پروفیسر نے پاؤں پر مسح کا نظریہ رکھنے والوں میں حضرت انسؓ کا ذکر بھی کیا ہے۔ مگر ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت انسؓ کے نزدیک پاؤں کے مسح کا وہ مفہوم نہیں جو سر کے مسح کا ہے۔ اور سیدنا انسؓ سے پاؤں دھونے کی روایت بھی ہے۔ ایک روایت میں ہے:
فَإِذَا غَسَلتَ رِجلَيكَ انتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِن أَظفَارِ قَدَمَيكَ
(کنز العمال: جلد 9 صفحہ 176)
ترجمہ: جب تو پاؤں دھوئے گا تو تیرے پاؤں کے ناخنوں سے گناہ جھڑ جائیں گے۔ پھر پروفیسر لکھتے ہیں کہ حضرت انسؓ کا فتویٰ ہے: نَزَلَ القُرآنُ بِالمَسحِ (صفحہ61) قرآن تو پاؤں کے مسح کا حکم لے کر نازل ہوا ہے۔ پروفیسر پر افسوس ہے کہ انہیں بات مکمل نقل کرنی چاہیے تھی۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ نَزَلَ القُرآنُ بِالمَسحِ بلکہ ساتھ یہ بھی فرمایا: وَالسُّنَّةُ بِالغَسلِ
(الدر المنثور: جلد2 صفحہ262 تفسیر طبری: جلد6 صفحہ 128) اور سنت پاؤں دھونے کی ہے۔ یعنی قرآن کریم کے الفاظ میں تو پاؤں کا مسح ہے، مگر سنت میں اس کی تعبیر دھونے کے ساتھ ملتی ہے۔)