واقعہ کربلا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ کربلا

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 4
سیدنا معاویہؓ کی اس پر خلوص دعا کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ انہوں نے یزید کو نا اہل سمجھنے کے باوجود محض بیٹا ہونے کی وجہ سے خلافت کے لئے نامزد کیا تھا تو یہ اتنا بڑا الزام ہے جس کو کسی کے سر تھوپنے کے لئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے۔ کسی شخص کی نیت پر حملہ کرنا اس کی زندگی میں بھی شریعت نے جائز قرار نہیں دیا چہ جائیکہ اس کی وفات کے چودہ سو برس بعد اس ظلم کا ارتکاب کیا جائے۔
کیا سیدنا معاویہؓ نے لوگوں سے یزید کی بیعت زبردستی کروائی؟
شیعہ کی طرف سے دوسرا اعتراض کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے زبردستی، ظلم و تعدی وغیرہ سے اپنے بیٹے کے لیے بیعتِ خلافت حاصل کی تو اس سلسلہ میں اتنی گزارش ہے کہ در حقیقت بیعتِ یزید کا مسئلہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ کے درجہ میں تھا جو سیدنا امیر معاویہؓ کی طرف سے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا اور اس میں معمول کے مطابق اختلافِ رائے بھی ہوا۔ سیدنا امیر معاویہؓ اس دور کے حالات اور سیاسی و ملی مصالح کے پیشِ نظر اپنی رائے کو صحیح سمجھتے تھے۔ پھر اس سلسلہ میں لوگوں پر کوئی جبر و زبردستی نہیں کیا گیا حتیٰ کہ شیعہ مؤرخین، جو سیدنا امیر معاویہؓ کے سخت مخالف و دشمن ہیں، انہوں نے بھی برملا طور پر اپنی تواریخ میں تحریر کیا ہے کہ:
وحج معاویه تلک السنه فتالف القوم ولم يكرههم على البيعۃ۔
مطلب یہ ہے کہ امیر معاویہؓ نے اس سال حج کیا اور قوم کے ساتھ الفت سے پیش آئے اور بیعت (یزید) پر ہرگز کسی کو مجبور نہیں کیا۔
(تاريخ يعقوبي شیعی: صفحہ 229 جلد 2)
لہٰذا شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراضات جو قائم کیے گئے ہیں، ان میں کچھ صداقت نہیں۔ بالکل بے اصل اور بے سروپا من گھڑت ہیں۔
اب آتے ہیں واقعہ کربلا کی طرف
سیدنا حسینؓ کا یزید کی بیعت سے انکار کرنا
سیدنا حسینؓ یزید کے کردار سے سخت نالاں تھے۔ ماہِ رجب 60 ہجری میں سیدنا امیر معاویہؓ کے انتقال کے بعد یزید نے تخت سنبھال لیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس معاملہ میں سب سے زیادہ مخالفت کی آواز سیدنا حسینؓ کی جانب سے اٹھے گی۔ اس نے چاہا کہ سیدنا حسینؓ اس کی بیعت کر لیں مگر وہ اپنی کوشش میں ناکام رہا، اس دوران حضرت عبداللہ بن زبیرؓ مدینہ سے مکہ چلے آئے۔ جب سیدنا حسینؓ کے بھائی محمد بن حنفیہؒ کو معلوم ہوا کہ حضرت حسینؓ بھی مدینہ سے نکل کر جا رہے ہیں تو انہوں نے آپؓ سے کہا کہ آپؓ میرے نزدیک روئے زمین کے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ہیں، آپؓ سے گزارش ہے کہ آپؓ کسی دوسرے شہر میں جانے کے بجائے دیہات یا کسی ویران علاقے چلے جائیں اور وہیں قیام کریں اور پھر وہاں سے حالات کا جائزہ لیں، اگر حالات آپؓ کے موافق ہوں تو پھر کسی شہر چلے جائیں اور اگر کسی شہر جانے کی ہی خواہش رکھتے ہیں تو پھر مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں۔ (البدایہ)
