حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 10

سب لوگوں سے زیادہ قریبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان کے تابع دار ہی ہیں اور یہ پیغمبر اور اس کے مؤمنین (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) ہیں اور اللہ ہی مومنوں کا ولی (کارساز اور مشکل کشا) ہے۔ (سورۃ آل عمران: پارہ 3 رکوع 15)

قرآن میں جگہ جگہ آلِ فرعون کا لفظ اس کے پیروکاروں پر بولا گیا اور آلِ موسیث آلِ ہارون کا لفظ ان کی تابع دار پوری قوم بنی اسرائیل پر بولا گیا جو ان کی اولاد میں سے نہیں تو اس لحاظ سے پوری تابع دار امت آلِ محمدﷺ‏ ہے اور درود و سلام ان سب کو پہنچتا ہے۔

سوال نمبر 868، 869: آلِ رسولﷺ پر عبدالشکور لکھنویؒ کے ہاں درود ضروری نہیں ہے جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے نماز، قرأت، تشہد، بر آلِ رسولﷺ کے سوا نہیں ہوتی (عمل الیوم واللیلۃ) کس کی بات صحیح ہے؟

جواب: ہم ہم سنی کیوں ہیں؟ میں باحوالہ بتا چکے ہیں کہ نماز میں درود شریف سنتِ مؤکدہ ہے عمداً ترک گناہ ہے۔ مگر فرض و واجب نہیں ہے کہ کبھی چھوٹ جانے سے نماز نہ ہو اور خود شیعہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ (توضیح المسائل) سیدنا عمرؓ کی بات کمالِ نماز کے متعلق ہے مولانا عبدالشکور رحمۃاللہ کی بات ادائیگی نماز کی بابت ہے۔ تعارض نہیں ہے۔

سوال نمبر 869: بھی رفع ہو گیا کہ شعبی کا نماز دوہرانے کا فتویٰ بناء بر کمال ہے۔

سوال نمبر 870: کا جواب بھی ہو گیا کہ سیدنا حسنین رضی اللہ عنہ پر خونی رشتہ کی وجہ سے صدقات حرام ہیں۔



صفحہ 10 از 10