Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کا بیان

  علی محمد محمد الصلابی

نبی اکرمﷺ کے اخلاق حسنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سیدنا علیؓ نے فرمایا:

’’آپﷺ سخی ایسے تھے کہ دونوں ہاتھوں سے لٹاتے، کشادہ دل، صدق گو، نرم طبیعت اور مل جل کر رہنے والے تھے، جس کی نظر آپﷺ پر پہلی مرتبہ پڑے وہ آپﷺ کی تکریم کرنا چاہیے اور جو قریب سے آپﷺ کو پہچان لے وہ محبت کرنے لگے، آئینہ جمال نبوت دکھانے والے کا بیان ہے کہ میں نے آپﷺ سے پہلے اور بعد میں کوئی آپﷺ سا نہیں دیکھا۔‘‘

(یہ گذشتہ حدیث کا تتمہ ہے۔)

رسول اللہﷺ کی شجاعت و جواں مردی کا ذکر حضرت علیؓ اس طرح کرتے ہیں کہ جب جنگ اپنے شباب پر ہوتی تو وہ اور دیگر بہادر کہے جانے والے صحابہ بھاگ کر رسول اللہﷺ کے پاس پناہ لیتے، جنگِ بدر میں ہم رسول اللہﷺ کے پاس پناہ لیتے تھے اور آپﷺ دشمن کے بالکل قریب ہم سے پیش پیش تھے، اس وقت آپﷺ سب سے زیادہ طاقتور تھے۔

(مسند أحمد: تحقیق أحمد شاکر: جلد 2 صفحہ 64 اس کی سند صحیح ہے۔)

دوسری روایت میں ہے کہ جب جنگ کے شعلے بھڑکنے لگے اور دونوں طرف کی افواج گتھم گتھا ہو گئیں تو ہم رسول اللہﷺ کے پاس بھاگ کر پناہ لینے لگے، دشمن کے قریب آپ سے زیادہ کوئی نہیں تھا۔

(مسند أحمد: تحقیق أحمد شاکر: جلد 2 صفحہ 642 اس کی سند صحیح ہے۔)

امیر المؤمنین علیؓ نے چند یہودیوں کے مطالبہ پر نبی اکرمﷺ کی رحمت و شفقت، کرم و احسان، شجاعت و جوانمردی اور تواضع جیسے اخلاق کریمانہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’آپﷺ لوگوں کے لیے سب سے زیادہ مشفق و رحیم تھے، یتیم کے لیے باپ کی طرح مہربان، بیواؤں کے لیے حد درجہ کرم فرما، بہادری بےمثال، سخاوت ایسی کہ دونوں ہاتھوں سے لٹاتے، حسن و جمال میں یکتا تھے، جبہ آپ کی پوشاک تھی اور جَو کی روٹی خوراک، سالن کی جگہ دودھ اور کھجور کی چھالوں سے بھرا ہوا چمڑے کا تکیہ استعمال کرتے تھے، ببول کی چارپائی تھی، جو مضبوط رسیوں سے بٹی ہوئی تھی۔‘‘ 

(امام ابن القیم: زاد المعاد: جلد 1 صفحہ 100، میں فرماتے ہیں: اللہ کے رسولﷺ کبھی بستر پر سوتے تھے اور کبھی چمڑے کے ٹکڑے پر اور کبھی چٹائی پر اور کبھی زمین پر۔)

آپ کے دو عمامہ تھے، ایک کا نام سحاب (اسی عمامہ کو رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کو پہنایا تھا۔ زاد المعاد: جلد 1 صفحہ 135) اور دوسرے کا عقاب تھا، آپ کی تلوار کا نام ’’ذوالفقار‘‘(رسول اللہﷺ کے پاس نو تلواریں تھیں، ان میں سے ایک ذوالفقار جسے آپ نے غزوۂ بدر سے حصہ میں پایا تھا۔ زاد المعاد: جلد 1 صفحہ 130) 

اور پرچم کا نام ’’الغرائ‘‘ تھا۔ (امام ابن القیم رحمۃاللہ علیہ نے زاد المعاد: جلد 1 صفحہ 132، میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہﷺ کا ایک بڑا پیالہ تھا جس کا نام ’’الغرائ‘‘ تھا اس میں چار حلقے لگے ہوئے تھے اس کو چار آدمی پکڑ کر اٹھاتے تھے۔ (مترجم)

آپ کی اونٹنی کا نام ’’عضبائ‘‘(یہ وہ اونٹنی نہیں ہے جس کا نام ’’قصوائ‘‘ تھا بلکہ دوسری اونٹنی ہے جو مقابلہ میں اور تیزی کے لیے استعمال ہوتی تھی۔)

خچر کا نام ’’دلدل‘‘ (مقوقس بادشاہ نے اسے آپ کو بطور ہدیہ دیا تھا، اس کے علاوہ بھی آپ کے پاس خچر تھے۔ زادالمعاد: جلد 1 صفحہ 134)

گدھے کا نام ’’یعفور،'' گھوڑے کا نام ’’مرتجز‘‘ (آپ سات گھوڑوں کے مالک تھے، یہ ان میں سے ایک تھا۔ زاد المعاد: جلد 1 صفحہ 133)

بکری کا نام ’’برکۃ‘‘ اور عصا کا نام ’’ممشوق‘‘ تھا۔

(یہ وہی ’’عصا‘‘ ہے جو بعد میں خلفاء کے ہاتھوں میں متداول رہا۔)

’’لوائ‘‘ کا نام ’’حمد‘‘ تھا، اونٹ کو خود باندھتے اور گھوڑی کے چارا دانے کا انتظام خود کرتے تھے، اپنے پھٹے کپڑے میں پیوند لگاتے اور جوتے خود سِی لیتے۔ 

(الریاض النظرۃ فی مناقب العشرۃ: جلد 2 صفحہ 163)