جلد 1 صفحہ 245)۔

سیدنا علیؓ اس غزوہ میں شریک ہونے والے مجاہدین صحابہ میں سے ایک تھے، آئیے ہم انھیں کی زبان سے اس غزوہ کی تفصیل سنیں: حارثہ بن مضرب، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کا بیان ہے، اللہ کے رسولﷺ بدر کے بارے میں لوگوں سے تفصیلات معلوم کر رہے تھے اور جب ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مشرکین بدر تک پہنچنے والے ہیں تو اللہ کے رسولﷺ بھی اپنے صحابہ کے ہمراہ بدر اور اس کے کنویں تک پہنچ گئے۔ ہم وہاں مشرکین سے پہلے پہنچ گئے، وہاں ہم نے دو آدمیوں کو دیکھا، ایک تو قریش کا آدمی تھا اور دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام تھا۔ قریشی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن عقبہ کا غلام ہماری گرفت میں آ گیا، ہم نے اس سے پوچھا: لڑنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا: ان کی تعداد بہت بڑی ہے اور وہ سب طاقتور ہیں۔ جب اس نے یہ کہا تو مسلمانوں نے اس کی پٹائی کردی اور پکڑ کر رسول اللہﷺ کے پاس لائے، آپ نے اس سے پوچھا: ’’کم القوم‘‘ لڑنے والوں کی تعداد کیا ہے؟ اس نے وہی جواب دیا کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ سبھی طاقتور ہیں، اللہ کے رسولﷺ نے اس سے سختی سے باز پرس کیا، لیکن وہ انکار ہی کرتا رہا، پھر اللہ کے رسولﷺ نے اس سے پوچھا: ’’کم ینحرون من الجزر ایک دن میں کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ اس نے کہا: روزانہ دس اونٹ۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’اَلْقَوْمُ أَلْفٌ، کُلٌّ جزور لمئۃ و تبعہا‘‘ ان کی تعداد ایک ہزار ہے، ایک اونٹ سو اور اس سے کچھ زیادہ لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ پھر رات میں ہلکی بارش ہوئی، ہم بارش سے بچنے کے لیے درختوں اور چمڑے کی ڈھالوں کے سائے میں ہو گئے اور اللہ کے رسولﷺ نے پوری رات اللہ سے دعا اور استمداد میں گزاری۔ دعا میں آپ پڑھ رہے تھے:

اَللّٰہُمَّ إِنْ تُہْلَکْ ہٰذِہِ الْفِئَۃُ لَا تُعْبَدْ۔

’’اے اللہ! اگر یہ مختصر جماعت ہلاک ہوگئی تو تیری عبادت نہ ہوگی۔‘‘

چنانچہ جب فجر طلوع ہوئی تو آپﷺ نے لوگوں میں نماز پڑھنے کا اعلان کیا، پھر جو جس کے سائے میں تھا وہاں سے نماز کے لیے آیا، آپﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور جنگ پر ابھارتے ہوئے فرمایا:

’’قریش کا لشکر پہاڑ کے اس سرخ دامن میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔‘‘

بہرحال جب مشرکین کا لشکر ہم سے قریب ہوا اور ہم اس کے مدمقابل ہوئے تو اچانک ہماری نگاہ ایک ایسے آدمی پر پڑی جو سرخ اونٹ پر سوار ہو کر لشکر میں گھوم رہا تھا، اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: یَا عَلِي! نَادِ حَمْزَۃَ اے علی! حمزہ کو بلاؤ، وہ لشکر کفار کے بالمقابل قریب تھے۔ آپ نے ان سے پوچھا: مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَر، وَ مَاذَا یَقُوْلُ لَہُمْ سرخ اونٹ پر کون سوار ہے، اور لوگوں سے کیا کہہ رہا ہے؟ پھر آپ فرمانے لگے:

إِنْ یَّکُنْ فِيْ الْقَوْمِ أَحَدٌ یَامُرُ بِخَیْرٍ، فَعَسَی أَنْ یَّکُوْنَ صَاحِبْ الْجَمَلِ اْلَٔاحْمَرَ

