حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 10

سوال نمبر 843: ابنِ حجر مکی رحمۃاللہ نے صواعق محرقہ میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ و حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے صلح نامہ میں یہ شرط بھی لکھی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے بعد خلیفہ نامزد کرنے کا حق نہ ہو گا۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے اس شرط کی عہد شکنی کیوں کی؟

جواب: 1: یہ شرط عام مستند تاریخوں میں نہیں تو شیعہ کی اور تنہا ابنِ حجر مکیؒ کی بات تسلیم نہیں۔

2: حضرت امیرِ معاویہؓ نے یزید کو از خود نامزد نہیں کیا بلکہ دیگر گونروں اور کابینہ نے خون ریزی سے بچنے کے لیے یہ رائے دی اور نامزد کرایا تو حضرت امیرِ معاویہؓ نے متوقع اختلاف کو ختم کرنے کے لیے پھر ذاتی دلچسپی لی اور امامیہ کو تو اس اعتراض کا حق نہیں وہ تو باپ کے بعد بیٹے کو ہی نامزد کراتے اور مانتے ہیں۔ ملوکیت کا بانی تو عقیدہ امامت شیعہ ہے۔

سوال نمبر 844: کیا وہ خلیفہ ہو سکتا ہے جو ایمانوں کی خرید و فروخت کرے؟

جواب: غلط تعبیر ہے۔ ہم حضرت امیرِ معاویہؓ کو ایسا نہیں مان سکتے۔

سوال نمبر 845: اگر خلفاءِ ثلاثہؓ کو حضرت علیؓ سے محبت تھی تو باوجود ولایتِ سیدنا علیؓ کے اقرار کے انہوں نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانے کی کوشش کیوں نہ کی؟

جواب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے دوسرے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیش کش کی مگر حضرت علی المرتضیٰؓ نے آپؓ کو ہی مسحق ترین کہ کر پیش کش واپس کر دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپؓ کو چھ حضرات کی کمیٹی میں نامزد کیا۔ پھر حضرت عثمانؓ بہت بڑی اکثریت سے خلیفہ قرار پائے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی المرتضیٰؓ وزیر اور مقرب خاص تھے۔ اسی تقرب کی بناء پر آپؓ بعد از سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور خلفاءِ ثلاثہؓ کے تعلقات بہت بہترین رہے۔ تفصیل تحفہ امامیہ میں دیکھیں۔ الغرض خلفاء نے ولایتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حق ادا کر دیا۔ ان کو تو شکایت نہ تھی مدعی سست گواه چست؟ اب خلفاءِ ثلاثہؓ پر کیچڑ اچھال رہا ہے۔

سوال نمبر 846: امر تدبیر حکومت کو تجہیز و تکفین ہو جانے تک ملتوی کیوں نہ رکھا گیا؟

جواب: انصارؓ مسئلہ نہ اٹھاتے تو مہاجرینؓ ایسا ہی کرتے۔ اب اگر چند گھڑیاں قبل یہ کام ہو گیا اور عنداللہ صواب اور درستی اسی میں تھی اور تجہیز و تکفین کی رسوم خلیفہ کی نگرانی میں سلیقہ شعاری کے ساتھ بلا اختلاف سرانجام پائیں تو اس میں کیا اعتراض کی بات ہے جو دہائی دی جا رہی ہے۔

سوال نمبر 847: ان حضرات نے حضرت علیؓ کو کیوں خبر نہ کی کہ ہم معاملہ حکومت کے لیے فلاں جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں؟

جواب: انصار رضی اللہ عنہم کا تو ذہن ہی ادھر نہیں گیا۔ مہاجرینؓ کے تین حضرات تو صرف رفع نزاع کے لیے فوراً گئے ان کو یہ تصور بھی نہ تھا کہ انتخاب کی نوبت آ جائے گی۔ پھر معاملہ کی نزاکت اتنی فرصت نہ دے سکتی تھی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یا دیگر مہاجرینؓ سے مشورہ کرتے یا باقاعدہ اطلاع دے کر ان کو ساتھ لے جاتے تو امنِ عامہ کا مسئلہ پیدا ہو جاتا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بقولِ شیعہ غیب دان تھے۔ ان کو از خود پہنچ جانا چاہیے تھا۔ جنازہ کی تیاری چند گھڑیاں بعد ہو جاتی تو کیا فرق پڑتا۔ آپ کو اپنا حق تو (بقولِ شیعہ) مل جاتا اور امت گمراہی سے بچ جاتی۔ عقل مندی اور اصولِ سیاست کی رو سے حضرت علی المرتضیٰؓ بھی الزام سے بچ نہیں سکتے۔ تفصیلات ہم عرض کر چکے ہیں۔

