درس و عبرت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

درس و عبرت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

جب میرا یہ خط تمہیں پہنچے تو اپنے شہسواروں اور پیادہ فوج کے ساتھ ان خواتین تک پہنچو اور ان کے ہاتھ کاٹ دو۔ اگر کوئی اس راستے میں تمہارے سامنے آئے تو اسے موقع دے کر حجت قائم کرو اور جس عظیم گناہ اور عدوان میں وہ شریک ہوا، اس کو بتا دو۔ اگر وہ باز آ جائے تو ٹھیک ورنہ اس سے اعلان جنگ کرو، اللہ خائنوں کی چال کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کرتا۔

جب سیدنا مہاجر رضی اللہ عنہ نے یہ خط پڑھا تو اپنے شہسواروں اور پیادہ فوج کو جمع کیا اور اپنی مہم پر ان فاحشہ خواتین کی طرف نکل پڑے۔ کندہ اور حضر موت کے کچھ لوگ آڑے آئے ان کو اپنے مؤقف سے باز آنے کا موقع دیا لیکن وہ لڑنے کے لیے ڈٹ گئے۔ آپؓ نے ان سے قتال کیا اور شکست فاش دی اور پھر ان خواتین کو گرفتار کیا، ان کے ہاتھ کاٹ دیے، ان میں سے اکثر مر گئیں اور بعض کوفہ کی طرف بھاگ گئیں۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 184)

ان کو اسلام کے محکمہ عدل سے سزا مل گئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عامل نے ان کو گرفتار کیا اور ڈاکہ زنی کی حد جاری کی۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 119)

خلیفہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضر موت میں دو عورتوں نے رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کی ہجو میں گانا گایا ہے۔ حالانکہ حضرت مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سزا دی تھی اور اس کی پاداش میں ان کے ہاتھ کاٹ دیے تھے اور ان کے دانت نکال دیے تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ اس سزا سے راضی نہ ہوئے اور اس کو ہلکا تصور کیا اور اس سلسلہ میں ان کو خط روانہ کیا، اس میں اس خاتون کے بارے میں فرمایا جس نے رسالت مآبﷺ پر سب و شتم کے ساتھ راگ الاپے تھے: مجھے اس کی خبر ملی ہے جو تم نے اس خاتون کے بارے میں اختیار کیا ہے، جس نے رسول اللہﷺ پر سب و شتم کرتے ہوئے گانے گائے ہیں۔ اگر تم اس سلسلہ میں سبقت نہ کر جاتے تو میں اس کو قتل کرنے کا حکم دیتا کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے حدود عام حدود کی طرح نہیں ہیں۔ جو مسلمان اس کا ارتکاب کرے وہ مرتد ہے اور جو معاہد ارتکاب کرے وہ محارب اور غدار ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 157)

اور دوسری خاتون کے بارے میں فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے اس خاتون کے ہاتھ کاٹ دیے اور دانت نکال دیے ہیں، جس نے مسلمانوں کی ہجو میں گانا گایا ہے۔ اگر وہ مدعیان اسلام میں سے ہے تو اسے ادب سکھاؤ اور مثلہ کیے بغیر قتل کر دو، اور اگر ذمیہ ہے تو شرک واللہ سب سے بڑا گناہ ہے اگر اس سلسلہ میں میں پہل کیا ہوتا تو تم ناپسندیدہ چیز پاتے، وقار کو اختیار کرو، قصاص کے علاؤہ مثلہ کرنے سے بچو، یہ گناہ ہے اور نفرت دلانے والی چیز ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 157)


صفحہ 2 از 2