حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 10

سوال نمبر 816، 817: آپ الزام لگاتے ہیں کہ قاتلانِ سیدنا حسینؓ شیعہ تھے کیا وہ کلمہ علی ولی اللہ پڑھتے ہیں ہم تو شیعہ ایسے کلمے پڑھنے والے کو مانتے ہیں اگر نہیں پڑھتے تھے اور ان کا کلمہ آپ جیسا ہی تھا تو وہ شیعہ کیسے ہوئے؟

جواب: یہاں آپ دوہرا ظلم کر رہے ہیں ایک تو اپنے پہلوں کو شیعہ نہیں مانتے۔ دوسرے کلمہ کی تحریف اور کفر کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ اپنے دور کے شیعہ تھے کٹر شیعہ تھے ان کی اور اہلِ بیتؓ کی ان کے حق میں شیعہ ہونے کی شہادتیں تاریخ کا جزو ہے۔ جلاء العیون، منتہی الآمال، احتجاجِ طبرسی، تاریخ طراز مظفری، ناسح التواریخ، خلاصۃ المصائب، کشف الغمہ وغیرہ شیعہ تاریخوں میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حالاتِ شہادت، شیعوں کا خط لکھ کر بلانا، امام کا شیعوں پر اعتماد کر کے پہنچنا، بروقت ان کا غدر کرنا، امام کا ان کو بار بار حمایت پر ابھارنا، پھر بددعائیں دینا، ان کا اپنی شیعیت پر اصرار و اقرار کرنا اور دشمنوں پر پھٹکار کرنا اور پھر ماتم و بین کرنا کھلے کھلے حقائق ہیں۔ کوئی دیوانہ ہی انکار کرے گا۔ یہ نیا کلمہ اور اس کے غیر قائلین کو ایمان و اسلام سے محروم سمجھنا۔ جیسے قادیانیوں نے نیا نبی بنا کر سب مسلمانوں کو کافر مان لیا۔ آپ کا نیا کفر ہے۔ واقعی یہ کفر نہ پہلے شیعوں نے کیا، نہ اماموں نے اس کی کہیں تعلیم دی۔ کلمہ شہادتین کلمہ اسلام و اہلِ سنت ہی اس وقت کا متفقہ کلمہ تھا۔ 51 حوالہ جات تخفہ امامیہ آخری باب میں پڑھے اور کافی جلد 2 کا باب دعائم الاسلام بھی پڑھیں۔ اگر اس وقت کے شیعوں کو جو اپنے مخالفین سے لڑتے رہے۔ آپ کلمہ ولایت نہ جاننے، نہ پڑھنے کی وجہ سے کافر اور غیر شیعہ کہتے ہیں تو اتنا اقرار کھل کر کیجیے کہ اثناء عشری امامیہ شیعہ ایک جدید مذہب ہے جس کا عہدِ نبوت، عہدِ خلفاء راشدینؓ اور عہدغ ائمہ میں نہ کلمہ تھا نہ کوئی مذہبی تشخص اور نام و نشان تھا۔ یہ اقرار اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

سوال نمبر 818: شیعہ اصحابِ ثلاثہؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ وغیرہم کو گالیاں دیتے ہیں۔ (معاذ اللہ) بتائیے قاتلانِ سیدنا حسینؓ بھی ایسا عمل کرتے تھے؟ اگر کرتے تھے تو بلاشبہ شیعہ ہی ہوں گے۔

جواب: تبرّوں اور لعنتوں کے وِرد وظیفے پڑھنے کا رواج تو ان میں ابھی نہ پڑا تھا۔ ہاں بعض کو دشمنِ اہلِ بیتؓ کہتے اور لعنت کرتے تھے۔ (معاذ اللہ) چنانچہ شیعانِ کوفہ سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن نجیہ، رفاعہ بن شداد بجلی، حبیب بن مظاہر اور باقی تمام شیعوں مومنوں نے حضرت حسین بن علیؓ کو لکھا۔ آپ پر سلام ہو۔ ہم اللہ کا شکر کرتے ہیں کہ آپ کے معاند سرکش دشمن (حضرت امیرِ معاویہؓ) کو خدا نے ہلاک کر دیا جو امت کی رضا کے بغیر ان پر حاکم ہوا تھا۔ پس خدا اس پر لعنت کرے (نعوذ باللہ) جیسے قومِ ثمود پر لعنت کی۔ الخ (جلاء العیون: صفحہ، 280 منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ، 303 یہاں جب آپ نے اقرار کر لیا کہ یہ معاذ اللہ اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں۔ (بے ضمیر سنی بھی نوٹ کر لیں) تو سوال 667، 668 میں آپ نے انکار کیوں کیا؟