چنانچہ دوسرے دن آپؓ اپنے اہل وعیال کو لے کر مدینہ سے باہر نکلے اور اپنے بھائی محمد بن حنفیہؒ کے مشورہ پر مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، آپؓ نے محمد بن حنفیہؒ کی رائے کی تصویب فرمائی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ راستے میں عبداللہ بن مطیعؓ ملے تو انہوں نے کہا کہ آپؓ بے شک مکہ جائیں مگر کوفہ کبھی نہ جائیں، وہ غدار لوگ ہیں، وہاں کے لوگوں نے آپؓ کے والد کو شہید کیا ہے، پھر انہوں نے آپؓ کے بھائی کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں کیا۔ آپؓ عرب کے سردار ہیں، حرمِ مکہ میں قیام کریں، چنانچہ آپؓ کے مکہ پہنچنے پر لوگ دیوانہ وار آپؓ کے پاس آنے لگے۔ ادھر کوفہ سے بھی آپؓ پر خطوط کا تانتا بندھ گیا کہ آپ جلد کوفہ آئیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے لئے ہماری گردنیں حاضر ہیں، آپ آئیں اور ہمیں سنبھالیں چنانچہ آپؓ نے عراق جانے کا ارادہ کر لیا اور مکہ مکرمہ سے روانہ ہو گئے۔
صحابہ کرامؓ کا سیدنا حسینؓ کو کوفہ جانے سے منع کرنا
شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ (1052ھ) لکھتے ہیں:
"کہ جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو معلوم ہوا کہ سیدنا حسینؓ عراق کا قصد(ارادہ) کر کے نکل پڑے ہیں تو آپؓ ان کے پیچھے گئے، تین دن کی مسافت طے کرنے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے انہیں روکا۔ سیدنا حسینؓ نے کہا کہ میں عراق اس لئے جا رہا ہوں کہ وہاں کے لوگوں نے عہد و پیمان کیا ہے اور مجھے خطوط بھیجیے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ آپؓ کبھی ان کے عہد و پیمان پر بھروسہ نہ کریں اور ان کے خطوط پر التفات نہ کریں، سیدنا حسینؓ نے آپؓ کی بات نہ مانی اور رخصت ہونے لگے تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے آپؓ کو گلے لگا لیا اور بہت روئے۔
(آداب الصالحین: صفحہ 177)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے آپؓ سے کیا کہا اسے دیکھئے! امام ذہبیؒ (748ھ) لکھتے ہیں:
ان أهل العراق قوم مناكير قتلوا أباك وضربوا أخاك وفعلوا وفعلوا
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ 1489)
"آپؓ عراق نہ جائیں، یہ لوگ اچھے کردار کے نہیں ہیں، انہوں نے ہی آپؓ کے والد کو شہید کیا، آپؓ کے بھائی کو مارا اور ان کے ساتھ نہایت نازیبا سلوک کیا تھا"
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بھی آپؓ سے یہی بات فرمائی اور کہا کہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں آپؓ کے بالوں کو پکڑ کر آپ کو روک لیتا کہ آپؓ وہاں نہ جائیں، آپ جن کے پاس جا رہے ہیں پتہ ہے وہ کون لوگ ہیں؟
الى قوم قتلوا أباك وطعنوا أخاك
(المصنف: جلد 15، صفحہ 96 کتاب الفتن)
"آپؓ ایسی قوم کے پاس جا رہے ہیں جنہوں نے آپؓ کے والد کو شہید کر ڈالا اور آپؓ کے بھائی کو نیزے کا وار کر کے زخمی کیا ہے"
آپؓ نے ان سے کہا:
ان أهل العراق قوم غدر فلا تغترن بهم
(البدايہ: جلد 8 صفحہ160)
عراقی لوگ غدار ہیں، ان سے آپؓ دھوکہ نہ کھائیں ( وہ بلا کر آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے اور آپ سے بے وفائی کر جائیں گے)۔
آپؓ کے بھائی محمد بن حنفیہؒ نے بھی آپؓ کی منت سماجت کی کہ وہاں نہ جائیں، یہ لوگ غدار ہیں، آپؓ سے بھی وفا نہ کریں گے اس لیے آپؓ وہاں جانے سے اجتناب برتیں۔
تاہم آپؓ اپنے بھائی کی اس رائے سے متفق نہ ہو سکے اور اپنا ارادہ نہ بدلا تو انہوں نے اپنے بچوں کو روک لیا۔
فأبي الحسين أن يقبل فحبس محمد بن الحنفية ولده فلم يبعث أحدا منهم
(البداية: جلد 8 صفحہ 165)
علامہ علی بن برہان الدین حلبیؒ لکھتے ہیں کہ:
صفحہ 2 از 4