سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کا عراق جانے سے منع کرنا - دفاعِ…

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کا عراق جانے سے منع کرنا

  مولانا اقبال رنگونی

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی آپؓ سے یہی بات فرمائی کہ مکہ مکرمہ نہ چھوڑیے اور آپؓ بیت اللہ سے دور نہ جائیں آپؓ کے والد سیدنا علی المرتضیٰؓ نے مکہ اور مدینہ چھوڑ کر کوفہ کو ترجیح دی مگر آپؓ نے دیکھا ان کے ساتھ کوفہ والوں نے کس قسم کا سلوک کیا تھا، یہاں تک کہ ان کو شہید کر کے چھوڑا آپ کے بھائی سیدنا حسنؓ کو بھی کوفہ والوں نے لوٹا، انہیں قتل کرنا چاہا، آخر زہر دے کر مار ہی ڈالا اب آپؓ کو ان پر ہرگز اعتبار نہیں کرنا چاہیے، نہ ان کی بیعت پر نہ ان کے خطوط اور پیغامات قابلِ اعتماد ہیں۔ اچھا، اگر تم میرا کہنا نہیں مانتے ہو تو کم از کم عورتوں اور بچوں کو ساتھ نہ لے جاؤ، کیونکہ کوفہ والوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔(ایضاً)

آپ نے سیدنا حسینؓ سے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ لوگ آپ کو دھوکہ دیں گے، آپ کو جھٹلائیں گے، آپ کی مخالفت کریں گے، آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے، اور اگر وہ آپ پر حملہ کریں گے تو ان کا حملہ بہت سخت قسم کا ہوگا۔ (تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 202)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے یہ بھی عرض کیا کہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں آپ کے بالوں کو پکڑ کر آپ کو روک لیتا کہ آپ وہاں نہ جائیں آپ جن کے پاس جا رہے ہیں پتہ ہے وہ کون لوگ ہیں:  

إِلَى أَيْنَ تَخْرُجُ؟ إِلَى قَوْمٍ قَتَلُوا أَبَاكَ وَطَعَنُوا أَخَاكَ۔  

(المصنف: جلد 7 صفحہ 477)  

ایسی قوم کے پاس آپ جا رہے ہیں جنہوں نے آپ کے والد کو شہید کر ڈالا، آپ کے بھائی کو نیزے کا وار کر کے زخمی کیا ہے۔

آپؓ نے ان سے کہا:  

إِنَّ أَهْلَ الْعِرَاقِ قَوْمٌ غُدُرٌ فَلَا تَغْتَرَّنَّ بِهِمْ۔  

(البدایہ: جلد 8 صفحہ 160) 

عراقی لوگ غدار ہیں ان سے آپ دھوکہ نہ کھائیں ( وہ بلا کر اپ کو تنہا چھوڑ دیں گے اور آپ سے بے وفائی کر جائیں گے) تاہم سیدنا حسینؓ نے ان سے بھی معذرت کر دی لیکن حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے پھر بھی صبر نہ ہوا، آپ ان کی جان کے بارے میں بہت فکر مند اور پریشان تھے۔ دوسرے دن صبح واپس سیدنا حسینؓ کے پاس آئے اور کہا: اے میرے بھائی میں چاہتا ہوں کہ صبر کر لوں مگر مجھ سے صبر نہیں ہوتا مجھے اس راہ میں آپ کی جان جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ اہلِ عراق دغا باز لوگ ہیں آپ ہرگز ان کے پاس نہ جائیں۔ آپ مکہ میں ہی رہیں آپ اہلِ حجاز کے سردار ہیں اگر اہلِ عراق آپ کو بلا رہے ہیں تو انہیں لکھیں کہ وہ پہلے اپنے دشمن سے پیچھا چھڑا لیں، اس کے بعد آپ جائیں اگر آپ مکہ سے جانا ہی چاہتے ہیں تو کوفہ نہ جائیں یمن چلے جائیں۔  

(تاریخِ طبری: جلد 4 صفحہ 203)