ولایت عہد اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات
علی محمد الصلابیولایت عہد اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات
اوّلاً: یزید کی بیعت کے لیے غورو خوض کی ابتدا
اکثر باحثین یزید بن معاویہ کی بیعت کروانے کی ذمہ داری مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ پر ڈالتے ہیں۔ ان کے نزدیک انہوں نے ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کی وفات کے بعد یزید کو خلیفہ بنانے کی تجویز دی تھی اور یہ کہ وہ اہل کوفہ کو اس پر آمادہ کریں گے کہ وہ یزید کی ولی عہدی کو قبول کر لیں۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت لگانے والے اپنے اس دعویٰ کی دلیل کے طور پر اس روایت کو پیش کرتے ہیں جسے بعض قدیم مصادر نے وارد کیا ہے اور جس میں بتایا گیا ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے انہیں کوفہ کی ولایت سے معزول کر دیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی جگہ سعید بن العاص کو کوفہ کا گورنر متعین کرنا چاہتے تھے مگر مغیرہ رضی اللہ عنہ اس کے لیے آمادہ نہیں تھے وہ دوبارہ کوفہ کی امارت کے متمنی تھے۔ وہ یہاں سے اٹھ کر یزید کے پاس گئے اور اس کے سامنے اسے خلیفہ بنانے کی اپنی تجویز رکھی۔ یزید نے اس کی خبر اپنے باپ کو دی تو انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلا کر انہیں کوفہ کا دوبارہ والی بنا کر واپس جانے اور یزید کی بیعت کے لیے کام کرنے کا حکم دیا۔
(الاشراف فی منازل الاشراف: ابن ابی دنیا: صفحہ 121۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 220۔ اس کی سند بہت زیادہ ضعیف ہے۔ تاریخ ذہبی: صفحہ 272۔ اس کی سند بہت زیادہ ضعیف ہے۔)
مگر اس کی تمام سندیں کمزور ہیں جس کی بناء پر ہم کسی بھی صورت اس روایت کو قبول کرنے سے قاصر ہیں، پھر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں اور ان کی یزید کی ولی عہدی کی تجویز سے قبل ہی 50ھ میں وفات ہو گئی تھی۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 150)
یہ تجویز عراق پر زیاد بن ابیہ کی ولایت کے دوران منظر عام پر آئی، مؤرخ طبری نے اس امر کی صراحت کی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کا مطالبہ 56ھ میں کیا تھا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 219۔ ملاحظہ فرمائیں: مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید بن معاویہ: صفحہ 74، 87)
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے قبل یہ تجویز پیش کی تھی تو اسے عملی جامہ پہنانے میں اتنے سالوں کی تاخیر کیوں ہوئی؟
(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید بن معاویہ: صفحہ 87)