مناظر شیعہ - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر شیعہ

  مولانا عبدالستار تونسوی

حضرات! مولوی عبد الستار بار بار کہتا ہے کہ امامِ معصوم کا قول پیش کرو دیکھیے میں امامِ معصوم کا قول پیش کرتا ہوں۔

فروعِ کافی جلد سوم، کتاب الروضۃ صفحہ 26 پر ہے: اَقَامُوْا حُرُوْفَہٗ وَ حَرَّفُوْا حُدُوْدَہٗ۔ 

ترجمہ: جامعینِ قرآن نے حروف کو قائم رکھا اور اس کے حدود کو محرف کر دیا۔  

یہ ہمارے سیدنا محمد باقرؒ کا قول ہے اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ قرآن کے حروف میں کوئی کمی و بیشی نہیں کی گئی، صرف احکام و معانی میں تحریف کی گئی اور امام کے اس قول کے ہوتے ہوئے باقی روایات ضعیف ہیں۔

اور ہماری تفسیر صافی کے صفحہ 14 پر مرقوم ہے:  

اَلصَّحِيْحُ مِنْ مَذْھَبِ اَصْحَابِنَا خِلَافُہٗ۔ 

ترجمہ: صحیح مذہب ہمارے اصحاب کا اس کے خلاف یعنی تحریف کے خلاف ہے۔

دیکھیے! صاحبِ تفسیر صافی لکھ رہے ہیں کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی اور آگے اس کی دلیل بھی صاحبِ تفسیر صافی نے پیش کی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآن کی حفاظت اور قرأت اور جمع کرنے کا کتنا زبردست اہتمام کیا۔ جس چیز کا اتنا زبردست اہتمام کیا جائے، کیا وہ چیز بھی محرف اور غلط ہو سکتی ہے؟

دیکھیے مولوی عبد الستار صاحب! اگر ہمارا قرآن پر ایمان نہ ہوتا تو یہ ہمارے بزرگ اس طرح کیوں لکھتے؟