مناظر اہل سنت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

اہلِ بیتؓ کے موجود ہونے سے موجودہ قرآن کا غیر محرف ہونا شیعہ کے نزدیک کس طرح ثابت ہو جاتا ہے؟ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ شیعہ مذہب نے اہلِ بیتؓ اور قرآنِ مجید دونوں کو یک قلم دنیا سے نیست و نابود کر دینے کا اعتقاد گھڑا ہے سوائے بارہ اماموں کے تمام اہلِ بیتؓ کو قابلِ امامت نہیں سمجھا، اور گیارہ اماموں کا زمانہ گزرنے کے بعد بارہویں امام کو غار میں غائب کر کے اصل قرآن کو بھی اس کے ساتھ غائب کر دیا۔ تو آپ کے نزدیک اس وقت روئے زمین پر نہ امام ہے نہ قرآن جہاں امام ہے وہاں قرآن ہے جیسا کہ آپ کی تفسیر صافی کے صفحہ 15 پر بھی یہی مرقوم ہے۔

2: اگر تحریف کی روایات ضعیف ہیں تو آپ کے بزرگوں اور مشائخ کا اعتقادِ تحریفِ قرآن کے متعلق کیوں ہے؟ مولوی اسماعیل صاحب کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ مولوی عبد الستار کو مغالطہ ہے؟ کیا آپ کے مشائخ اور بزرگوں کو بھی مغالطہ ہے؟

اب میں مولوی اسمعیل صاحب سے پوچھتا ہوں: اگر روایاتِ تحریف کمزور ہیں اور تحریفِ قرآن کا اعتقاد غلط ہے، تو آپ کے یہ مشائخ محمد بن یعقوب کلینی اور علی بن ابراہیم قمی وغیرہ وغیرہ جو تحریفِ قرآن کا اعتقاد رکھتے تھے، وہ کافر تھے یا مومن؟ اگر آپ تحریفِ قرآن کا اعتقاد رکھنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں تو آپ اپنے مشائخ کے متعلق کفر کا فتویٰ لکھ دیجیے آپ کا ہمارا مناظرہ اسی پر ختم ہے۔

جب علامہ محمد عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ نے اس فتوے کا مطالبہ کیا تو شیعہ علماء جتنے موجود تھے سب کے چہرے فق ہو گئے اور مولوی امیر محمد صاحب صدرِ شیعہ نے اٹھ کر کہا کہ بس! اس موضوع پر کافی بحث ہو چکی ہے اس موضوع کو ختم کر دینا چاہیے۔

تو علامہ تونسوی نے کہا کہ آپ ان مشائخ کے متعلق کفر کا فتویٰ لکھ دیجیے، بس مناظرہ ختم ہے مگر علماءِ شیعہ نے لا جواب ہو کر انتہائی رسوائی برداشت کی اور علامہ تونسوی مدظلہ کے استدلال کا کوئی جواب نہ دے سکے نہ روایت کا کوئی جواب تھا، اور نہ اپنے علماء اور مشائخ کو کافر کہنے کی جرأت تھی، اور نہ اپنے ان مشائخ کا دامن تحریفِ قرآن کے عقیدے سے پاک و صاف کر سکے۔

علامہ تونسوی مدظلہ نے فرمایا کہ شیعہ کی معتبر کتاب فصل الخطاب صفحہ 67 میں ہے:  

كَانَ لِاَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قُرْآنا مَّخْصُوْصا جَمَعَهُ بِنَفْسِہٖ بَعْدَ وَفَاتِ رَسُوْلِ اللهِﷺ وَعَرَضَہٗ عَلَى الْقَوْمِ فَاَعْرَضُوا عَنْهُ فَججَبَہٗ عَنْ اَعْيُنِهِمْ وَكَانَ عِنْدَ وَلَدِہٖ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَتَوَارَثُہٗ اِمَامٌ عَنْ اِمَامٍ كَسَائِرِ خَصَائِصِ الْاِمَامَۃِ وَ خَزَائِنِ النُّبُوَّۃِ وَهُوَ عِنْدَ الْحُجَّۃِ عَجَّلَ اللهُ فَرَجَہٗ يُظْهِرُہٗ لِلنَّاسِ بَعْدَ ظُهُوْرِہٖ وَيَأْمُرُھُمْ بِقِرَاءَتِہٖ وَهُوَ مُخَالِفٌ لِھٰذَا الْقُرْآنِ الْمَوْجُوْدِ مِنْ حَيْثُ التَّأْلِيْفِ وَ تَرْتِيْبِ السُّوَرِ وَ الْاٰيَاتِ بَلِ الْكَلِمَاتِ اَيْضًا وَ مِنْ جِھَۃِ الزِّيَادَۃِ وَ النَّقِيْصَۃِ۔

ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰؓ کا ایک مخصوص قرآن تھا جس کو انہوں نے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد خود جمع کیا تھا اور وہ قرآن مخصوص لوگوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے منہ موڑ لیا پس انہوں نے اس قرآن کو ان کی آنکھوں سے چھپا لیا اور وہ آپ کی اولاد میں سے صرف اماموں کے پاس تھا جو ایک امام کے بعد دوسرا امام اس کو لے لیتا تھا، جس طرح کہ وہ دوسرے خصائصِ امامت اور خزائنِ نبوت لیتا تھا اور وہی مخصوص قرآن حجۃ اللہ امام مہدی کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جلدی غار سے باہر لائے۔ امام مہدی اس قرآن کو لوگوں کے لیے ظاہر کریں گے اور وہ اس موجودہ قرآن کے مخالف ہے: الفاظ کی ترتیب میں، اور سورتوں اور آیتوں کی ترتیب میں، بلکہ خود کلمات اور لفظوں میں بھی مخالف ہے، اور زیادتی اور کمی کے باعث بھی مخالف ہے۔

دیکھیے! یہ ہے آپ کے شیعہ مذہب کا اعتقاد جو آپ کی کتابوں میں صراحتاً درج ہے مجھے کیا مغالطہ ہے؟