پروفیسر صاحب نے جو روایت پیش کی ہے کہ دایاں ہاتھ چہرے کے لیے اور بایاں ہاتھ استنجے کے لیے ہے اس پر عمل تو شیعہ حضرات کا بھی نہیں ہے۔
اس لیے کہ وہ بھی وضو میں دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں ہاتھ استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر روایت گزری کہ چہرہ دھوتے وقت بائیں ہاتھ سے مدد لے کر چہرہ دھویا۔ اور خود پروفیسر صاحب نے لکھا ہے کہ بائیں ہاتھ سے مسح کرنا جائز ہے۔
اسی طرح ایک روایت یوں ہے:
ثُمَّ أَعَادَ اليُسرَىٰ فِی الإِنَاءِ فَأَفَاضَ لَهَا عَلَىٰ اليُمنَىٰ
(تہذیب الاحکام: جلد1 صفحہ 55، 56 الاستبصار: جلد1 صفحہ58 فروع کافی: جلد 3 صفحہ 24 الکافی: جلد1 صفحہ8)
ترجمہ: پھر بایاں ہاتھ برتن میں ڈال کر پانی لیا، پھر اس کو دائیں ہاتھ پر بہایا۔ اور پھر اس بات پر اتفاق ہے کہ تیمم وضو کا خلیفہ ہے۔ اور جو کوئی آدمی کسی شرعی عذر کی وجہ سے وضو نہیں کر سکتا وہ تیمم کرے۔ اور تیمم اہلِ سنت والجماعت اور شیعہ حضرات دونوں کے نزدیک دونوں ہاتھوں سے کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
فَضَرَبَ النَّبِیﷺ بِكَفَّيهِ الأَرضَ وَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجهَهُ وَكَفَّيه
(بخاری: جلد 1 صفحہ 48 ابو داؤد: جلد1 صفحہ 45)
ترجمہ: پھر نبی کریمﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں کے ساتھ اپنے چہرہ کو اور دونوں ہاتھوں کو ملا۔
اور تیمم میں دونوں ہاتھوں کو زمین پر مار کر چہرے اور ہاتھوں پر ملنے کی روایات تقریباً تمام تفاسیر اور کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