لمحہ فکریہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لمحہ فکریہ

  محمد ظفر اقبال

آخر میں پر نم آنکھوں، سوختہ دل اور لرزتے ہاتھوں کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ مصنف نام و نسب کے نزدیک۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شخصیت اور ان کا کردار اتنا برا ہے اور اس نے بنو امیّہ کی دینی حثیت اور اس کے مقام کو اتنا مجروح کر دیا ہے کی خلیفہ راشد سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ باوجود اموی ہونے کے (مصنف نام و نسب کے نزدیک) بنو امیہ کی دینی حثیت اور مقام میں کوئی اضافہ نہ کر سکے اور مصنف کو اپنے اس بیان کی حقانیت اور صداقت (جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے ہم نے اپنی طرف سے کچھ نہیں بھی نہیں کہا) پر ایسا یقین ہے کہ جو غیر منصف مزاج اور غیر ذی عقل مصنف کے اس کے خلاف اپنے ذہن کے کسی گوشہ میں کوئی شک و شبہہ بھی رکھے تو وہ ان کی اس دعا (یا بدعا) کا مستحق ہے:

بہ ایں بے حاصلاں یا دانشے یا مرگِ ناگا ہے