حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما - ردِ رافضیت | دفاع…

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

یہی عنوان قائم کر کے پروفیسر  نے لکھا کہ حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا کہ آیت میں پاؤں کے مسح کرنے کا حکم آیا ہے۔ نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو اعضاء دھونے اور دو اعضاء کے مسح کرنے کو فرض قرار دیا ہے۔ (صفحہ 52) ہم پہلے فتح الباری: جلد 1 صفحہ213 کے حوالہ سے لکھ چکے ہیں کہ ان کا رجوع ثابت ہے۔ 

پھر یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ أَرجُلكُم کی قرأت کرنے کے باوجود پاؤں کو دھونے کے قائل تھے۔ جیسا کہ وضو سے متعلق ان کی روایات میں ہے: ایک روایت میں ہے:  

إِذَا تَوَضَّأتَ فَخَلِّل أَصَابِعَ يَدَيكَ وَرِجلَيكَ  

(کنز العمال: جلد9 صفحہ182)  

ترجمہ: جب تو وضو کرے تو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کیا کر۔ خلال دھونے میں کیا جاتا ہے، مسح میں نہیں۔ اور ایک اور روایت میں ہے:

وَاجعَل المَاءَ بَينَ أَصَابِعِ يَدَيكَ وَرِجلَيكَ  

(کنز العمال: جلد9 صفحہ184)  

ترجمہ: اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پانی ڈال۔ 

اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ نے وضو کیا تو آخر میں فرمایا: میں نے اسی طرح رسول اللہﷺ کو وضو کرتے دیکھا ہے۔ اس روایت میں ہے کہ انہوں نے پاؤں دھوئے۔  

(صحیح بخاری: جلد1 صفحہ26)