مناظر اہل سنت و الجماعت علامہ تونسوی مدظلہ - سنی شیعہ…

مناظر اہل سنت و الجماعت علامہ تونسوی مدظلہ

  مولانا عبدالستار تونسوی

کتنے تعجب کی بات ہے کہ جس قرآن کے متعلق اللہ تعالیٰ: 

لَا رَيْبَ فِيْهِ الخ۔ (سورۃ البقرہ: آیت 2)

فرماتا ہے اور شیعی مناظر اسی کو پڑھتا بھی ہے، پھر ظلم یہ ہے کہ شیعہ مذہب اسی قرآن کو محرف اور غلط کہتا ہے اور کہتے ہیں کہ اس کے اندر کفر کے ستون ہیں اور اس میں رسول اللہﷺ کی ہتک ہے۔

اور مولوی صاحب کی یہ بات کتنی لغو اور غلط ہے کہ متواتر میں راویوں سے بحث نہیں کی جاتی۔ کافر، یہودیوں وغیرہ کی جب ایک بڑی جماعت کہہ دے تو اس میں شک نہیں ہوتا؟

تو مولوی صاحب کے اس اصول سے مولوی اسماعیل کا اعتقاد ہوگا کہ مکہ اور عرب اور دنیا کے کافروں کے بے شمار لوگوں نے رسول اللہﷺ اور قرآنِ مجید کو جھوٹا کہا ہے کیا یہ تواتر ان کے نزدیک معتبر ہے؟  

اسی طرح عیسائیوں کی بے شمار تعداد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا اور مانا ہے کیا ان کا یہ تواتر مولوی اسماعیل کے نزدیک معتبر ہے؟  

اور اسی طرح تمام یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ طاہرہ مریم کے متعلق طوفان باندھا کیا ان یہودیوں کا یہ تواتر ان کے نزدیک معتبر ہے؟  

اور کیا شیعہ عقائد کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت سے لے کر آج تک اہلِ سنت و الجماعت کے کروڑوں افراد کے نزدیک خلیفۃ الرسول سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافتِ برحق کا اعتقاد جو کہ تواتر سے چلا آ رہا ہے معتبر اور صحیح ہے؟

تو رسول اللہﷺ کے بعد جس طرح موجودہ قرآن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نقل کیا اور اس قرآن پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تواتر و اجماع ہے، اسی طرح خلافتِ صدیق پر بھی اجماع ہے۔ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع اور تواتر قرآن کے متعلق صحیح و معتبر ہے تو خلافتِ صدیق کے متعلق بھی صحیح اور معتبر ہے تو اب اگر قرآن کو تواتر و اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وجہ سے صحیح مانتے ہو تو خلافتِ صدیق کو بھی صحیح مان کر اختلاف اور جھگڑا ختم کر لو۔

باقی رہی یہ بات کہ مکہ اور مدینہ اور بغداد و کوفہ وغیرہ کی خبر عام لوگوں سے سن کر یقین کر لیا جاتا ہے اور راویوں سے بحث نہیں کی جاتی کیونکہ تواتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بے شمار راویوں کو جھوٹا اور غلط بیانی کرنے والا خیال نہیں کیا جاتا۔  

آج بھی اگر کسی شہر کے متعلق بہت سے لوگوں کی بے شمار جماعت خبر دے، مگر ان سب کو سننے والا جھوٹا تصور کرے، تو ایسے لوگوں کا تواتر ان کے نزدیک اس شہر کا وجود ثابت نہ کر سکے گا۔  

اسی طرح شیعہ کے نزدیک رسول اللہﷺ سے موجودہ قرآن کو لینے والی تمام کی تمام جماعت جھوٹی تھی تو ان کی یہ نقل شیعہ کے نزدیک قطعاً قابلِ اعتبار نہ ہوگی۔