حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 10

جواب: پتہ چلا کہ حضرت مہدی غائب کو آپ خدا کا شریک کار سمجھتے ہیں مفصل جواب ہم سنی کیوں ہیں؟ کے آخری انعامی سوالوں میں دیکھ لیں۔

سوال نمبر 830: بقول امام شافعیؒ درود کے بغیر نماز نہیں ہوتی مگر مولوی عبدالشکورؒ کے عقیدہ میں ترکِ درود سے نماز باطل نہیں ہوتی۔ صحیح کون ہے؟

جواب: مولانا لکھنوی رحمۃ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ کی ٹکر کے نہیں وہ حنفی المسلک عالمِ دین ہیں اپنے مسلک کے سچے ترجمان ہیں۔ امام شافعیؒ کا اجتہاد اپنا ہے۔

سوال نمبر 831: حدیث ثقلین کتاب اللہ و سنتی، اہلِ سنت کے نزدیک صحیح ہے یا غلط؟

جواب: صحیح ہے تفصیل مولانا محمد نافع کی کتاب حدیث ثقلین میں اور ہماری ہم سنی کیوں ہیں؟میں دیکھیں۔ (حصہ اول)

سوال نمبر 832: اگر صحیح ہے تو علامہ سیوطی ابنِ حبان، ابنِ عبدالبر، ابنِ حجر رحمہم اللہ وغیرہ نے اسے صحیح کیوں تسلیم نہ کیا؟ 

جواب: وہ بھی صحیح مانتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث موطا مالک رحمۃ اللہ کی ہے۔ اس کی تمام احادیث عالی السند اور صحیح و ثقہ ہیں۔ حتیٰ کہ بخاری سے پہلے سب علماء بعد از قرآن اسے اصح ترین کہتے ہیں اور شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ وغیرہ اب بھی موطا کو اصح کہتے ہیں۔ امام ترمذیؒ نے کتاب العلل میں لکھا ہے علی بن عبداللہ نے امام یحییٰ سے مراسیل مالک کے متعلق پوچھا تو فرمایا یہ میرے نزدیک پسندیدہ ہیں۔ قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو مالک سے زیادہ صحیح حدیث رکھتا ہو۔ حنفیہ کے ہاں بھی مراسیل حجت و معتبر ہیں۔ علامہ ابنِ عبدالبرؒ تجرید التمہید صفحہ 251 میں موطا کی حدیث ثقلین کے متعلق لکھتے ہیں اہلِ علم کے ہاں یہ حدیث رسول اللہﷺ سے محفوظ و مشہور ہے۔ اس کی شہرت سند بیان کرنے سے غنی ہے۔ کتاب التمہید میں ہم نے مسنداً بھی ذکر کی ہے۔

سوال نمبر 833: اس حدیث کے راوی کثیر بن عبداللہ کی توثیق کریں۔

جواب: اگرچہ یہ ایک راوی ضعیف ہے مگر لا تعداد طرق ہیں۔ وہ رواۃ موثق ہیں۔

یہ سیرت ابنِ ہشام و ابنِ ابی الدنیا میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے تاریخ ابنِ جریر طبری میں ابنِ ابی نجیح سے، دارِ قطنی صفحہ 529 میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ مستدرک حاکم جلد 1 صفحہ 93 میں حضرت ابنِ عباسؓ سے۔ ابو نعیم اصبہانی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنن الکبریٰ بہیقی جلد 10 صفحہ 114 میں حضرت ابنِ عباسؓ، و سیدنا ابی ہریرہؓ سے موجود ہے۔

سوال نمبر 834: شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے حدیثِ ثقلین شیعہ کو کیوں درست کہا؟

جواب: صرف مسلم کی روایت کے پیشِ نظر کہا۔ لیکن شیعہ کا وہاں سے استدلال درست نہیں۔ کیونکہ ثقلِ دوم کو ثقلِ دوم کے عنوان سے متعارف نہیں کرایا بلکہ مطلقاً حضرات اہلِ بیتؓ کی تذکیر اور نگہبانی کرنی حضرت زیدؓ بن ارقم نے روایت فرمائی۔

سوال نمبر 835: اگر حدیثِ ثقلین اہلِ سنت کو صحیح فرض کیا جائے تو سنتی سے مراد سنتِ رسولﷺ‏ ہے یا سنتِ اصحابِ ثلاثہؓ؟

جواب: اصل تو سنتِ رسولﷺ‏ ہے تبعاً خلفاء راشدینؓ کی سنت بھی اسی میں داخل ہے:

