حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 10

سوال نمبر 823: اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ذمہ دار ہیں تو سیدنا عکرمہ بن ابوجہل، سیدنا ابوبكر بن ابو قحافہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کے متعلق کیا رائے ہے؟

جواب: اب آپ مان گئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ طعنہ نہ دیا جائے گا کہ وہ کافروں کے بیٹے ہیں۔ جب کفر و ایمان کا ہر کوئی خود ذمہ دار ہے۔ حضرت ابو قحافہ بھی مسلمان ہو گئے تھے۔ تو سب مؤمنین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کفار آباء کے جرم میں نہ ماخوذ ہوں گے، نہ ان کی شان میں کوئی عیب لگتا ہے کہ طعنہ دیا جائے یا حضرت ابو طالب کا کلمہ نہ پڑھنا بتایا جائے تو اسے حضرت علی المرتضیٰؓ کی توہین سمجھا جائے۔

سوال نمبر 824: اگر کرنی اپنی اپنی ہے تو شیعوں پر قتل کی تہمت کیوں معقول ہے؟

جواب: اس کی چند وجوہ ہیں:-

1: شیعہ اولادِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا اہلِ شام پر یہ جھوٹی تہمت لگا دیتے ہیں مجبوراً اصل حقائق سے پردہ اٹھا کر خود شیعوں کا مجرم و قاتل ہونا بتایا جاتا ہے۔

2: یہ عقیدہ و عمل اور رسوم و روایات ان قاتلوں والی ہی رکھتے ہیں جب کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے آباء کے بالکل مخالف دین اور ان سے بیزار ہو چکے تھے۔

3: آج بھی شیعہ دبی زبان میں کہتے ہیں کہ حادثہ شہادت ہونا چاہیے تھا۔ ہوا تو اچھا ہوا۔ اسلام زندہ ہو گیا۔ یزید و حضرت امیرِ معاویہؓ ننگے ہو گئے جب کہ ہم اہلِ سنت کو نوشتۂ تقدیر پر تو اعتراض نہیں مگر بطورِ تمنا یہ کہتے ہیں۔ کاش اہلِ کوفہ آپؓ کو نہ بلاتے یا آپؓ ان کی دعوت پر نہ جاتے۔ یا حسبِ منشاء آپؓ کو کوفی واپس آنے دیتے اور آپؓ خاندان سمیت بچ جاتے اور حضرت حسنؓ کی طرح معاہدہ کر کے باعزت زندگی گزارتے، نہ شہادت کا نقصان اسلام اور امت کو اٹھانا پڑنا۔ نہ امت میں تفریق ہوتی۔ اب آپ ہی انصاف سے بتائیں کہ اہلِ سنت خیر خواہ اہلِ بیتؓ اور دوست تھے یا وہ شیعہ جنہوں نے سیدنا حسینؓ کا خون پی کر بقول خمینی زندگی کا بیمہ کرا لیا اور اپنے بڑوں کے ظالمانہ فعل کے نتیجہ پر فخر کرتے پھرتے ہیں۔ 

ان وجوہ کی بناء پر شیعوں کو قتلِ حضرت حسینؓ کا طعنہ دینا بالکل فطری اور معقول ہے۔

سوال نمبر 825: دستور ہے۔ حمایت دوست کی کرتے ہیں اور نفرت و عداوت دشمن سے کرتے ہیں۔ شمر آپ کے راوی ہیں۔ یزید کا آپ دفاع کرتے ہیں کربلا کی لڑائی کو اجتہادی کہتے ہیں۔ جب کہ شیعہ ان دونوں کو مسلمان نہیں مانتے اور کربلا کی جنگ کو جہاد کہتے ہیں۔ فرمائیے قاتلوں سے محبت آپ کو ہے یا شیعوں کو؟

جواب: جب ہم بحوالہ شیعہ کتب قاتلانِ سیدنا حسینؓ شیعانِ کوفہ کو ثابت کر چکے ہیں تو شیعہ ان کے خلاف تو کچھ بھی نہ کہیں۔ صرف شمر و یزید کو قاتل بتائیں؟ حالانکہ تاریخ صراحت سے بتاتی ہے کہ یزید نے نہ قتل کا حکم دیا نہ خوش ہوا، نہ قاتلوں کو اچھا کہا، بلکہ ان پر پھٹکار کی۔ ابنِ زیاد کا عہدہ گھٹا دیا اور اصل قاتل کو مروا دیا۔ آخر دال میں کالا کالا کچھ ضرور ہے۔ ہم شمر بن ذوالجوشن کو، قاتل جان کر ہرگز اچھا نہیں کہتے، نہ یہ ہمارا راوی ہے۔ ہمارا راوی شمر بن عطیہ اسدی کاہلی کوفی ہے جو صدوق اور طبقہ سادسہ (دوسری صدی کے آغاز) کا ہے۔ (تقریب: صفحہ، 147) اب اگر آپ نے قاتل شمر کے راوی ہونے کا الزام دیا تو آپ یقیناً خائن ہوں گے۔ واقعی ہم شیعہ کے برعکس قاتلانِ حضرت حسینؓ کو برا کہتے اور غیر قاتلوں کا دفاع کرتے ہیں۔

