واقعہ کربلا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ کربلا

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 3 از 4
سیدنا حسینؓ کے پاس کوفہ والوں نے اپنا وفد بھیجا کہ آپؓ کوفہ آئیے ہم آپؓ کی بیعت کرنے کو تیار ہیں۔ سیدنا حسینؓ نے (کوفہ والوں کی بات پر اعتبار کر کے) وہاں جانے کا ارادہ کر لیا اس پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ان کو اس ارادے سے روکا اور ان کو کوفہ والوں کی پچھلی غداریاں یاد دلائیں کہ کس طرح انہوں نے ان کے والد ماجد سیدنا علیؓ کو شہید کیا تھا اور کس طرح ان کے بھائی سیدنا حسنؓ کو دھوکہ دیا تھا اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے بھی ان کو اس ارادے سے روکنے کی کوشش کی مگر سیدنا حسینؓ نے ان خطرات کو نہیں مانا یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ رونے لگے اور کہا کہ افسوس میرے عزیز! حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے آپؓ سے کہا میں آپؓ کو اللہ تعالٰی کی امان اور حفاظت میں دیتا ہوں ۔ان کے بھائی سیدنا حسنؓ نے اپنی زندگی میں ان سے ایک دفعہ کہا تھا کہ:
"کوفہ کے شریروں سے بچتے رہنا کہ وہ تمہیں دغا دے جائیں اور دشمنوں کے حوالے کر دیں اور اس وقت تم پچھتاؤ جبکہ تمہیں ضرورت کے وقت کوئی پناہ گاہ اور سہارا نہ ملے"
سیدنا حسینؓ کو اپنے قتل کی رات میں اپنے بھائی کی یہ بات یاد آئی اور انہوں نے اپنے بھائی کے لئے دعائے رحمت کی۔
مکہ مکرمہ میں کوئی شحص ایسا نہیں تھا جو سیدنا حسینؓ کے کوفہ جانے پر رنجیدہ نہ ہوا ہو۔
(سیرت حلبیہ: جلد 1 صفحہ 534)
دورانِ سفر آپؓ کی ملاقات عرب کے مشہور شاعر فرزدق سے ہوئی۔ آپؓ نے اس سے عراق کے حالات معلوم کئے تو اس نے کہا کہ حضور سچی بات یہ ہے کہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں مگر تلواریں آپؓ کے مخالفین کے ساتھ ہیں، اس لئے بہتر ہے کہ آپؓ اپنا ارادہ ملتوی کر دیں۔ اس دوران آپؓ کو اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفرؓ کا خط ملا انہوں نے بھی آپؓ کو آگے جانے سے رکنے کے لئے کہا پھر وہ خود بھی آپؓ کے پاس پہنچ گئے اور آپؓ کو آگے جانے سے منع کیا مگر آپؓ آگے بڑھ گئے۔
علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ لکھتے ہیں:
سیدنا حسینؓ کے وہ خیر خواہ جنہوں نے آپؓ کو عراق نہ جانے کا مشورہ دیا، وہ یہ تھے: حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ، حضرت محمد بن علیؓ، حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ، حضرت عبداللہ بن مطیعؓ، حضرت عبد اللہ بن عیاش، جناب يزيد بن الاصمؒ، جناب ابو واقد الليثي
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ کے ان خیر خواہوں کو عراق کے لوگوں پر ہرگز کوئی اعتماد نہ تھا. جس طرح سیدنا علیؓ اپنے پورے دورِ خلافت میں ان کی شکایت کرتے رہے، مدینہ منورہ کے اکثر لوگوں کی بھی یہی رائے تھی کہ سیدنا حسینؓ اگرچہ وہاں نقل مکانی اور عزلت(گوشہ) نشینی کے لئے جا رہے ہیں، لڑنے کے لئے نہیں لیکن یہ لوگ آپؓ کو وہاں کسی طرح امن سے نہ رہنے دیں گے، ان خیر خواہوں میں سے کسی کی زبان سے یہ بات نہ سنی گئی کہ آپؓ جنگ نہ کریں سب یہی کہتے رہے کہ یہ کوفہ کے لوگ آپؓ کو وہاں بلا کر دھوکہ دے رہے ہیں۔
