مناظر شیعہ مولوی اسماعیل - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر شیعہ مولوی اسماعیل

  مولانا عبدالستار تونسوی

یہ دیکھیے میرے ہاتھ میں اہلِ سنت والجماعت کی کتاب نور الانوار ہے اس کے صفحہ نمبر 7 پر لکھا ہے: 

اَمَّا الْكِتَابُ فَهُوَ الْقُرْآنُ الْمُنَزَّلُ عَلَى الرَّسُولِ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْمَكْتُوبُ فِي الْمَصَاحِفِ الْمَنْقُولُ عَنِ النَّقْلِ مُتَوَاتِرًا بِلَا شُبْہَۃٍ۔ 

ترجمہ: بہر حال کتاب اللہ وہ قرآن ہے جو کہ رسول اللہﷺ پر اترا اور مصاحف میں لکھا ہوا ہے اور آنحضرتﷺ سے تواتر کے ساتھ بغیر کسی شک و شبہ کے نقل کیا گیا ہے۔

قرآن کے متواتر ہونے کے ثبوت میں جب شیعی مناظر نے یہ مذکورہ بالا عبارت اہلِ سنت کی کتاب سے پیش کی تو اہلِ سنت و الجماعت کے صدر جناب فاتحِ اعظم مولانا اللہ یار خان صاحبؒ آف چکڑالہ اور مناظرِ اہلِ سنت حضرت علامہ تونسویؒ نے فرمایا کہ مولوی اسماعیل کچھ حواس باختہ ہو رہے ہیں ان کو اپنا مسلک اپنی کتابوں سے ثابت کرنا چاہیے لہٰذا اپنے مذہب کی کتاب سے اپنے اصول کے مطابق ایسی عبارت پیش کریں جس سے قرآنِ مجید کا متواتر ہونا ثابت ہو مگر یہ اپنے اصول اور کتابوں سے قیامت تک موجودہ قرآنِ مجید کا متواتر قطعاً ثابت نہیں کر سکتے حالانکہ ان کے نزدیک قرآن کا محرف ہونا متواتر ہے۔

بے چارہ شیعی مناظر سخت پریشان اور بدحواس ہو گیا اور بہت سا وقت اس عالمِ بدحواسی میں ضائع کرنے کے بعد تقریر شروع کی:  

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 الٓمّٓ ۞ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ الخ۔(سورۃ البقرہ آیت 1، 2)

اللہ تعالیٰ نے تو کھلے الفاظ میں فرمایا کہ قرآنِ مجید میں کوئی شبہ نہیں۔  

حضرات! قرآن متواتر ہے متواتر میں راویوں سے بحث نہیں کی جاتی کافر، یہودی اور مسلمانوں کی جب ایک بڑی جماعت کسی چیز کے متعلق کہہ دے تو اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہوتی۔ جیسے وجودِ مکہ، مدینہ، بغداد، کوفہ وغیرہ۔ کہاں ان کے مخبرین کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے؟ قرآن کا تو تواتر طبقاتی ہے، لہٰذا اس میں بھی راویوں کی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں۔

باقی مولوی عبد الستار صاحبؒ نے جو فصل الخطاب کی روایت پیش کی ہے، اس کے متعلق ہمارے علامہ نقی تفسیر آلاء الرحمٰن کے مقدمہ کے صفحہ 25 پر رقم طراز ہیں کہ فصل الخطاب کی یہ روایت مرسل اور مقطوع ہے، ان کے راویوں کا علم نہیں ہے۔