حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 10

سوال نمبر 812: ملا علی قاریؒ کا عذر ہے کہ حضرت امیر رضی اللہ عنہ خود مجتہد تھے لہٰذا سیرتِ شیخینؓ سے انکار کیا۔ لیکن شرح وقایہ حاشیہ چلپی میں ہے کہ سیدنا علیؓ مجتہد نہ تھے۔ تضاد بیانی رفع کریں۔

جواب: ملا علی قاری رحمۃ اللہ کی بات درست ہے۔ مگر سیرتِ شیخینؓ سے انکار کا بہتان آپ نے ان پر باندھا ہے ہم طبری کے حوالے سے بتا چکے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیرتِ شیخین رضی اللہ عنہ سے انکار نہ کیا تھا۔ بلکہ حتیٰ الوسع اپنانے کا وعدہ کیا تھا اور نہج البلاغہ کے خطبات ان کی سیرت کی تصدیق کرتے ہیں حاشیہ کی بات معتبر نہیں۔

سوال نمبر 813: عبد الشکور لکھنوی کا قول ہے۔ ایک مسلمان سنی کا اپنے مذہب سے ہٹ جانا ان محالات میں سے ہے جن کا تصور بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔ (النجم) پھر عہدِ ابوبکرؓ میں ارتداد کیوں ہوا؟

جواب: یہ ہم نے پڑھا نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ لوگوں کی تعلی کے جواب میں ترکی بہ ترکی جواب دیا ہو۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ایک صحیح العقیدہ مسلمان جس کی خدا حفاظت کرے، مرتد نہیں ہو سکتا۔ عہدِ ابوبکرؓ میں مرتد اور منکرینِ زکوٰة وغیرہ، مہاجرین، انصار یا فتح مکہ والے پکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مسلمان نہ تھے۔ بلکہ بالعموم دور دراز کے دیہاتی لوگ جو اہلِ مکہ کا مسلمان ہونا سن کر مرعوب ہو گئے اور مسلمان بنے پھر مرتد ہو گئے تو یہ مسلمان پر ظلم نہیں ہوا۔ مجرموں پر ہوا جن کی اکثریت نے حضور اکرمﷺ‏ کو دیکھا بھی نہ تھا۔

سوال نمبر 814: اگر دین سے ہٹ کر مرتد ہوئے تو مولوی شکور جھوٹے ہوئے۔ اگر دین پر قائم رہے تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ظالم و کاذب مانیے؟ فیصلہ آپ پر ہے۔

جواب: نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین سے پھرے نہ مولانا عبدالشکور جھوٹے بنے۔ نہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ظالم ہوئے کہ منکرینِ زکوٰۃ، منافقین اور متنبی کے پیروکاروں سے، جو مرتد ہو گئے تھے لڑے اور ان کو پکا مسلمان کیا۔ ظالم و کاذب منکر و مرتد وہ رافضی ہے جو رسول اللہﷺ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بجز تین کے، مرتد کہتا ہے۔ پھر ان تینوں کو بھی جھوٹا کہتا ہے کہ انہوں نے امام حق سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت نہ کی بلکہ تقیہ سے خلفاءِ ثلاثہؓ کی کرتے رہے اور حق کسی ایک صحابی سے بھی عند الشیعہ ظاہر نہیں ہوا۔

سوال نمبر 815: مندرجہ ذیل حضرات سنی تھے، شیعہ ہو گئے۔ کیا مولوی شکور کا دعویٰ جھوٹا نہ ہو گیا؟ کیا کسی ایک کے متعلق ثابت ہو سکتا ہے کہ یہ آبائی طور پر شیعہ تھے؟ 

جواب: ہمیں ان کے مکمل حالات کی تحقیق نہیں، نہ ہمارے پاس وسائل ہیں۔ ورنہ یہ یقیناً ثابت کیا جا سکتا ہے کہ یہ صحیح العقیدہ سنی بھی نہ تھے۔ تفضیلی شیعہ بنے ہوئے تھے۔ نہ مذہب کا علم تھا، نہ تاریخ سے واقفیت تھی۔ شیعہ مکائد سے نابلد تھے۔ ہمیں اقرار ہے کہ عوام اہلِ سنت اب بھی، اپنے علماء کو اسی سادگی، کفایت شعاری اور افلاس و کسمپرسی میں دیکھنا اور رکھنا چاہتے ہیں جو پہلے بزرگوں کی ہوتی تھی تو دنیا پرست مولوی اس امتحان میں پاس نہیں ہوتے جب کہ ہمیں یہ بھی اقرار ہے کہ شیعہ، نئے مہمانوں کی ضیافت میں زن، زر، زمین اور شہرت و تعظیم کے اعتبار سے ایسی تنظیم رکھتے ہیں کہ بے شعور، سادہ دل، خوفِ خدا سے عاری اس جال میں پھنس جاتا ہے۔ اس حقیقی پسِ منظر میں مذہب اہلِ سنت چھوڑنا اور شیعہ کی دنیوی جنت اور عیش پرستی میں پہنچنا، کوئی کمال نہیں ہے اور نہ مذہب اہلِ سنت کے غلط اور شیعہ کے حق پر ہونے کی دلیل ہے۔جب کہ دورِ حاضر میں کتنے حقیقت پسند شیعوں نے مذہبِ محمدی اہلِ سنت کو قبول کیا۔ 

