سقیفہ بنی ساعدہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سقیفہ بنی ساعدہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

(الانصار فی العصر الراشدی، حامد محمد الخلیفہ صفحہ، 108 تاریخ الخلفاء للسیوطی: صفحہ، 91)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے متعدد مرتبہ اپنے خطاب میں خلافت سے اعتذار اور اس سے علیحدگی کا مطالبہ کیا۔

فرمایا لوگو! یہ تمہارا معاملہ تمہارے حوالے ہے، تم جس کو چاہو خلافت سونپ دو، میں تم میں سے ایک فرد کی طرح رہوں گا۔

لوگوں نے جواباً عرض کیا سیدنا ابوبکرؓ! خلافت آپؓ کے حصے میں آئی، اس سے ہم خوش ہیں۔ آپؓ تو ثانی اثنین اور رسول اللہﷺ کے یار غار ہیں.

(الخلافۃ الراشدۃ للعمری: صفحہ، 13)

آپؓ نے مسلمانوں کے نفوس کو اپنی خلافت سے متعلق ہر اختلاف اور معارضہ سے پاک کیا اور انہیں قسم دلاتے ہوئے فرمایا لوگو! میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، جو شخص بھی میری بیعت پر نادم ہو وہ اپنے پیروں پر نہ کھڑا ہو۔

اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے، ان کے ہاتھ میں تلوار تھی، آپؓ سے قریب ہوئے، ایک پیر منبر کے زینے پر رکھا اور دوسرا نیچے سنگریزے پر ،اور فرمایا واللہ نہ ہم آپﷺ کو بر طرف کر سکتے ہیں اور نہ برطرفی کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جب آپؓ کو رسول اللہﷺ نے آگے بڑھا دیا ہے تو بھلا آپﷺ کو کون پیچھے کر سکتا ہے۔

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ، 108)

صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی خلافت و ذمہ داری سے بے نیاز نہ تھے بلکہ اس دور کا یہ عام مزاج تھا، کوئی اس کا خوگر اور طلب کرنے والا نہ تھا۔

مذکورہ بالا نصوص کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ اس روح سے خالی نہ تھی۔ بلکہ یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ انصار اسلامی دعوت کے تابناک مستقبل کے انتہائی حریص تھے، اسی لیے ان کو اس وقت تک چین نہ آیا جب تک انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ سے جلدی سے بیعت نہ کر لی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھی اسباب کے پیش نظر بیعت کو قبول کیا۔ ورنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نقطہ نظر ان بہت سے لوگوں کے نقطہ نظر کے برعکس ہے جنہوں نے علمی منہج اور موضوعی فکر کی مخالفت کی ہے بلکہ ان کی تحقیق اس دور کے مزاج و روح اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آرزوؤں اور تمناؤں کے خلاف ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کے خیال کے مطابق سقیفہ بنی ساعدہ کے اجتماع سے مہاجرین و انصار کے درمیان اختلاف ہو گیا

(دیکھیے الاسلام واصول الحکم: محمد عمارہ صفحہ، 71/74)

تو پھر انصار نے قوت و طاقت کے مالک اور مدینہ کے باسی ہونے کے باوجود اس اجتماع کے نتیجہ کو کیسے قبول کر لیا اور کیسے خلافت صدیقی کے تابع ہو کر لشکرِ خلافت میں شمولیت اختیار کی اور پھر خلافت کے استحکام کے لیے علم جہاد لے کر مشرق و مغرب میں اٹھ کھڑے ہوئے؟

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ، 109)

خلافتِ صدیقی کے اوامر کو نافذ کرنے اور مرتدین سے مقابلہ کے لیے انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حرص اور شوق و جذبہ سے حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔ دوسرے مسلمانوں کے علاؤہ انصار میں سے بھی کوئی فرد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے نہ رہا۔ مہاجرین و انصار کے مابین اخوت ان لوگوں کے تخیلات سے بلند تر ہے جو اپنی من گھڑت روایات کے ذریعہ سے ان کے درمیان اختلاف دکھانا چاہتے ہیں۔

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ، 109)


صفحہ 3 از 3