Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

روایت حدیث

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ کے ہاں روایت حدیث کا بھی عجیب طریق ہے الفاظ حدیث میں کمی بیشی کر لینے کا بھی اختیار دیا گیا ہے اور جس حدیث کو بیٹے سے سنا ہو باپ سے اور جو باپ سے سنی ہو وہ بیٹے سے روایت ہو سکتی ہے یہ بھی اختیار ہے کہ حدیث کے الفاظ یاد نہ ہو تو اول و آخر و درمیان کے کچھ الفاظ لکھ کر حدیث کی روایت کی جائے اور کسی کی کتاب میں کوئی حدیث لکھی ہوئی مل جائے تو صاحبِ کتاب کی طرف سے بغیر دریافت کے روایت کر سکتے ہیں اور جو شخص کوئی حدیث سچ جھوٹ کر دے اس کی روایت قبول کر لینا جائز ہے سچ ہو تو راوی کو ثواب ورنہ مروی کو گناہ ہوگا یہ جملہ امور حدیث زیر سے ثابت ہیں۔

1: المحمدين ابن مسلم قال قلت لی ابی عبدالله اسمع الحديث منك فازيدوا وانقص قال ان تريد معانيه فلا باس به۔ (اصول كافی: صفحہ، 28)

محمد بن مسلم نے کہا میں نے سیدنا جعفر صادقؒ سے دریافت کیا کہ جو حدیث میں نے آپ سے سنی ہو کیا مجھے اس میں کمی بیشی کرنے کا اختیار ہے؟ آپ نے فرمایا اگر معانی مطلوب ہوں تو کوئی حرج نہیں۔

2: ان ابی بصير قال قلت لی ابی عبدالله الحديث اسمعه عنك ارويه عن ابيك واسمعه عن ابيك وارويه عنك قال سواء الا انك ترويه عن ابي احب اليك فقال ابو عبدالله لجميل ما سمعت منی فاروه عن ابيه۔

بصیر نے سیدنا جعفر صادقؒ سے کہا جو حدیث میں نے آپ سے سنی ہو وہ آپ کے والد سے اور جو آپ کے والد سے سنو وہ آپ سے روایت کر سکتا ہوں یا نہیں؟ آپ نے کہا دونوں روایت کرنا یکساں ہے مگر میرے والد سے روایت کرنا بہتر ہے۔

3: عن ابی محبوب عن عبدالله قال قلت لابی عبدالله يجيئنی القوم فيسمعون منی حديثكم فاضجر ولا اقوى قال فاقرء عليهم من اوله حديثا ومن وسطه حديثا ومن اخره حديثا۔ (اصولِ كافی صفحہ، 29)

عبداللہ نے سیدنا جعفر صادقؒ سے کہا میرے پاس لوگ حدیث سننے آتے ہیں اور میں بیان حدیث پر قادر نہیں ہو سکتا آپ نے کہا اول و آخر اور درمیان سے حدیث بیان کر دیا کرو۔

4: عن احمد بن عمر الحلال قال كنت لابی الحسن الرضاء الرجل من اصحابنا يعطينا الكتاب ولا يقول اروه انی يجوز لی ان ارويه عنه قال اذا علمت ان الكتاب له فاروه عنه۔ (اصولِ كافی صفحہ، 29)

احمد بن عمر حلال نے سیدنا رضا سے پوچھا ایک شخص نے میرے احباب سے کوئی کتاب دی ہو اور یہ نہ کہا ہو کہ مجھ سے روایت کرو کیا مجھے اس سے روایت کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟ آپ نے کہا کہ اگر تجھے معلوم ہے کہ کتاب اسی کی ہے تو اس سے روایت کرنا جائز ہے۔

5: انا ابی عبدالله قال قال امير المؤمنين اذا حدثتم بحديث فاسندوه الى الذی حدثكم فان كان حقا فالكم وان كان كذبا فعليه۔

(اصولِ كافی: صفحہ، 29)

سیدنا جعفر صادقؒ نے کہا امیرؓ کا قول ہے کہ جب تم سے حدیث بیان کی گئی ہو تو تم اس کے راوی تک اس کا اسناد پہنچا دو اگر وہ حدیث سچی ہے تمہیں ثواب ہوگا جھوٹی ہو تو اس کا گناہ اسی راوی پر ہوگا۔

اب دیکھیے اسناد حدیث میں اس قدر بے پرواہی کرنا روا ہو تو حدیث کا کیا اعتبار ؟

اصولِ کافی: صفحہ 36 میں رواة حدیث چار قسم کے بیان کیے گئے ہیں

اول منافق، دوم مخطی صادق فی الوہم، سوم مصیب (لیکن حدیث منسوخ بیان کرتا ہے) چہارم مصیب (جو حدیث غیر منسوخ بیان کرتا ہے) پھر جب منافق اور مخطی اشخاص سے بھی روایت ہے حدیث جائز ہے تو حدیث کس طرح معتبر سمجھی جائے گی؟ علاوہ ازیں چونکہ شیعہ مذہب میں تقیہ جائز بلکہ باعث ثواب ہے اس لیے یہ پتہ لگنا مشکل ہے کہ راوی نے حدیث کو سچے دل سے سچ سمجھ کر بیان کیا ہے یا کسی خوف اور مصلحت سے تقیتہ جھوٹ لکھ دیا ہے!