سوال نمبر 826: گو کہ مذہب سنیہ میں عقیدہ امامت اصلِ دین نہیں ہے بلکہ یہ عبداللہ بن سبا یہودی نے وضع کیا تھا۔ لیکن مولوی عبدالشکور لکھنوی نے کہا ہے؟ کہ رسول اللہﷺ کے بعد خلفاء راشدینؓ کی بیعت کرنا اور ان کی امامت و خلافت کو تسلیم کرنا ضروری تھا۔ تضاد بیانی رفع کیجیے۔

جواب: شیعوں نے نبوت کے مقابل امامت کو اصولِ دین سے بنایا۔ یہی ابنِ سبا کی تعلیم تھی کہ بقول کشی صفحہ 70 و کثیر جماعت اہلِ علم سے پہلے اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وصی و امام ہونے کی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنِ حضرت علیؓ اور منافق و کافر ہونے کی بات چلائی، اہلِ سنت نبوت کی فرع اور اتباع میں حضور اکرمﷺ‏ کی جانشینی کو خلافت و امامت کہتے ہیں اور بعد از رسولﷺ‏ بیعت اس لیے ضروری تھی کہ آپﷺ‏ نے فرمایا۔ میرے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرو۔ (ترمذی) یہ بیعت کے بغیر ممکن نہ تھی۔ یہی بات مولانا عبدالشکورؒ نے بتائی تو ان کی بات میں تضاد نہیں۔ شیعہ عقیدہ امامت اور سنی خلافت میں زمین و آسمان کا فرق بدستور ہے۔

سوال نمبر 827: سنیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ بارہ اماموں کو شیعہ سے بھی زیادہ مانتے ہیں۔ لیکن مولوی عبدالشکورؒ کہتے ہیں کہ بالکل غلط ہرگز اہلِ سنت ان کو مثلِ رسولﷺ‏ اور معصوم اور مفترض الطاعۃ نہیں مانتے ہاں ان کو بزرگ و نیکوکار ضرور جانتے ہیں۔ ایسا ماننا شیعوں سے زیادہ کس طرح ہوا؟

جواب: کسی ہستی کو صحیح شریعیت کے مطابق ماننا ہی سب لوگوں سے اچھا ماننا ہے۔ جیسے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہود و نصارٰی سے بڑھ کر مانتے ہیں۔ شیعوں نے ان کا اصل منصبِ ہدایت و پیشوائیت تو خود چھین لیا کہ ان کو تمام اعمال و افعال میں تقیہ باز بتایا تاکہ ان کی پیروی کوئی نہ کر سکے اور خود مجتہد و راست گو کہلا کر، عوام شیعوں کے مقتداء اور مذہبی لیڈر بن بیٹھے اور اہلِ سنت 12 تو کجا 120 بزرگانِ اہلِ بیتؓ کی صحیح تابعداری کرتے ہیں۔ ان کے برخلاف اپنی بات نہیں چلاتے تو اہلِ سنت شیعوں سے زیادہ اہلِ بیتؓ کو مانتے ہیں۔

سوال نمبر 828: بقول عبدالشکورؒ اگر مرزا احمد علی نے یہ لکھا ہے؟ اگر یہی قرآن معجزہ ہے تو ایسا قرآن میں بھی بنا سکتا ہوں تو کتاب و صفحہ کا حوالہ دیں۔

جواب: ہمیں کتاب تو دستیاب نہیں مگر اس کے اعتراضات دس گنا پھیلا کر آپ نے ایک سو اعتراضات اسی فروعِ دین میں مظلوم قرآن پر کر ڈالے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ اگلے ایڈیشن میں قرآن سازی کا آپ بھی دعویٰ نہ کر دیں۔

سوال نمبر 829: امام مہدی کی غیبت پر آپ کو اعتراض ہے تو خدا غیب ہوتے ہوئے کیسے اپنی خدائی چلا رہا ہے؟

صفحہ 5 از 10