حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 10

2: عقیدہ توحید ائمہ اہلِ بیتؓ سے مروی تعلیم کے مطابق تو چندہ ناقص نہیں جیسے ہم نے اپنے شہرۂ آفاق رسالہ شیعہ حضرات سے ایک سو سوالات میں 10 حوالے دیئے ہیں اور موجودہ شرک کرنے والے شیعوں کو الزام دیا ہے۔ لیکن غالیوں کی روایات مثلاً خدا نے صرف بارہ اماموں کو پیدا کیا پھر کائنات کی تخلیق اور بندوبست، رزق رسانی، مشکل کشائی وغیرہا لاتعداد خدائی صفات و افعال ان کے سپرد کر دیئے اور غالی سبائیوں سیدنا علیؓ کو خدا ماننے والے نصیریوں کی طرح شیخی العقیدہ اکثر شیعہ آج یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور نعرہ یا علی مدد ان کا ایجاد کردہ آج چل رہا ہے صرف شیعہ کی وہابی پارٹی اس کی مخالف ہے۔

3: عقیدۂ رسالت بھی برائے نام ہے جب ہادی عالمینﷺ‏ کے دستِ مبارک پر شیعہ دس افراد بھی مومن مسلمان ہدایت یافتہ نہیں مانتے اور ہرگز نہیں مانتے اور سب رسولوں سے اپنے اماموں کو افضل بتاتے ہیں جو نصِ قطعی کے بالکل خلاف ہے صفاتِ نبوت پر قبضہ کے بعد لفظ نبی اور نبوت بھی انبیاء علیہ السلام کے لیے خاص نہ رہنے دیا گیا مثلاً کافی کتاب الحجۃ میں باب ہے: کہ امام ہر بات میں مثلِ نبی ہوتا ہے مگر اسے نبی کہنا مکروہ ہے۔ نیز امام رضا کا فرمان ہے: ان الامامة هى منزلة الأنبياء (اصولِ کافی جلد 1 باب نادر فی فضل الامام) کہ امامت انبیاء کا درجہ و مرتبہ ہے۔ شیعہ نے گویا زبان زدِ عوام یہ فقرہ کہ شیعہ کے اعتقاد میں حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی بھول کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے نبی کریمﷺ‏ کے پاس لے آئے۔ سچ کر دکھایا ہے۔

4: قیامت میں بعثت، مجازات اعمال کے لیے ہے کہ ہر نیک و بد کو اچھا برا بدلہ ضرور ملے گا۔ مگر شیعوں نے یہ پاکیزہ عقیدہ بھی بگاڑ دیا ہے۔ ان کے پاپی اور گناہ گار ترین افراد کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ شیعہ قطعاً بخشا ہوا ہے۔ حبِّ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور غم کا ایک آنسو نجات میں کافی ہے۔ ان کا مقولہ ہے: 

حب على حسنة لا تضر معها سيئة

ترجمہ: حبِّ حضرت علیؓ وه نیکی ہے کہ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا۔

ظاہر ہے کہ اس عقیدے نے احکامِ شریعت کا خاتمہ کر دیا۔ خوفِ خدا اور تقویٰ کا کوئی معنیٰ ہی باقی نہ رہا۔

5: عقیدہ امامت تو کھلے بندوں ختمِ نبوت پر ڈاکہ ہے۔ جب نبوت کا ایک وصف بھی نہیں جو امام میں نہ پایا جاتا ہو اور امام کی اور امام کے متعلقین کی تعظیم نہ صرف نبی کی اور اس کے متعلقین کی تکریم سے زیادہ ہے بلکہ متعلقینِ نبوت سے اعلانیہ تبرّے ہیں۔ قرآن، تبلیغ، توحید، جہاد، منصبِ تعلیم و تزکیہ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، خلفائے راشدینؓ، اہلِ بیتؓ نبیﷺ‏ ازواجِ مطہراتؓ و بناتِ طاہراتؓ، دامادگانؓ، مسلمان خسران محترمؓ بلکہ پوری امت ہر ایک چیز پر طعن و تبرّا ہے تو شریعت و نبوت کا صفایا کرنے والی امامت کیسے اسلامی عقیدہ بن سکتی ہے جب کہ امام صادقؒ کا فرمان ہے۔  

