سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ بنونضیر میں - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ بنونضیر میں

  علی محمد محمد الصلابی

محقق مؤرخین کا خیال ہے کہ غزوۂ بنونضیر، غزوۂ احد کے بعد ربیع الاول 4ھ میں ہوا، اور امام ابن القیمؒ نے محمد بن شہاب زہری وغیرہ مؤرخین کے اس قول کی تردید کی ہے کہ غزوۂ بنونضیر غزوۂ بدر کے چھ مہینے بعد ہوا، آپ فرماتے ہیں: یہ ان کا وہم ہے، یا ان کی طرف غلط نسبت کر دی گئی ہے، صحیح بات یہ ہے کہ غزوۂ بنونضیر، غزوۂ احد ہی کے بعد ہے۔ غزوۂ بدر کے بعد جو غزوہ ہے وہ غزوۂ بنوقینقاع ہے، اور پھر غزوۂ بنوقریظہ غزوۂ خندق کے بعد اور غزوۂ خیبر غزوۂ حدیبیہ کے بعد ہے۔ (زاد المعاد: جلد 3 صفحہ 249)۔

 ابن العربی اور ابن کثیر کی بھی یہی رائے ہے۔

(أحکام القرآن: ابن العربی: جلد 4 صفحہ 1765، حدیث القرآن عن الغزوات: جلد 1 صفحہ 245)۔

 اس غزوہ میں دوران محاصرہ ایک رات حضرت علیؓ صحابہؓ کو نظر نہ آئے تو آپ ﷺ نے بتایا کہ وہ تمھارے لیے ہی کسی کام پر گئے ہیں، پھر کچھ ہی دیر میں تن سے جدا ایک سر لے کر آئے، آپ اس کی گھات میں لگے تھے وہ یہودیوں کی ایک جماعت کے ساتھ مسلمانو ں کو دھوکا سے قتل کرنے نکلا تھا، وہ کافی بہادر اور بہترین تیر انداز تھا، حضرت علیؓ نے اس پر اپنی گرفت مضبوط کی اور اسے قتل کردیا، پھر دوسرے یہودی وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

(متاع الأسماع: المقریزی: جلد 1 صفحہ 180)۔