ہماری مرآۃ العقول میں تواترِ معنوی تو لکھا ہے، مگر قرآن کی کمی و بیشی کے متعلق مولوی عبد السّتار نے اپنی طرف سے بناوٹ کر کے کہہ دیا ہے وہاں کمی و بیشی کا ثبوت نہیں ہے ہمارے سیدنا علیؓ نے تو فرمایا ہے:
1: فَالْقُرْآنُ خَطٌّ مَسْطُوْرٌ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ۔
ترجمہ: یعنی قرآن دو گتوں کے درمیان لکھا ہوا ہے۔
باقی مولوی عبد الستار صاحبؒ بار بار احتجاجِ طبرسی کی زندیق والی روایت کو پڑھ رہا ہے۔
2: مومنین کرام! زندیق کی روایت بھی کبھی قابلِ اعتبار ہوتی ہے؟
3: باقی سیدنا علیؓ کے قرآن میں جو زیادتی تھی وہ ناسخ و منسوخ اور تفسیری نوٹوں کی تھی، جن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نکال ڈالا۔