سیدنا حسین بن علیؓ
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ حضورِ اکرمﷺ کے دوسرے نواسے، سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے دوسرے صاحبزادے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو بڑے فضائل و کمالات عطا فرمائے ہیں اور امت مسلمہ قیامت تک ان کے ذکرِ خیر سے اپنی آنکھوں کو روشن اور دلوں کو منور کرتے رہیں گے۔
حضرت ام الفضلؓ کا خواب
آپؓ کی پیدائش سے پہلے سیدنا عباسؓ کی اہلیہ ام الفضل لبابہ بنت حارث ہلالیہؓ نے خواب دیکھا کہ حضور اکرمﷺ کے بدن کا ایک حصہ کٹ کر ان کی گود میں آ گرا ہے وہ اس خواب سے سخت پریشان ہوئیں اور آپﷺ کی خدمت میں گھبرائی ہوئی آئیں اور اپنا خواب سنایا حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ اچھا خواب ہے فاطمہؓ کے گھر لڑکا ہوگا اور وہ تمہاری گود میں آئے گا۔
رَاَیْتُ خَیْراً تَلِدُ الْفَاطِمَةَ اِنْ شَاءَاللہ غُلَاماً، فَیَکُونُ فِی حِجْرِکَ
(مستدرک: جلد 3 صفحہ 1194)
اسد الغابہ لابن اثیر کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خواب سیدنا حسینؓ سے متعلق تھا۔
(دیکھیے جلد 2 صفحہ 14)
سیدنا حسینؓ کی ولادت باسعادت
کچھ دنوں کے بعد سیدہ فاطمہؓ کے ہاں سیدنا حسینؓ کی پیدائش ہوئی یہ شعبان 4 ہجری کا واقعہ ہے آپؓ سیدنا حسنؓ سے ایک سال بعد پیدا ہوئے، ایک شیعی روایت کے مطابق سیدنا حسینؓ، سیدنا حسنؓ سے چھ ماہ بعد پیدا ہوئے تھے۔
ولددت فاطمۃ الحسن والحسین و بینھما ستة اشهر
(بحار الانوار: جلد 43 صفحہ 48 ملا باقر مجلسی شیعی)
کوئی فرزند ششماہی متولد نہیں ہوا کہ زندہ رہا ہو بغیر عیسیٰ بن مریم اور حسین بن علی کے۔
(جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 98 مجلسی شیعی)
حضورﷺ کو جب سیدنا علیؓ کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش کی خبر ملی تو آپﷺ تشریف لائے بچے کو دیکھ کر خوش ہوئے ان کے کان میں آذان دی۔(اسد الغابہ: جلد 2 صفحہ 18) اور تحنیک فرمائی۔(الہدایہ: جلد 2 صفحہ 150) نام پوچھا تو کہا حرب فرمایا نہیں اس کا نام حسین ہوگا عمران بن سلیمان کہتے ہیں کہ حسن اور حسین اہلِ جنت کے ناموں میں سے دو نام ہیں، عرب میں اس سے پہلے یہ دو نام نہیں رکھے گئے تھے۔(الذریۃ الطاہرہ: صفحہ68)
مفضل کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دو نام اس سے پہلے ظاہر نہیں کیے تھے (یعنی کسی نے نہیں رکھے تھے) یہاں تک کہ حضور اکرمﷺ نے اپنے دونوں نواسوں کے نام رکھے۔
(تاریخ الخلفاء: صفحہ 144)
آپﷺ نے بچے کا عقیقہ کرنے
(المصنف: جلد 4 صفحہ 331)
اس کے سر کے بال اتار کر اس کے ہم وزن چاندی خیرات کرنے کی ہدایت بھی فرمائی تھی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 166)
بعد ازاں آپؓ کو حضرت ام الفضلؓ کے حوالے کیا گیا اور جب تک آپؓ نے چلنا نہیں سیکھا تھا حضرت ام الفضلؓ آپؓ کو دودھ پلاتی رہیں۔
(دلائل النبوۃ: جلد 6 صفحہ 469 للبیہقی)
مستدرک حاکم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ کو جناب یقطر کی اہلیہ نے بھی دودھ پلانے کا شرف حاصل کیا تھا۔
(طبری: جلد 5 صفحہ 282)
شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی کہتا ہے کہ پیدائش کے بعد آپؓ کو غسل نہیں دیا گیا موصوف لکھتا ہے کہ آپ نے اپنی چچی سے فرمایا کہ:
میرے فرزند کو لے آؤ اس نے کہا یا رسول اللہﷺ میں نے اس کو ابھی غسل نہیں دیا حضورﷺ نے فرمایا کہ تم اس کو غسل دے کر کیا پاک کرو گی خدا نے اس کو پاکیزہ و مطہر کیا ہے۔
(جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 91)
سیدنا حسینؓ کی ولادت سے سیدہ فاطمہؓ خوش نا تھیں معاذاللہ
نوٹ: شیعہ علماء کے ہاں سیدنا حسینؓ کی خوش خبری اور پیدائش کے متعلق سیدہ فاطمہؓ پر کیا گزری تھی اسے ان کی عجیب و غریب روایات میں دیکھیے:
شیعہ کے مرکزی محدث ملا محمد بن یعقوب کلینی 329ھ امام جعفرؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیلؑ حضورﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ آپﷺ کو ایک مولود کی بشارت دیتا ہے جو فاطمہؓ سے پیدا ہو گا اور تمہاری امت اس کو قتل کرے گی یہ سن کر حضورﷺ نے کہا کہ اللہ سے کہو کہ مجھے ایسے بچے کی ضرورت نہیں ہے (یا جبرائیل لا حاجتہ فیہ) حضرت جبرائیلؑ نے یہ بات خدا تک پہنچا دی خدا نے دوبارہ وہی بشارت بھیجی حضورﷺ نے پھر سے وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا تیسری مرتبہ پھر اللہ نے وہی بشارت بھیجی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ خدا اس مولود کی اولاد میں امامت ولایت اور وصیت مقرر کرے گا تو حضورﷺ راضی ہو گئے پھر حضور اکرمﷺ نے یہ بات سیدہ فاطمہؓ کو سنائی سیدہ فاطمہؓ نے یہ سن کر کہا مجھے ایسے بچے کی حاجت نہیں حضورﷺ نے کہا کہ اللہ نے اس بچے کے ساتھ یہ دوسری بشارت بھی دی ہے تب فاطمہؓ اس پر راضی ہوئیں۔
(اصول کافی: جلد 1 صفحہ 680)
(بحارالانوار: جلد 23 صفحہ 272)
ایک اور شیعی روایت میں ہے کہ جب سیدہ فاطمہؓ حاملہ ہوئیں تو ان کو یہ حمل ناپسند لگا اور انہیں ان کی پیدائش اچھی نہیں لگی:
فلما حملت فاطمۃ بالحسین کرھت حمله وحین وضعہ
(الکافی: جلد1صفحہ 679)
(بحار الانوار: جلد 22 صفحہ 266)
حضرت جعفرؒ اس پر کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی عورت ایسی نہیں دیکھی گئی جس کو اپنے بچے کی ولادت ناگوار گزری ہو سوائے سیدہ فاطمہؓ کے کہ ان کو سیدنا حسینؓ کی ولادت ناگوار گزری تھی کہ وہ قتل کیے جائیں گے۔
لم ترا فی الدنیا ام تلد غلاما تکرهہ ولکنھا کرھتہ لما عملت سیقتل (ایضاً)
قرآن کی آیت حَمَلَـتۡهُ اُمُّهٗ كُرۡهًا وَّوَضَعَتۡهُ كُرۡهًا کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت اسی سلسلے میں نازل ہوئی۔
وفیه نزلت ھذہ الآیۃ
(الکافی: جلد 1 صفحہ 679)
قال ابو عبد اللہ (علیہ السلام) ھل رائتم فی الدنیا اما تلد غلاما فتکرھہ و لکنھا کرھتہ
(کامل الزیارات: صفحہ 22 الجعفر بن محمد بن قولویہ)
(قرآن کی آیات میں) والدین سے مراد حسنینؓ ہیں اور وہ جس کا حمل اور وضع حمل از روئے کراہت تھا امام حسینؓ ہیں۔
(جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 939)
سیدنا حسینؓ نے اپنی ماں کا دودھ نہیں پیا تھا (شیعہ علماء)
نیز شیعہ کی حدیث کی مرکزی کتاب اصول کافی کی روایت میں یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ سیدنا حسینؓ نے نا تو اپنی ماں کا دودھ پیا تھا اور نا ہی کسی اور عورت کا۔
حضورﷺ جب اپنا انگوٹھا ان کے منہ میں رکھتے تو وہ ان انگوٹھوں کو چوس لیا کرتے تھے اور یہ ان کو دو تین دن کے لیے کافی ہوجایا کرتا تھا۔
لم یرضع الحسین علیہ السلام من فاطمۃ علیہ السلام ولا من انثی
(بحار الانوار: جلد 2 صفحہ 198)
ہم شیعہ علماء کے ان بیانات سے کسی صورت اتفاق نہیں کرتے کہ سیدہ فاطمہؓ کو سیدنا حسینؓ کی ولادت ناگوار گزری تھی اور انہوں نے اپنی والدہ محترمہ کا دودھ نہیں پیا۔
حیرت کی بات ہے کہ اسی مجلسی نے جلاء العیون میں اس کے خلاف لکھا ہے کہ:
”سوائے اپنی ماں جناب فاطمہؓ کے اور کسی اور عورت کا سیدنا حسنؓ نے دودھ نہیں پیا“
(جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 93 مترجم)
اب اس کا فیصلہ اہل مجلس ہی کریں گے کہ ان دونوں میں سے کون سی بات درست ہے۔
حضرات حسنین کریمینؓ حضورﷺ کے شبیہ تھے
سیدنا حسنؓ حضورﷺ کے چہرہ انور سے بہت مشابہ تھے تو سیدنا حسینؓ حضورﷺ کے جسم مبارک سے مشابہ تھے سیدنا علیؓ اپنے دونوں شہزادوں کا اس طرح نقشہ کھینچتے ہیں ۔
مَنْ سَرّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ النَّاسِ بِرَسُوْلِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ عُنُقِهِ إِلَى وَجْهِهِ وَشَعْرِهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَمَنْ سَرّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ النَّاسِ بِرَسُوْلِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ عُنُقِهِ إِلَى كَعْبهِ خَلْقًا، فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحَسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا۔
(الشریعۃ: جلد 5 صفحہ 2145 للآجری۔ المعجم الکبیر جلد 3، صفحہ 95، للطبرانی)
یعنی جس نے حضورﷺ کے حلیہ مبارک کو سر سے گردن تک دیکھنا ہو تو وہ سیدنا حسنؓ کو دیکھے اور جس نے آپﷺ کے بدن کا باقی حصہ مبارک دیکھنا ہو تو وہ سیدنا حسینؓ کو دیکھے یعنی جس نے حضورﷺ کی ذات والا صفات کو سر سے پیر تک دیکھنا ہو اسے چاہیے کہ وہ ان دونوں شہزادوں کو بیک وقت دیکھ لے۔