تاہم آپؓ اپنا ارادہ بدلنے کے لئے تیار نہ ہوئے اور عراق کی جانب چل دیئے۔ تاریخ شاہد ہے کہ وہاں پھر وہی کچھ ہوا جس کا اندیشہ ان بزرگوں (بالخصوص آپؓ کے برادرِ اکبر سیدنا حسنؓ) نے کیا تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے آپؓ کو خطوط لکھے اور آپؓ کی مدد و نصرت کے وعدے کئے انہوں نے ہی آپؓ کی حمایت سے ہاتھ اٹھا دیئے اور آپؓ کو اپنے رفقاء کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیا۔ یہ صرف آپؓ کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ عراق کے ان شیعوں نے سیدنا حسنؓ کے ساتھ بھی اسی طرح بدسلوکی کی تھی اور آپؓ کے والد محترم سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی ان کے ہاتھوں بہت زیادہ تکلیف برداشت کرتے رہے۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ (728ھ) شیعہ کی بدعہدی بے وفائی اور مال و زر کی حرص کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"کہ ان لوگوں نے آپؓ کو خطوط لکھے نصرت کے وعدے کئے آپؓ نے ان کی باتوں پر بھروسہ کر کے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو وہاں بھیجا مگر ان لوگوں نے انہیں دھوکہ دیا۔ انہوں نے آخرت کے بجائے دنیا کو ترجیح دی اور دشمنوں کے ساتھ مل کر آپؓ کے خلاف لڑے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ساتھ بھی ان لوگوں نے یہی سلوک کیا حتیٰ کہ آپؓ نے انہیں بددعا دیتے ہوئے کہا: اے اللہ میں تو ان سے تنگ آ گیا ہوں تو ان کو مجھ سے دور کر دے"
وَأَمَّا الشِّيعَةُ فَهُمْ دَائِمًا مَغْلُوبُونَ مَقْهُورُونَ مُنْهَزِمُونَ، وَحُبُّهُمْ لِلدُّنْيَا وَحِرْصُهُمْ عَلَيْهَا ظَاهِرٌ. وَلِهَذَا كَاتَبُوا الْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِمُ ابْنَ عَمِّهِ، ثُمَّ قَدِمَ بِنَفْسِهِ غَدَرُوا بِهِ، وَبَاعُوا الْآخِرَةَ بِالدُّنْيَا، وَأَسْلَمُوهُ إِلَى عَدُّوِهِ، وَقَاتَلُوهُ مَعَ عَدُّوِهِ، فَأَيُّ زُهْدٍ عِنْدَ هَؤُلَاءِ، وَأَيُّ جِهَادٍ عِنْدِهِمْ؟ وَقَدْ ذَاقَ مِنْهُمْ عَلِيُّ [بْنُ أَبِي طَالِبٍ]- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْكَاسَاتِ الْمُرَّةِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، [حَتَّى دَعَا عَلَيْهِمْ] فَقَالَ: اللَّهُمَّ قَدْ سَئِمْتُهُمْ وَسَئِمُونِي، فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْرًا مِنْهُمْ، وَأَبْدِلْهُمْ بِي شَرًّا مِنِّي وَقَدْ كَانُوا يَغُشُّونَهُ وَيُكَاتِبُونَ مَنْ يُحَارِبُهُ، وَيَخُونُونَهُ فِي الْوِلَايَاتِ وَالْأَمْوَالِ.
وَقَدْ ذَاقَ مِنْهُمْ عَلِيُّ [بْنُ أَبِي طَالِبٍ]- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْكَاسَاتِ الْمُرَّةِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، [حَتَّى دَعَا عَلَيْهِمْ] فَقَالَ: اللَّهُمَّ قَدْ سَئِمْتُهُمْ وَسَئِمُونِي، فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْرًا مِنْهُمْ، وَأَبْدِلْهُمْ بِي شَرًّا مِنِّي وَقَدْ كَانُوا يَغُشُّونَهُ وَيُكَاتِبُونَ مَنْ يُحَارِبُهُ، وَيَخُونُونَهُ فِي الْوِلَايَاتِ وَالْأَمْوَالِ.
(منهاج السنۃ جلد 2 صفحہ 91)
صفحہ 3 از 4