حضرات! رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اِنِّی تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَلَيْنِ كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِی الخ۔
ترجمہ: میں تم میں کتاب اللہ اور اپنے اہلِ بیتؓ کو پیچھے چھوڑ رہا ہوں یہ دونوں حوضِ کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی۔
تو ہمارے نزدیک اہلِ بیتؓ کے ائمہ معصومین مسلمانوں کی امامت و ہدایت کے لیے ہر زمانہ اور ہر وقت میں موجود ہیں خدا کی زمین امامِ ضامن حجۃ اللہ سے قیامت تک خالی نہیں ہو سکتی۔ تو جب تک اہلِ بیتؓ موجود ہیں، قرآن کتابِ اللہ بھی ان کے ساتھ ضرور موجود ہو گی لہٰذا جب ہمارے نزدیک ائمہ اہلِ بیتؓ موجود ہیں، وہ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن کامل و مکمل اہلِ بیتؓ کی طرح موجود ہے۔
2: شیخ صدوق نے رسالہ اعتقادیہ کے صفحہ 75 پر فرمایا ہے: ان روایاتِ تحریف کا اعتبار کریں تو قرآن سے اعتبار اٹھ جاتا ہے، لہٰذا یہ روایاتِ تحریف مردود ہیں تو ہمارا اعتقاد یہی ہے کہ تحریف کی روایات ضعیف ہیں اور ہم قرآن کو اہلِ بیتؓ کی طرح اس زمین پر موجود اور کامل یقین کرتے ہیں مولوی عبد الستار ان ضعیف روایات کو دیکھ کر مغالطے میں مبتلا ہے اور کہتا ہے تم قرآن کو محرف مانتے ہو اور ہم سے بار بار مطالبہ کرتا ہے کہ تم اپنا ایمان قرآن پر ثابت کرو اور کوئی ایک روایت کسی امامِ معصوم کی عدمِ تحریف کے متعلق دکھاؤ حالانکہ میں کئی روایات دکھا چکا ہوں۔