سوال نمبر 819: اگر بفرضِ محال مانا جائے کہ وہ لوگ شیعہ تھے۔ انہوں نے امام مظلوم کو شہید کیا تو اس کا سنی مذہب کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟

جواب: اہلِ سنت پر سے قتلِ حضرت حسینؓ کا شیعی ناپاک بہتان دور ہو جاتا ہے اور کوتوال کو ڈانٹنے والا چور خود گرفتار ہو جاتا ہے۔ یہ سب سے بڑا فائدہ ہے۔

*سوال نمبر 820:* جب شیعہ آپ کے بقول اپنے آباء و اجداد کے مظالم کی تشہیر کرتے، لعنتیں بھیجتے ہیں تو ان کو حق شناسی کی داد دینی چاہیے کہ اپنے بزرگوں کے افعالِ بد نشر کر کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔

*جواب:* واقعی قابلِ داد ہوتے اگر دیانت دار ہوتے۔ گول مول اور مبہم انداز میں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بیٹوں پر تعریض کرتے ہوئے بے شمار لعنتیں ضرور کرتے ہیں۔ مگر اصل قاتلوں جن کے نام تاریخ نے محفوظ رکھے ہیں مثلاً سابق خط کے ناموں کے علاوہ عبداللہ بن مسمع ہمدانی، عبداللہ بن دال، قیس بن مصہر، عبداللہ بن شداد، عمار بن عبداللہ، ہانی بن ہانی سبیعی، سعید بن عبداللہ حنفی، شیث بن ربعی، حجار بن البجر، یزید بن حارث، عروہ بن قیس، عمرو بن حجاج، محمد بن عمر، مختار بن عبید ثقفی، محمد بن اشعث بن قیس، عبداللہ بن حصین وغیرہم جو خط لکھ کر اور قاصد بن کر بلانے والے، میدانِ کربلا میں سامنے موجود اور لشکروں کی کمان کرنے والے تھے۔ اسی طرح بہت سے وہ شیعہ جو جرمِ قتل کے بعد پشیمان ہوئے اور توابین کہلائے۔ ان پر شیعہ کوئی لعنتیں نہیں کرتے بلکہ ان کو معذور سمجھ کر دعائے رحمت و مغفرت سے نوازتے ہیں کیونکہ قتلِ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسے جرم سے بھی شیعیت میں کچھ خلل نہیں آتا۔ اگر آتا تو ان قاتلوں کو اپنا دینی بھائی سمجھ کر دعاؤں سے کیوں نوازتے۔ توابین کی حمایت میں مضامین کیوں چھاپتے۔ کافی میں یہ دلچسپ لطیفہ لکھا ہے کہ ہارون رشید کو بڑا حب دار اہلِ بیتؓ اور شیعہ بتایا گیا۔ کسی نے پوچھا کہ وہ پھر اہلِ بیتؓ کو قتل کیوں کرتا تھا تو جواب دیا لان الملک عقیم بادشاہی بانجھ ہے اپنے پرائے کی تمیز نہیں کر سکتی۔

سوال نمبر 821: ہمارا اپنے ہی بزرگوں کو بدنام کرنا آپ کو کیوں ناگوار ہے؟ 

 جواب: ہرگز ناگوار نہیں صرف یہ گزارش ہے کہ دیانت داری سے یوں کہا کریں: 

اے اللہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر شہید کرنے والے شیعوں غداروں پر لعنت فرما جیسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کی تھی۔ اے اللہ ان کو قیامت تک رُلاتا رہ جیسے حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بددعا کی تھی۔ (جلاء العیون: صفحہ، 424)

سوال نمبر 822: کئی اصحابِؓ رسول کے آباء و اجداد کفار و مشرکین تھے۔ کیا پاکباز اصحابِؓ رسول اپنے آباء کے مذموم افعال کے ذمہ دار ہوں گے؟

جواب: نہیں ہوں گے۔ نصِ قطعی ہے وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ (کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔) شکر ہے اصحابِؓ رسول کو پاکباز کہہ دیا۔

صفحہ 4 از 10