اگر اس لشکر میں کوئی اچھی بات کا مشورہ دے سکتا ہے تو امید ہے کہ سرخ اونٹ کا یہی سوار ہو گا۔

چنانچہ حمزہ آئے اور کہا، وہ عتبہ بن ربیعہ ہے، وہ اپنی قوم کو جنگ کرنے سے روک رہا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ اے لوگو! میں ایک پروقار و پرسکون قوم دیکھ رہا ہوں، تم اس تک نہیں پہنچ سکتے، واپس لوٹنے ہی میں بھلائی ہے، آج کی بدنامی میرے سر باندھ دو اور کہہ سکتے ہو کہ عتبہ بن ربیعہ بزدل ہو گیا ہے، حالانکہ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں بزدل نہیں۔‘‘

سیدنا علیؓ کا بیان ہے کہ عتبہ کی اس بات کو ابوجہل نے سن لیا اور کہا، تم! اور ایسی بات کہہ رہے ہو؟ اللہ کی قسم اگر آج کوئی دوسرا یہ بات کہتا تو میں دانتوں سے اس کی گردن کاٹ دیتا، تمھارا کلیجہ اور پیٹ مسلمانوں کے خوف اور رعب سے بھر گیا ہے، عتبہ کہنے لگا: اے ڈرپوک تو اور مجھے عار دلاتا ہے؟ آج تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میں بزدل ہوں یا تم، پھر عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ اپنی قومی حمیت میں باہر نکلے، اور کہا، کون ہے جو مقابلہ میں آگے آئے گا؟ جواب میں چھ انصاری نوجوان میدان میں اترے، عتبہ نے کہا، ہمیں تم سے کوئی مطلب نہیں ہے، ہمارے مقابلہ میں ہمارے ہی بنی عم یعنی بنوعبدالمطلب کے افراد آئیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: قُمْ یَا عَلِیُّ! قُمْ یَاحَمْزَۃُ، وَقُمْ یَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطْلَبِ۔

’’اے علی اٹھو، اے حمزہ اٹھو، اے عبیدۃ اٹھو‘‘چنانچہ مقابلہ ہوا، اور اللہ تعالیٰ نے ربیعہ کے دونوں لڑکوں عتبہ، شیبہ، اور عتبہ کے لڑکے ولید کو قتل کے ذریعہ سے موت کے گھاٹ اتارا، اور ابوعبیدہؓ بھی زخمی ہو گئے، ہم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل اور ستر کو قید کیا اور ایک چھوٹے قد کے انصاری صحابی نے عباس بن عبدالمطلب کو قید کیا۔ عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم ہے کہ اس شخص نے مجھے قید نہیں کیا ہے، بلکہ چتکبرے گھوڑے پر سوار ایک خوبصورت اور گنجے آدمی نے مجھے قید کیا ہے، جو مجھے کہیں نظر نہیں آ رہا ہے، انصاری کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نے ہی ان کو قید کیا ہے، آپﷺ نے فرمایا:

اُسْکُتْ، فَقَدْ اَیَّدَکَ اللّٰہُ تَعَالَی بِمَلَکٍ کَرِیْمٍ 

خاموش رہو، اللہ نے فرشتے کے ذریعہ سے تمھاری مدد فرمائی ہے۔

سیدنا علیؓ کہتے ہیں: ہم نے بنوعبدالمطلب سے عباس، عقیل اور نوفل بن حارث کو قید کیا۔

(مسند أحمد الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث نمبر 948) اس کی سند حسن ہے۔)

حضرت علیؓ نے غزوۂ بدر کی جو تصویر کھینچی ہے اس میں ہم عبرت و موعظت اور فوائد کے بےشمار اسباق دیکھ رہے ہیں، جنھیں میں نے اپنی کتاب ’’السیرۃ النبویۃ‘‘ (اس کتاب کے اردو ترجمہ کا شرف بھی ادارہ ندوۃ السنہ ہی کو حاصل ہے۔ الحمد للہ۔) میں ذکر کیا ہے۔