حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 10

جواب: جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ کون سی مسلم میں یہ لکھا ہے؟ مسلم بن حجاج القشیری النیسا پوری رحمۃ اللہ المتوفی 264ھ کی صحیح میں تو اس کا نام و نشان نہیں ہے۔ کلمات اذان بار بار وہی لکھے ہیں جو مسلمان کہتے ہیں۔ مثلاً 

1: حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان میں حی علی الصلوٰة، حی علی الفلاح دو دو مرتبہ کے بعد تکبیر و تہلیل ہے۔ (صفحہ، 165)

2: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اذان سننے والا حی علی الصلوٰة، حی علی الفلاح کا جواب لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہہ کر دے۔ پھر تکبیر و تہلیل کا انہی الفاظ سے جواب دے جس نے دل سے یہ لفظ کہے جنت میں داخل ہو گا۔ (مسلم: جلد، 1 صفحہ، 167) شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ نے بھی حی علی خیر العمل کا کہیں ذکر نہیں کیا۔

سوال نمبر 806: خود بخود ختم ہو گیا کہ یہ جملہ اذان میں کبھی کہا ہی نہیں گیا؟

سوال نمبر 807: نمازِ جنازہ میں چار سے زیادہ تکبیریں کہنے سے کس نے منع کیا؟

جواب: نمازِ جنازہ چار تکبیروں سے حضور اکرمﷺ‏ نے ہی چالو فرمائی۔

مسلم شریف کی روایات ملاحظہ فرمائیں:

1: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے ایک جنازہ پڑھایا تو چار تکبیریں کہیں۔

2: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اصحمہ نجاشی رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں۔ 

3: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ‏ نے چار تکبیروں سے جنازہ پڑھایا۔

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت میں 5 کا ذکر ہے۔ تو قاضی عیاض رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پہلے کبھی 4، 5، 6، 7، 8 تکبیریں کہہ دیتے تھے۔ جب نجاشی فوت ہو گیا تو 4 ہی پڑھیں اور تا وفات اسی پر جمے رہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اہلِ بدر پر 6 تکبیریں کہیں باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر 5 کہیں اور دوسروں پر 4 کہیں۔ ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد 4 پر ہی اجماع قائم ہے۔ تمام فقہاء شہروں کے اہلِ فتویٰ حضرات 4 تکبیروں پر ہی متفق ہوئے کیونکہ صحیح احادیث بکثرت آئی ہیں۔ اب ان کے علاوہ قول شاذ ہے۔ جس کی طرف توجہ نہ کی جائے گی۔ (مسلم: صفحہ، 309)

شیعہ چونکہ علیحدگی پسند اور فرقہ پرستی کے مریض ہیں۔ اس اتفاق کو نہیں چاہتے۔

سوال نمبر 808: نکاح سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کے وقت عمر 4، 5 سال بیان کی جاتی ہے اور یہ نکاح 17ھ میں ہوا جبکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات 11 ہجری میں ہو چکی تھی تو یہ حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کس کی بیٹی ہیں؟

جواب: سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ہی کے بطن سے ان کی 3ھ میں ولادت ہوئی۔ اگلے سوال میں شرع مواقف کی پیش کردہ روایت دلیل ہے اور آپ کی بوقتِ نکاح 4، 5 سال عمر کہنا جھوٹ ہے۔

سوال نمبر 809: حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا نے 11 ہجری میں ہبہ فدک کی گواہی دی (شرح مواقف: صفحہ، 735) اس لحاظ سے بوقتِ نکاح 17ھ میں آپؓ بالغہ ہوتی ہیں۔ جبکہ نکاح والی حضرت اُمِّ کلثومؓ نابالغ اور کمسن تھیں تو پھر کیسے مانا جائے کہ منکوحہ بنتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھیں؟

جواب: کس نے آپ کو جھوٹ بتایا کہ 17 ہجری میں نابالغہ تھیں آپ نے شرح مواقف کا حوالہ لکھ کر ہمیں نکاحِ سیدہ اُمِّ کلثومؓ با سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بحالت بلوغ کا فیصلہ لکھ دیا اور ہمیشہ کے لیے آپ کی زبان بند ہو گئی۔ اللہ جزائے خیر دے۔

سوال نمبر 810: حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ثانی عون بن جعفر سے کیا جاتا ہے حالانکہ وہ عہدِ عمرؓ میں تستر کی لڑائی میں شہید ہوئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بیوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نکاح کریں؟

جواب: ہم دعا کرتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے: ایک ہی نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا والا معاملہ ہے بروایت ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ یہ عون بن جعفر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لاولد فوت ہوئے۔ لیکن ابنِ عبدالبرؒ و ابنِ حجرؒ نے حضرت جعفر رحمۃ اللہ کے جن صاحبزادوں سے یکے بعد دیگرے حضرت اُمِّ کلثومؓ کا نکاح نقل کیا ہے وہ حضرت عوف، محمد اور عبداللہ ہیں۔ الاصابہ جلد، 4 باب النساء صفحہ، 469 حضرت اُمِّ کلثومؓ کے حالات میں ہے۔ پھر آپ سے سیدنا عوف بن جعفر بن ابی طالب نے شادی کی پھر اس کے بھائی محمد نے پھر اس کے بھائی عبداللہ نے۔ اسی کی زوجیت میں وفات پائی اور ان بھائیوں سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 40 ہزار درہم مہر دیا تھا اور سیدنا ابنِ عمرؓ نے حضرت اُمِّ کلثومؓ اور زید بن عمر رضی اللہ عنہ کا معاً 4 تکبیروں سے جنازہ پڑھایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ (اصابہ مع الاستیعاب: جلد، 4 صفحہ، 469)

شیعہ کی تنقیح المقال جلد 1 صفحہ 355 میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عون بن جعفر سے سیدہ زینب صغریٰ یعنی اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کبریٰ سے نکاح کیا۔ اس سے پتہ چلا کہ ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ کو عون کی وفات دورِ عمر رضی اللہ عنہ میں بتانے کی غلطی لگی اور پھر عوف سے بیوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح کا ذکر کیا حالانکہ عوف بن جعفر کا ذکر کتبِ اسماء الرجال میں نہیں ہے اور سنی شیعہ تمام مؤرخین نے حضرت اُمِ کلثومؓ کا نکاح حضرت عمرؓ سے پھر عون، محمد اور جعفر ابناء ابی طالب سے بالترتیب ذکر کیا ہے تو عون کو عوف کہنا ہی غلطی ہے۔

سوال نمبر 811: فتح الباری جلد 3 صفحہ 361 پر ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ کو ہاشم کا مکان، ماثور نامی تلوار، بکریاں اور اونٹ بھی ورثہ میں ملے۔ جب نبی وارث نہیں ہوتے تو حضورﷺ‏ نے یہ ورثہ کیوں قبول فرمایا؟

جواب: بفرض محال یہ بچپن کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپﷺ‏ پر بالفعل نبوت کے احکام جاری نا ہوئے۔ ورنہ بت پرستی کی مذمت اور تبلیغ کرتے اور مسلم و کافر کی تفریق اس وقت ہو جاتی۔ فتح الباری جلد 3 کا مقام ہٰذا آگے پیچھے چند صفحات سمیت غور سے دیکھا۔ ایسی کوئی روایت یہاں نہیں ہے۔ رافضی دروغ گو کو مبارک ہو۔

صفحہ 2 از 10