Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

راویان شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

احادیث شیعہ کا بہت بڑا راوی زرارہ بن عین ہے کتاب کافی کی ثلث احادیث اسی کی ہیں اور منجملہ مبشر بالجنہ ہے (رجال کشی: صفحہ، 113) اس کی نسبت سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں: زراره شر من اليهود والنصارىٰ (رجال کشی: صفحہ، 156) خدا کی لعنت ہو زرارہ پر اس نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے یہی زرارہ صاحب ہیں جنہوں نے سیدنا باقر صادقؒ کو بڈھا بے علم کہا جیسا کہ اصولِ کافی: صفحہ 557 میں ہے کہ زرارہ کو امام محمدوح سے ایک مسئلے میں تکرار ہو گئی جب امام نے زرارہ کو تنبیہ کی تو کہنے لگا: شيخ لا علم له بالخصومة اس بڈھے کو خصومت کا علم نہیں ہے۔

رجال کشی کی بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ زرارہ پر امام نے اور امام پر زرارہ نے لعنت کی۔ (معاذ اللہ)

دوسرا راوی ابوبشیر ہے جس نے سیدنا جعفر صادقؒ کو طماع بتایا جس پر کتے نے اس کے منہ میں پیشاب کر دیا سیدنا موسیٰ کاظم کو ناقص کہا (تنقیح :صفحہ، 168)

ایک اور راوی مختار بن ابی عبیدہ ہیں جن کی نسبت سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: كان المختار يكذب على بن الحسين (مختار سیدنا زین العابدینؒ پر جھوٹ باندھا کرتا تھا یعنی ان کے نام پر جھوٹی حدیث وضع کرتا تھا ایک اور راوی حکم بن عینیہ ہے زرارہ نے سیدنا جعفر صادقؒ سے کہا کہ حکیم بن عیینہ نے آپ کے والد سے یہ روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا نماز مغرب مزدلفہ سے ورے پڑھ لے اس پر سیدنا جعفر صادقؒ نے تین بار قسم کھا کر فرمایا: ما قال ابی ھذا قط كذب الحكم ابن عيينه على ابی عليه السلام۔ 

(رجال کشی: صفحہ، 127) 

میرے باپ نے ہرگز نہی فرمایا حکم بن عینیہ نے میرے والد پر جھوٹ باندھا ہے سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں :

كان الحسن عليه السلام كذاب يكذب عليه كان للحسين عليه السلام كذاب يكذب عليه وكان المختار يكذب على علي ابن الحسين عليهما السلام مكان المغيرة ابن سعيد يكذب على ابيه۔

یعنی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے ایک کذاب تھا جو ان پر جھوٹ باندھا کرتا تھا ایسا ہی ایک اور کذاب تھا جو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھتا تھا مختار سیدنا زین العابدینؒ پر جھوٹ باندھا کرتا تھا اور مغیرہ بن سعید میرے والد محمد باقر صادقؒ پر جھوٹ باندھنے والے تھے۔

پھر بتائیے جب ایک ایک امام کے لیے ایک ایک شخص ایسا مقرر تھا جس کی ڈیوٹی امام والا مقام کی طرف سے جھوٹی حدیثیں وضع کر کے لوگوں میں مشتہر کرنے کی تھی چنانچہ سیث حسنینؓ اور سیدنا زین العابدینؒ اور سیدنا محمد باقر صادقؒ تک سیدنا صادقؒ نے ان کذابوں کی تشریح کر دی تو پھر احادیث شیعہ کا اعتبار کیا رہا؟

اور سنیے ابو الحسن رضا کذابین کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

كان بنان يكذب على علی ابن الحسين عليهم السلام فاذاقه الله حرا الحديد، وكان مغيره ابن سعيد يكذب على ابی جعفر عليه السلام فازاقه الله حرا الحديد، وكان محمد ابن بشير يكذب على ابی الحسن موسىٰ عليه السلام فازاقه الله حرا الحديد، وكان ابو الخطاب يكذب على ابی عبدالله عليه السلام فازاقه الله حرا الحديد والذی يكذب على محمد ابن فرات۔

(رجال كشی: صفحہ، 195)

یعنی بنان سیدنا زین العابدینؒ پر جھوٹ باندھا کرتا تھا خدا اسے لوہے گرم کا عذاب چکھائے مغیرہ بن سعید سیدنا باقر صادقؒ پر محمد بن بشیر موسیٰ رضا پر ابو الخطاب سیدنا صادقؒ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے خدا ان کو گرم لوہے کا عذاب چکھائے اور مجھ پر محمد بن فرات جھوٹ باندھا کرتا ہے۔

دیکھیے سیدنا صادقؒ نے تو سیدنا باقر صادقؒ تک ان پر جھوٹ ماننے والوں کی فہرست دی تھی لیکن سیدنا رضا نے اپنے زمانے تک کے کذابوں تک کی تشریح کر دی جو اپنے اپنے وقت کے امام کی طرف سے جھوٹی حدیثیں گھڑ کر لوگوں کو سنایا کرتے تھے پھر بقول شخصے ع۔

ایں خانہ تمام افتاب است

جب تمام رواة کی حالت یہ ہو کہ انہوں نے ائمہ کرام پر جھوٹ باندھے ان کی طرف سے جھوٹی حدیثیں وضع کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے تو پھر احادیث شیعہ کا کیا اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ایسی ایسی احادیث کتبِ شیعہ کافی تہذیب اس استبصار وغیرہ میں بھری پڑی ہیں جو کبھی عقل باور نہیں کر سکتی کہ ائمہ طاہرین نے ایسا کیا ہے (کما مر تفصیلہ)

اب ناظرین خود ہی خیال فرمائیں کہ قرآن تو پہلے ہی سے گم تھا حدیث کا بھی اعتبار جاتا رہا تو مذہبِ شیعہ کی تمام بنیاد ہی متزلزل ہو جاتی ہے یہ سب کچھ سبائی کمیٹی کی کار گزاری ہے کہ جس کو زرارہ، ابوبصیر، مختار، مغیرہ جیسے سرگرم ممبر مل گئے جو کوفہ میں بیٹھ کر ائمہ کرام کی طرف سے حدیثیں گھڑ کر سبائی مذہب کی ترویج کرتے تھے چونکہ شیعہ مذہب میں تنقید رجال کا کوئی سامان نہیں نہ اسناد کا اوپر تک پہنچنا ضروری ہے روایت حدیث کے لیے راوی کا اتنا ہی فرض ہے کہ کسی امام کے ذمے لگا کر روایت سے سبکدوش ہو جائے اس لیے یہ طوفان بدتمیزی برپا ہوگیا تقیہ جھوٹ جزو ایمان سمجھا گیا متعہ کی فضیلت کی حدیثیں بنائی گئیں تعزیہ داری کو باعث نجات تصور کیا گیا۔

وقس علی ھذا