حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 10

سوال نمبر 853: اگر راضی تھیں تو آپ کیوں کہتے ہیں، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بعد وفات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بیعت کی؟

جواب: بیعت دو دفعہ کی تھی۔ پہلی خلافت کے دوسرے یا تیسرے دن ہم حوالے دے چکے، دوسری وفاتِ حضرت فاطمہؓ کے بعد اس لیے کی کہ آپؓ سیدہ کی تیمارداری میں مصروف رہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں کم آ جا سکے۔ لوگوں کے دل میں شبہ پیدا ہو رہا تھا کہ شاید ناراض ہیں۔ وفاتِ سیدہ فاطمہؓ کے بعد اس شبہ کو بھی دور کر دیا۔

سوال نمبر 854: علم و یقین سے فرمائیے کہ سقیفہ کی کاروائی کو غدیر کی کاروائی پر کیوں ترجیح حاصل ہے جو خود رسول اللہﷺ نے کی؟

جواب: خطبہ غدیر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے شکایت کا ازالہ کیا ان کی محبت دلوں میں پیدا فرمائی اپنی طرح ہر کسی کا محبوب بتا کر آپؓ کی شان واضح فرمائی۔ لیکن خلیفہ ہونے کی کوئی صراحت نہ کی نہ خلیفہ نامزد کر کے بیعت لی۔ اگر ایسا ہوتا تو مصلیٰ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو امام بناتے۔ معلوم ہوا کہ سقیفہ اور غدیر کے واقعہ میں تعارض نہیں۔ جانشینی پر صریح دلیل، نماز کا حکمِ نبویﷺ‏ اور سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی ہے۔

سوال نمبر 855، 856، 857: ملل و نحل میں روایت ہے ان عمر ضرب بطن فاطمہ یوم البیعة حتى سقط المحسن من بطنها کیا یہ فعل مذموم نہیں ہے؟

جواب: بکواس محض ہے جو شیعوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بدنام کرنے کے لیے گھڑا مگر حضرات اہلِ بیتؓ کی عزت و غیرت کا جنازہ نکال کے رکھ دیا۔ شہرستانی کی ملل و نحل کا خلافیات اور شیعہ کا باب غور سے دیکھا کہیں بھی یہ ملعون روایت نہیں ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رسولِ خداﷺ‏ ناراض نہ ہوں گے شیعہ پر ہوں گے جو انہوں نے ایسا افتراء ناپاک اہلِ بیتؓ پر باندھا جس کا ترجمہ لکھتے بھی ہمیں حیا آتی ہے۔ رسولِ خدا کو ایذاء بھی شیعوں نے پہنچائی۔ وہ بجا طور پر اس آیت کے حقدار ہیں:

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر لعنت فرمائی ہے دنیا میں اور آخرت میں اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 

جو آیت کی تصدیق کرنا چاہے وہ محرم وغیرہ میں ماتمی شیعوں کی شکلیں دیکھ لے۔

سوال نمبر 858: شراب نوشی کا بہتان۔

جواب: ناقص بلا جلد و صفحہ حوالے جھوٹے بہتان کی دلیل ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو حرمتِ شراب کے لیے بے چین رہتے تھے۔ ان کی دعا اور اصرار پر ہی یہ فیصلہ کن آیت اتری:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۞ (سورۃ المائدة: آیت 90)

ترجمہ: اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا اور بتوں کے تھان گندگی ہیں۔ شیطانی کام ہیں ان سے بچو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔ الآیۃ۔ ترمذی ابواب التفسير جلد 2 صفحہ 152 پر روایت ہے:

سیدنا عمرؓ نے دعا کی اے اللہ شراب کے متعلق بیان شافی نازل فرما تو بقرہ والی آیت اتری جو حضرت عمرؓ کو سنائی گئی۔ پھر یہی دعا کی تو سورۃ نساء والی آیت نازل ہوئی: کہ اے ایمان والو نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر سنائی گئی۔ پھر ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اے اللہ شراب کے متعلق فیصلہ کن بیان نازل فرما تو مائدہ والی آیت اتری کہ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض، شراب اور جوئے کے ذریعے بھر دے جب حضرت عمر فاروقؓ کو پڑھ کے سنائی گئی تو فرمایا ہم رک گئے۔ ہم رک گئے۔ (اب مزید پوچھنے کی ضرورت نہ رہی یا ہمارے پینے والے اب باز آ گئے۔)

سوال نمبر 859: سکندریہ کا کتب خانہ کیوں جلا دیا گیا۔ علوم سے نفرت کیوں؟

جواب: اسلام کو یہودی و عیسائی کفریہ عقائد و روایات سے بچانے کے لیے یہ اقدام کیا۔ دلیل وہی تنبیہہ تھی جو تورات پڑھتے ہوئے حضور اکرمﷺ‏ نے آپ کو فرمائی تھی۔ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہوتے تو میری اتباع کرتے۔ فراستِ فاروقی نے اسلام کا تحفظ کیا۔ ورنہ عہدِ عباسیہ میں یہ یونانی علوم مترجم ہو کر اسلام میں جب داخل ہوئے تو اسی سے گمراہ فرقے اور الحادی خیالات مسلمانوں میں گھس آئے۔

سوال نمبر 860: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور غازی مصطفیٰ کمال پاشا میں موازنہ۔

جواب: دنیوی وقار و سلطنت اور عزت میں آپ برابر کہتے ہیں۔ مگر دین کی شان و شوکت، جہاد، تعلیمی و تبلیغی نظام، امنِ عامہ، رعایا میں خوشحالی میں کمال سے کیا موازنہ؟ وہ بے دین تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مشکوٰۃِ نبوت سے کمالات پا کر دنیائے اسلام کے عظیم فرمانروا تھے جنہیں خود رسول اللہﷺ نے اسلام کی عزت و غلبہ کے لیے خدا سے مانگا تھا۔ (احتجاج طبرسی)

سوال نمبر 861: شیعوں کے اصولِ خمسہ ایمان و عقائد میں کیا نقص ہے؟

جواب: ہم بارہا عرض کر چکے ہیں کہ شیعوں کا ان پر ایمان متصور نہیں ہو سکتا کیونکہ ایمانیات و عقائد خدا اور رسولﷺ‏ کے کلام برکت تمام سے حاصل ہوتے ہیں۔ شیعہ کا نہ قرآن پر ایمان ہے، نہ احادیثِ رسولﷺ‏ پر۔ وہ صرف ائمہ کی روایات مان کر امامیہ کہلاتے ہیں۔ تاہم ان کے کہنے پر ہم چند نقائص بتاتے ہیں:

1: فرمانِ الہٰی ہے: اے مسلمانو! اللہ پر، اس کے رسولﷺ‏ پر، اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسولﷺ‏ پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری ایمان لاؤ جو بھی اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے پیغمبروں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (سورۃ النساء پارہ 5 رکوع 17)

شیعوں نے عقائد میں بھی تحریف کی کہ ان پانچ میں سے فرشتوں اور آسمانی کتابوں کو (بشمول قرآن) نکال دیا اور عقیدہ امامت اور عدل ان میں شامل کر لیا۔ یہ ایجاد بندہ اور بدترین جرم ہے۔

صفحہ 8 از 10