دروس و عبر - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دروس و عبر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس کے بعد جب ان کی استقامت ثابت ہو گئی تو بعد کی مہمات میں انہوں نے شرکت کی جیسا کہ عنقریب ان شاء اللہ اس کا ذکر آئے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ مؤقف جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں احتیاط پر مبنی تھا تا کہ دنیا دار لوگ شریک ہو کر مجاہدین کی ناکامی اور ان کی صفوں میں خلل اور اختلاف کا سبب نہ بنیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ تربیتی درس ہے جو آپؓ نے نبی کریمﷺ کے قیمتی دروس سے سیکھا تھا کہ اسلامی صف کو ہر طرح کی آلودگی اور عیوب و نقائص سے پاک رکھا جائے اور سب کا ہدف ایک ہو تا کہ یہ عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو اور پھر اس طرح ان خطرناک الٹے نتائج سے محفوظ رہیں جو اہداف کے اختلاف کے سبب رونما ہوتے ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ اس اہم اور بلند ترین اصول کے بڑے حریص رہے، باوجود یہ کہ اسلامی فوج کو اس وقت افراد کی سخت ضرورت تھی، جو اس بات پر آپؓ کی مکمل قناعت کی دلیل ہے کہ اصل اعتبار ہدف کی بلندی اور اخلاص کا ہے، کثرت عدد کا نہیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 131)

لوگوں کے ساتھ نرمی اور عراق کے کسانوں کے سلسلہ میں وصیت: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابوبکرؓ کا یہ کہنا: اہل فارس اور جو اقوام بھی ان کے ملک میں ہوں ان کو اپنے سے ملاؤ.

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 159)

یہ قول جہاد اسلامی کے مقصد کو واضح کرتا ہے۔ اسلامی جہاد دعوتی جہاد ہے جس کا مقصد لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دینا ہے۔ اور جب کافر حکومتوں کی موجودگی میں لوگوں تک اسلامی دعوت پہنچانا ممکن نہ ہو تو پھر ان حکومتوں کا ازالہ ضروری ہے تا کہ ان ممالک کے لوگ اسلام میں داخل ہو سکیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جتنے معرکے کیے ان سب میں یہ مقصد بالکل ظاہر ہے چنانچہ سب سے پہلے وہ دشمنوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرتے اگر وہ قبول کر لیں تو انہیں مسلمانوں کے تمام حقوق حاصل ہوں گے اور تمام ذمہ داریاں عائد ہوں گی اور اگر اسلام قبول کرنے سے انکاری ہوں مگر اسلامی حکومت کو تسلیم کریں تو مسلمانوں کی طرف سے اپنی حفاظت کے عوض جزیہ ادا کریں اور یہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو پھر ان سے اللہ کا کلمہ بلند ہونے تک قتال کرنا ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 130)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلامی فوج کے قائدین کو یہ وصیت کی کہ وہ عراق کے کسانوں اور اہل سواد کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں کیونکہ آپؓ لوگوں کی ہدایت اور اساسیات ثروت کی حفاظت کے بڑے دلدادہ اور حریص تھے آپؓ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عمران و آبادی حکومت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح زراعت ثروت کے مصادر میں سے ہے اور لوگوں کی زندگی اور معیشت سے اس کا گہرا تعلق ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ، 342)

وہ فوج شکست نہیں کھا سکتی جس میں ان جیسے لوگ ہوں: جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عراق جاتے ہوئے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مدد طلب کی تو سیدنا ابوبکرؓ نے سيدنا قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ کو ان کی مدد کے لیے روانہ کیا۔ آپؓ سے کہا گیا: آپؓ نے ایسے شخص، جس کا لشکر بکھر چکا ہے، کی مدد کے لیے صرف ایک شخص کو روانہ کیا ہے؟ تو آپؓ نے فرمایا: وہ فوج شکست نہیں کھا سکتی جن میں ان جیسے لوگ ہوں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163)

 یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فراست تھی جسے بعد میں عراق کے واقعات نے واضح کر دیا۔ سیدنا ابوبکرؓ لوگوں کو اور ان کی طاقتوں اور مختلف صلاحیتوں کو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ جانتے تھے۔(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 129)


صفحہ 2 از 2