1: مولانا محسن رضا فاروقی فصیل آبادی: جو اپنے قریب المرگ باپ سے خلفاء ثلاثہؓ کی کرامت سن کر مسلمان ہوئے۔ اب جگہ جگہ ان کی تقریریں اور کیسٹیں سنی جاتی ہیں۔

2: ذاکر خاکی شاہ ملتانی: جو تنظیم اہلِ سنت کے سٹیج پر مسلمان ہوئے۔ اب نعتیں پڑھتے ہیں۔ ایک دفعہ راقم نے پوچھا: شیعہ سنی میں کیا فرق دیکھا؟ ہنس کر کہنے لگے وہاں دنیا تھی، یہاں دین ہے۔ وہ ہزاروں روپے دیتے تھے، تم بیسں روپے دے کر ٹرخاتے ہو۔

3: مولانا عابد حسین کوٹ سرور (حافظ آبادی): جو زبردست اہلِ سنت کے مبلغ بنے ہوئے ہیں۔ انہیں شیعہ والد نے جائیداد سے محروم کر دیا ہے۔ 

4: راقم الحروف کے شیعہ سے سو سوالات اور ہم سنی کیوں ہیں؟ پڑھنے سے کئی حضرات تائب ہوئے۔ بھکر کے ایک گریجویٹ نوجوان کی تصدیق مولانا حسین عارف شیعہ مجتہد آف اسلام آباد نے کی نہ کہ تمہاری اس کتاب نے ہمارا نقصان کیا۔ مجھ سے لے کر ہمارے خاص آدمی نے پڑھی اور وہ سنی ہو گیا۔

تاہم اہلِ سنت کی مثال سمندر کی سی ہے اس میں دریاؤں کا پانی پڑے یا بخارات بن کر اڑ جائے کمی بیشی کا پتہ نہیں چلتا اور مذہبِ شیعہ کی مثال جوہڑ اور چھپڑ کی سی ہے۔ کناروں سے اُبلتا ہے اور مینڈک ٹرا رہے ہیں۔

5: وكيلِ صحابہؓ سید عرفان حیدر عابدی سرگودهوی: سابق شیعہ مبلغ فاضل قم و جامع منتظر لاہور بھی تبرا بازی سے الرجک اور تائب ہو کر سنی ہو گئے۔ 22 رمضان 1404ھ راقم کو یہ تحریک لکھ کر دے گئے:

21 رمضان 1404ھ رات بارہ بجے مسجد جعفری موچی دروازہ میں مجھ کو کہا گیا کہ آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تبرّا کریں میرے دل نے قبول نہ کیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرّا کروں اس بناء پر میں نے مذہب اہلِ سنت قبول کیا ہے۔ پھر اس پتہ کا لیٹر پیڈ دیا۔ 

ختمِ نبوت اکیڈیمی لکڑ منڈی مسجد فاروق اعظمؓ سرگودھا

پھر ہم نے احباب کے ذریعے تین ہزار روپے اس کی امداد کرا دی۔

6: مولانا فيض على فیضی ساکن عبد الحکیم ملتان: جنہوں نے نقاب کشائی کے نام سے اپنے مسلمان ہونے کی روئیداد بتائی ہے اور مذہبِ شیعہ کے دشمنِ اسلام و قرآن ہونے پر زبردست دلائل دیتے ہیں۔

7: مولانا ثناء اللہ: جو پہلے شیعہ ذاکر تھے۔ اب لوہیاں والہ گوجرانوالہ میں خطیب اہلِ سنت دیوبندی ہیں۔ 

8: مولانا ارشاد حسین ولد فیض اللہ خان آف کر (تونسہ) 6 سال سے سنی دیوبندی ہوئے ہیں۔ والدین اور سارا خاندان شیعہ ہے۔ حق کے مبلغ ہیں۔

صفحہ 3 از 10