عليكم بسنتی و سنة الخلفاء الراشدین المهديين، عضوا عليها بالنواجذ (مشكوٰة: صفحہ، 28)

ترجمہ: مسلمانو! تم میری اور میرے خلفاء راشدینؓ مہدیوں كی ضرور سنت پر چلو اور اسے ڈاڑھوں سے مضبوط تھامو۔

سوال نمبر 836: اگر سنتِ نبیﷺ‏ مراد ہے تو پھر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے بوقتِ شوریٰ سنت کے ساتھ سیرتِ شیخینؓ کی شرط کیوں عائد کی؟

جواب: مزید اہتمام اور سنتِ رسولﷺ‏ کے مطابق سنتِ خلفاء ثابت کرنے کے لیے شرط لگائی ورنہ متضاد عمل کا پابند کسی کو نہیں بنایا جا سکتا۔

سوال نمبر 837: اجماعِ امت برحق ہے کہ ایک شخص بھی مخالف نہ ہو۔ (شرح وقایہ و کتاب الایمان لابنِ تیمیہؒ: صفحہ، 51) تو حکومت سقیفہ کا اجماع کیسے برحق ہوا؟

جواب: سقیفہ میں سب حاضرین نے بشمول حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیعت کی۔ (طبری) اگلے دن پھر تمام مہاجرین نے حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ سمیت کی۔ کوئی مخالف نہ رہا۔ تو اجماع برحق ہوا۔ (حوالہ جات گزر چکے) صدیقیؓ مباحث دیکھیے۔

سوال نمبر 838، 839: کشف المحجوب میں علمِ شریعت کے تین ارکان بتائے ہیں: کتابِ خدا، سنتِ رسولﷺ‏، اجماعِ امت، جب کتاب و سنت ہدایت کے لیے کافی ہیں تو اجماعِ امت کی کیا ضرورت ہے جو یا دونوں سے مختلف ہو گا یا نئی چیز ہو گا۔ تو بدعت ہو گا۔

جواب: قرآن سے پوچھیے کہ سنتِ رسول کے علاوہ مخالفینِ اجماع کو جہنم کی سزا کیوں سنائی؟ (پارہ 5 رکوع 14) قرآن و سنت کی کوئی مراد متعین ہونے پر بھی اجماع ہو سکتا ہے کسی نئے پیش آمدہ مسئلے پر بھی ہو سکتا ہے۔ اجماع و قیاس کی تفصیل ہم تحفہ امامیہ سوال 13 کے جواب میں کر چکے ہیں چونکہ اہلِ سنت کے تمام مسائل قرآن و سنت پر مبنی ہیں اور سب امت ان پر متفق آ رہی ہے شیعوں کے مسائل قرآن و سنت کے مخالف ہیں امت نے اس بدعتی مذہب کو قبول نہیں کیا تبھی تو آپ اجماعِ امت کو بھی مخالفِ دین بتا رہے ہیں۔ ناکام لومڑی کی مثل انگور کھٹے ہیں۔ آپ پر فٹ آتی ہے۔ اجماع کی حقانیت پر آیات گزر چکی ہیں۔

سوال نمبر 840: علامہ وحید الزمان وجود اجماع کے منکر ہیں۔ کیوں؟

جواب: آخر عمر میں شیعہ ہو گئے تھے۔ بات حجت نہ رہی۔

سوال نمبر 841: اگر کتاب اللہ و سنتی صحیح ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حسبنا کتاب اللہ کہہ کر سنت کا انکار کیوں کیا؟

جواب: تمہارا مفہوم مخالف سے استدلال، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر حجت نہیں وہ عمر بھر سنتِ نبویﷺ‏ سے استفادہ کرتے رہے۔ کچھ مثالیں ہم سنی کیوں ہیں؟ کے انعامی سوال 1 میں دیکھیں۔

سوال نمبر 842: جناب کوثر نیازی نے ذکرِ سیدنا حسینؓ میں کہا ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے یزید کو مسلط کر کے قیصر و کسریٰ کے طریقے پر عمل کیا۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ خلیفہ راشد کیسے ہوا؟

جواب: آپ دوبارہ قے چاٹنے پر آ گئے ہیں۔ نیازی صاحب کی تعبیر حجت نہیں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ خلفاءِ راشدینؓ سے کم درجہ ہیں مگر خلیفہ عادل اور برحق ضرور ہیں۔

صفحہ 6 از 10