سقیفہ بنی ساعدہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سقیفہ بنی ساعدہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

امام ابنِ العربی مالکیؒ نے بیان کیا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے قریش کے مستحق خلافت ہونے پر رسول اللہﷺ کی اس وصیت سے استدلال لیا جو انصار کے ساتھ خیر کا برتاؤ کرنے اور ان کے نیکو کار کو قبول کرنے اور خطا کار سے درگذر کرنے سے متعلق کی تھی۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انصار پر اس طرح حجت قائم کی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صادقین کہا اور تمہیں مفلحین کا نام دیا۔ آپؓ کا اشارہ اس ارشاد ربانی کی طرف تھا:

لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔

(سورۃ الحشر: آیت نمبر، 8/9)

ترجمہ: (مال فے) ان مہاجرین مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی راست باز لوگ ہیں۔ اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی اور اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں، گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو، (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انصار سے کہا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ ہمارے ساتھ رہو، ہم جہاں بھی ہوں۔ ارشاد ربانی ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ.

(سورۃ التوبہ: آیت نمبر، 119)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقین کے ساتھ رہو۔

اس طرح دیگر درخشاں اقوال اور قوی دلائل کو پیش کیا جس سے انصار نے عبرت حاصل کی اور آپؓ کی اطاعت کو قبول کیا۔

(العواصم من القواصم: صفحہ، 10)

حضرت ابوبکرؓ نے اپنے خطاب میں یہ واضح فرمایا کہ خلافت کے لیے وہی لوگ پیش کیے جا سکتے ہیں کہ عرب جن کی سیادت و قیادت کو قبول کریں اور جن سے استقرار پیدا ہو، اور فتنے رونما نہ ہوں۔ اور اس حقیقت کو واشگاف کیا کہ عرب صرف قریشی مسلمانوں کی قیادت کو تسلیم کر سکتے ہیں، کیونکہ رسول اللہﷺ انھی میں سے ہیں اور پھر ان کے ذہن و دماغ میں قریش کی تعظیم و احترام پہلے سے جاگزیں ہے۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ان روشن کلمات کے ذریعہ سے انصار مطمئن ہو گئے کہ وہ مہاجرین قریش کے معاون و وزراء اور مخلص سپاہی بن کر رہیں گے جس طرح وہ رسول اللہﷺ کے دور میں تھے۔ اس طرح مسلمان متحد ہو گئے اور ان کا شیرازہ منتشر ہونے سے بچ گیا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد، 9 صفحہ، 24)

2: سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت سے بے نیازی اور سب کے پیش نظر وحدت امت:

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جب اپنی بات مکمل کر چکے تو عمر اور حضرت ابو عبیدہؓ کو خلافت کے لیے پیش کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات ناپسند آئی اور بعد میں اس کا اظہار بھی کیا، فرماتے ہیں

مجھے سیدنا ابوبکرؓ کی صرف یہ بات ناپسند آئی، واللہ میری گردن مار دی جائے یہ اس سے بہتر و محبوب ہے کہ میں ایسے لوگوں پر امیر بنوں جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے لوگ ہوں۔

(البخاری: الحدود صفحہ، 683)

چونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ مستحق خلافت ہونے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قناعت و اطمینان حاصل تھا، اس لیے انہوں نے ان سے کہا سیدناابوبکرؓ! ہاتھ بڑھائیں۔ انہوں نے ہاتھ بڑھایا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے آپؓ سے بیعت کی، پھر مہاجرین نے بیعت کی اور پھر انصار نے بیعت کی۔

اور ایک روایت میں ہے حضرت عمرؓ نے کہا اے انصار! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کا حکم فرمایا ہے، تو بتاؤ تم میں سے کون یہ پسند کرے گا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ سے آگے بڑھے؟

انصار نے کہا ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں۔

(مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 21 شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ جلد، 1 صفحہ، 213 رقم: 133)

یہ انتہائی اہم اور قابل غور بات ہے جس کی اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو توفیق بخشی۔ رسول اللہﷺ نے مرض الموت میں اس کا اہتمام فرمایا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت پر مصر رہے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دوسروں کی بہ نسبت حضرت ابوبکرؓ خلافت کے زیادہ مستحق ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کلام غایت درجہ ادب و احترام پر مشتمل اور نفسانی خواہشات سے بالکل پاک ہے اور سیدنا ابوبکرؓ کا خلافت سے زہد اور بے نیازی آپؓ کے اس خطبہ سے نمایاں ہے جس میں قبول خلافت کا عذر و سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا واللہ کبھی میں خلافت کا شوقین و حریص نہ تھا اور نہ کبھی اس کی رغبت مجھے پیدا ہوئی اور نہ کبھی ظاہر یا باطن میں اللہ سے اس کا سوال کیا تھا۔ لیکن مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ اگر اسے قبول نہ کیا تو امت فتنہ میں مبتلا ہو جائے گی۔ میرے لیے اس امارت میں راحت و سکون نہیں، لیکن میں نے بہت بڑی ذمہ داری اٹھا لی ہے جس کی مجھ میں طاقت وقوت نہیں۔ اِلا یہ کہ اللہ تعالیٰ قوت عطا فرمائے۔ میری تمنا ہے کہ میری جگہ کوئی طاقت ور شخص ہوتا۔

(المستدرک: جلد، 3 صفحہ، 66 امام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اور امام ذہبیؒ نے اس سے موافقت کی ہے)

اور آپؓ کا یہ قول بھی ثابت ہے کہ میری خواہش و تمنا ہے کہ کاش میں خلافت ان دونوں سیدنا ابو عبیدہؓ اور سیدنا عمرؓ میں سے کسی ایک کی گردن پر ڈال دیتا اور میں اس کا وزیر ہوتا۔

صفحہ 2 از 3