غزوۂ بدر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بہادری پر کہے گئے اشعار
علی محمد محمد الصلابیغزوۂ بدر میں سیدنا علیؓ کی بہادری پر کہے گئے اشعار:
غزوہ بدر کے دن مشرکین کا ’’عَلَم‘‘ طلحہ بن ابوطلحہ کے ہاتھ میں تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا، تو حجاج بن علاط السلمی نے اس واقعہ سے متعلق یہ اشعار کہے:
لِلّٰہِ أَي مُذْنِبٍ عَنْ حَرْبِہِ أَعْنِيْ ابْنَ فَاطِمَۃَ المُعَمُّ المُخَولَّا
’’سچ ہے کہ وہ شخص انتہائی مجرم ہے، جو اس کی بہادری کا مقابلہ کرے، میری مراد فاطمہ کے بیٹے سے ہے جس کے دادیہال اور ننہال دونوں طرف کے لوگ کریم النفس اور شریف الطبع ہیں۔‘‘
جَادَتْ یَدَاکَ لَہُ بِعَاجِلِ طَعْنَۃٍ تَرَکْتَ طُلَیْحَۃَ لِلْجَبِیْنِ مُجَنْدَلَا
’’تیرے دونوں ہاتھوں نے بڑی تیزی سے اس پر نیزہ چھبا دیا اور تو نے طلیحہ کو پیشانی کے بل تڑپتا چھوڑ دیا۔‘‘
وَشَدَدْتَ شِدَّۃَ بَاسِلٍ فَکَشَفْتَہُمْ بِالْحَقِّ اِذَا یَہْوَوْنَ أَخْوَلَ أَخْوَلاَ
’’اور ایک طاقت ور بہادر کی طرح تو نے ان پر حملہ کیا اور ان کی سچائی کو کھول دیا، جب کہ وہ لوگ ادھر ادھر منتشر ہو کر جائے پناہ ڈھونڈ رہے تھے۔‘‘
وَ عَلَلْتَ سَیْفَکَ بِالدِّمَائِ وَ لَمْ تَکُنْ لِتَرُدَّہُ حَرَّانَ حَتَّی یَنْہَلَا (البدایۃ والنہایۃ: جلد 3 صفحہ 379)۔
’’تو نے خون میں اپنی تلوار کو رنگ دیا، اس حال میں کہ تو اسے پیاسی نہیں لوٹا سکتا تھا جب تک کہ دونوں ایک گھاٹ کا پانی نہ پی لیں۔