فَالظَّاهِرُ مِنْ ثِقَةِ الْإِسْلَامِ اس عبارت کا مطلب ہے کہ ظاہر بین علماء کا یہی خیال ہے کہ محمد بن یعقوب کلینی وغیرہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں ورنہ ہمارے محققین علماء تحریف کے قائل نہیں ظاہر بین اور ہوتے ہیں اور محققین اور ہوتے ہیں ہمارے محققین علماء شیخ صدوق، شریف مرتضیٰ، ابو جعفر طوسی، ابو علی طبرسی، ان چاروں نے تصریح کی ہے کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی لہٰذا ہمارے نزدیک ان محققین کا قول معتبر ہے اور یہی شیعہ کے نزدیک صحیح ہے اور باقی غلط ہے۔
بے چارہ شیعہ مناظر انہی مذکورہ بالا اپنے چار مولویوں کے اقوال دہراتا رہا، مگر کسی امامِ معصوم کا کوئی واضح قول عدمِ تحریف کے متعلق پیش نہ کر سکا جب کہ دوسری طرف سے مناظرِ اہلِ سنت مناظرِ تونسویؒ نے شیعہ کی معتبر کتابوں سے ائمہ معصوم کے تحریف ثابت کرنے والے اقوال کا انبار لگا دیا اور شیعہ مناظر سے بار بار مطالبہ کیا کہ جس طرح میں نے آپ کی کتابوں سے ائمہ معصومین کے اقوال و احادیث سے تحریف کو ثابت کیا ہے، تم اس قسم کا کوئی ایک معتبر، صحیح اور واضح قول عدمِ تحریف کا بیان کرو مگر بے چارہ شیعہ مناظر نہایت لا جواب اور عاجز ہو کر رہ گیا۔