سوال نمبر 848: کا جواب بھی ہو گیا کہ مشورہ کا موقع نہ تھا۔

سوال نمبر 849: اگر حضرت علی المرتضیٰؓ نوجوان تھے تو عمِ رسول کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔

جواب: وہ سابقین اولین میں سے نہ تھے۔ پھر دوسرے دن بیعتِ عامہ میں بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے خود یا کسی نے بھی ان کا نام نہ لیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے بزرگوں اور خدمات و کمالات والوں کو خوب جانتے تھے اگر انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فائق دوسروں کو سمجھا تو ہمیں بن بلائے مشورے دینے کا کیا حق ہے؟

سوال نمبر 850، 851: اصولِ سیاسیات کی رو سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ الیکشن سے خلیفہ بنے یا نامزدگی تھی؟ اگر نامزدگی تھی تو وصیتِ رسولﷺ‏ درکار ہے۔

جواب: عوام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اعتبار سے تو الیکشن تھا۔ ہر کسی نے آزادانہ حق استعمال کیا۔ سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر و سیدنا علی رضی اللہ عنہم نے اجتماع سقیفہ میں نہ بلائے جانے کی شکایت اسی اختیار سے کی۔ مگر خدا و رسولﷺ‏ کے اپنے پروگرام سے ایک گونہ نامزدگی تھی کہ آپ نے پہلے پیشین گوئی میں فرمایا تھا میرے بعد خلافت سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کو ملے گی۔ (تفسیر قمی سورت تحریم) 

خلیفہ کا نام لکھوانے کی ضرورت نہ جانتے ہوئے فرمایا: و یابی اللہ والمؤمنون الا ابابکر (بخاری) اللہ اور مسلمان حضرت ابوبکرؓ کو ہی خلیفہ بنائیں گے۔مسلمانوں کو مشورہ و ترغیب دی تھی۔ میرے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرنا۔ (ترمذی) 

مصلیٰ پر کھڑا کرنا اور امام نماز بنا دینا بھی اسی مقصد کے لیے تھا جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضرت عمرؓ کو حکم دیجیے میرے باپ نرم دل ہیں۔ تو آپﷺ‏ نے فرمایا تم یوسف والیاں ہو۔ سیدنا ابوبکرؓ کہاں ہیں؟ ان کو بلا لاؤ۔ چنانچہ آپؓ نے بحکمِ نبویﷺ‏ حیاتِ پیغمبرﷺ‏ میں 17 یا 21 نمازیں پیغمبرﷺ‏ کے نائب امام ہو کر پڑھائیں۔ دنیا کا دستور ہے کہ زندگی کا ولی عہد بالآخر جانشین منتخب کر لیا جاتا ہے۔

اس کام کے ذو وجہیں ہونے کی حکمت یہ تھی کہ خدا و رسولﷺ‏ کا منشاء بھی پورا ہو اور عوام کو انتخاب کا حق مل جائے اور طریقہ استخلاف بھی معلوم ہو جائے۔ اگر صرف نامزدگی ہوتی کسی کا اختیار و چناؤ نہ ہوتا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہر دلعزیزی سامنے نہ آ سکتی تھی۔ ہر کوئی ماننے پر بحکمِ رسولﷺ‏ مجبور ہوتا مگر اب تو حضرت علیؓ نے بھی کمالات و استحقاق کی بناء پر برضا و رغبت خلیفہ تسلیم کیا۔ (طبری)۔

سوال نمبر 852: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دلی حالت تا وفات شیخینؓ سے کیسی رہی؟

جواب: برضاء مومنانہ رہی کیونکہ نانوں کے خلاف بغض شان کے لائق نہ تھا۔

صفحہ 7 از 10