ان اللہ عزوجل فرض على خلقه خمسا فرخص فى اربع ولم يرخص فى واحدۃ

ترجمہ: کہ اللہ نے اپنی مخلوق پر 5 ارکان فرض کیے ہیں۔ چار (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) میں تو (کرنے نہ کرنے کی) چھٹی دے دی ہے مگر ایک (امامت) میں چھٹی نہیں دی۔

6: رہا شیعہ کا مایہ ناز عقیدہ عدل، تو اس سے بڑا فراڈ اور دھوکہ دنیا میں کوئی نہیں کہ جو امام خدائی کے مالک ہیں ان سے دوسروں نے امامت و خلافت چھین لی۔ پھر خدا نے بھی وعدے کے باوجود ان کی کوئی مدد نہ کی اور سب دنیا غائب امام العصر کی تعلیم و ہدایت سے محروم ہو کر گمراہی پر وفات پا رہی ہے مگر خدا ان کی ہدایت کا بندوبست نہیں کرتا؟

سوال نمبر 862، 863، 864، 865: کا جواب بار بار ہو چکا ہے بے فائدہ لفاظی اور بےہودہ گردان ہے یہ لکھنا بالکل جھوٹ ہے کہ کتبِ فریقین سے صحیح روایات سے ثابت ہے کہ تدفین حضور اقدسﷺ‏ کے وقت سات مرد تھے۔ کاش اصحابِ ثلاثہؓ اپنا نمائندہ باقی چھوڑ جاتے۔ اس جھوٹے کو اتنا معلوم نہیں کہ تدفین منگل کا دن گزار کر رات کو ہوئی جس فعل پر اعتراض ہے وہ صرف پیر کے دن گھنٹہ بھر میں ہو گیا تھا پھر تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ 33 ہزار مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم مرد و زن، قرب و جوار کے دیہاتی لاتعداد جنازہ پڑھنے آئے تھے۔ بیک وقت ایک امام کے پیچھے جنازہ نہ ہوا تھا یہ خصوصیتِ پیغمبرﷺ‏ تھی کہ میت مبارک اپنی جگہ حجرہ سیدہ عائشہؓ میں رکھی رہے اور باری باری آ کر لوگ بصورت درود و دعا جنازہ پڑھیں۔ حجرہ تنگ تھا بمشکل دس آدمی بیک وقت آ سکتے تھے وہ پڑھ کر نکلتے تو دوسرے آ جاتے۔ اس طرح تمام نفری تقریباً دو دن اور ایک رات میں جنازہ سے فارغ ہوئی۔ یہ ساری تفصیلات بحوالہ اصولِ کافی اور ابنِ سعد والبدایہ و النہایہ سے ہم تحفہ امامیہ میں نقل کر چکے ہیں۔

سوال نمبر 866: بھی بغضِ شیخین رضی اللہ عنہما سے یاوہ گوئی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا مصداق نہ تھے کیونکہ ان کے قبائل کی کثرت والی لاٹھی نہ تھی۔ یہ شوکت و طاقت خود رسولِ خداﷺ‏ نے ان کا اعزاز و اکرام کر کے بنا دی تھی۔

سوال نمبر 867: بعض اہلِ سنت کا خیال ہے کہ آل سے مراد امت ہے پھر امت پہ صدقہ کیوں حرام نہیں ہے؟

جواب: آلِ نبیﷺ‏ اور اہلِ بیتِؓ رسولﷺ‏ کے کئی اعتبار ہیں۔ امت تابع داری کے لحاظ سے آلِ رسولﷺ‏ ہے۔ مگر صدقہ کی حرمت صرف خونی رشتےکی وجہ سے ہے۔ شیعہ تفسیرِ قمی جلد 1 صفحہ 105 پر ہے:

عن عمر بن يزيد (؟) قال ابو عبداللہ انتم والله من آل محمد فقلت من أنفسهم جعلت فداك قال نعم والله من أنفسهم ثلاثا ثم نظر الى و نظرت اليه (فقرء هذه الآية)

ترجمہ: عمر بن یزید (؟) کہتے ہیں کہ امام صادقؒ نے فرمایا۔ اللہ کی قسم! تم (اے عمر بن یزید امتیو!) آلِ محمد میں سے ہو۔ میں نے کہا ان کی جانوں میں سے؟ میں آپ پر قربان جاؤں، امام نے فرمایا، اللہ کی قسم (تین مرتبہ) تم ان کی جانوں سے ہو۔ پھر امام نے میری طرف دیکھا، میں نے ان کو دیکھا۔ پھر یہ آیت پڑھ کے سنائی۔

صفحہ 9 از 10