چوتھی روایت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

چوتھی روایت

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

پروفیسر  نے روایت چہارم کا عنوان قائم کر کے عبدِ خیرؒ کی سند سے حضرت علیؓ کے وضو والی روایت جو مسند احمد کے حوالے سے ہے، اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں:  

وَمَسَحَ عَلَىٰ ظَهرِ قَدَمَيهِ  

ترجمہ: اپنے پاؤں کے ظاہر پر مسح کیا (صفحہ 45)

پروفیسر کی دیانت پر حیرانگی ہے کہ اسی روایت میں هٰذَا وُضُوءُ مَن لَم يُحدِث  

(مسند احمد: جلد1 صفحہ161) 

کے الفاظ نقل کرنا انہوں نے مناسب نہیں سمجھا۔ یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اس شخص کا وضو ہے جو پہلے سے پاک ہو۔ جب پروفیسر نے بنیادی نقطے سے ہی آنکھیں بند کر لی ہیں تو روایت کے راویوں کی توثیق کا کیا فائدہ؟ اور پھر جس عبدِ خیرؒ کی توثیق انہوں نے نقل کی ہے، اسی عبدِ خیرؒ سے حضرت علیؓ کے وضو کے بارے میں وَغَسَلَ قَدَمَيهِ کے الفاظ موجود ہیں، جن کے حوالے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