یزید کی ولی عہدی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یزید کی ولی عہدی

  مولانا محمد نافع

صفحہ 2 از 2

سیدنا معاویہؓ کی اس پر خلوص دعا کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ انہوں نے یزید کو نااہل سمجھنے کے باوجود مخلص دین ہونے کی وجہ سے خلافت کے لئے نامزد کیا تھا تو اتنا بڑا الزام ہے جس کو کسی کے سر تھوپنے کے لئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے کسی شخص کی نیت پر حملہ کرنا زندگی میں بھی شریعت نے جائز قرار نہیں دیا چہ جائیکہ اس کی وفات کے چودہ سو (1400) برس بعد اس ظلم کا ارتکاب کیا جائے۔

کیا سیدنا معاویہؓ نے لوگوں سے یزید کی بیعت زبردستی کروائی؟

شیعہ کی طرف سے دوسرا اعتراض کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے زبردستی و ظلم و تعدی وغیرہ سے اپنے بیٹے کے لیے بیعت خلافت حاصل کی تو اس سلسلہ میں اتنی گزارش ہے کہ درحقیقت بیعت یزید کا مسئلہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ کے درجہ میں تھا جو سیدنا امیر معاویہؓ کی طرف سے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا اور اس میں معمول کے مطابق اختلاف رائے بھی ہوا سیدنا امیر معاویہؓ اس دور کے حالات اور سیاسی و ملی مصالح کے پیش نظر اپنی رائے کو صحیح سمجھتے تھے پھر اس سلسلہ میں لوگوں پر کوئی جبر و زبردستی نہیں کیا گیا حتیٰ کہ شیعہ مؤرخین جو سیدنا امیر معاویہؓ کے سخت مخالف و دشمن ہیں انہوں نے بھی برملا طور پر اپنی تواریخ میں تحریر کیا ہے کہ"وحج معاویهؓ تلک السنه فتالف القوم ولم يكرههم على البيعت"

مطلب یہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے اس سال حج کیا اور قوم کے ساتھ اُلفت سے پیش آئے اور بیعت (یزید) پر ہرگز کسی کو مجبور نہیں کیا۔

( تاريخ يعقوبي لاحمد بن يعقوب الكاتب المعروف یعقوبی اشیعی صفحہ 329 جلد 2)۔

لہٰذا شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراضات جو قائم کیے گئے ہیں ان میں کچھ صداقت نہیں بالکل بے اصل اور بے سروپا من گھڑت ہیں 

خلاصہ کلام:

(مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی رائے بھی یہی ہے کہ) یزید پہلے فاسق نہیں تھا بلکہ بعد میں ہوا چنانچہ سیدنا امیر معاویہؓ نے یزید کی اس صلاحیت کی بنا پر اس کو اپنا ولی عہد منتخب کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا نیز یہ چیز بھی مسلمات میں سے ہے کہ متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شیرازہ امت کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے یزید کی حکومت کو تسلیم کرلیا تھا یہ بیعت اس لیے نہ تھی کہ وہ یزید کو ہر طرح سے حق دار خلافت سمجھتے تھے بلکہ اس لیے کہ امت مسلمہ میں خوں ریزی نہ ہو اور جس طرح بھی بن پڑے مسلمان ایک جھنڈے کے نیچے مجتمع رہیں یزید کی حکومت کو تسلیم کرنا اس شرط کے ساتھ تھا کہ ان کی اللہ اور رسول اللہﷺ‎ سے بیعت برقرار رہے گی اور وہ حکومت کی کسی ایسی بات کو ہرگز نہیں مانیں گے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ‎ کے خلاف ہو۔ 

"بايعنا هذا الرجل على بيعة الله ورسولهﷺ"‎(بخاری)

مذکورہ بالا اشیاء اس چیز کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس دور میں یزید کے ظاہری اعمال و احوال عموماً اس درجہ کے نہ تھے کہ اس کی مخالفت ضروری ہو اور اسلام کے خلاف اس کا کردار نہیں تھا سیدنا امیر معاویہؓ نے جس دور میں اس کا انتخاب کیا یا اس کی نامزدگی کی تو اس میں اہلیت سمجھ کر ہی ایسا کیا گیا تھا آئیندہ کے لیے کسی کو کیا معلوم ہوتا ہے کہ کیا حالات پیش آئیں گے؟

(والغيب عند الله تعالیٰ)



صفحہ 2 از 2